Operation Bunyan Ul Marsoos
آپریشن بنیان المرصوص

بھارت نے پہلگام میں خون سے ایک جھوٹی کہانی لکھی، لیکن قلم تھا اس کا، سچ پاکستان کے پاس تھا اور سچ ہمیشہ آخرکار جیتتا ہے۔ پاکستانی قوم کی تاریخ میں ایک عجیب خصوصیت ہمیشہ موجود رہی ہے، خطرہ جتنا بڑا ہو، عوام اور فوج کے درمیان فاصلہ اتنا ہی کم ہو جاتا ہے۔
2005ء کے زلزلے میں بھی یہی فوج ملبے تلے دبے لوگوں کو نکال رہی تھی، 2010ء کے سیلاب میں بھی یہی جوان کشتیوں میں لوگوں کو بچا رہے تھے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی یہی سپاہی شہروں سے قبائلی علاقوں تک قربانیاں دے رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی سرحدوں پر کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستانی عوام اپنی فوج کو صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ اپنی ڈھال سمجھتے ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں بنیان المرصوص ایک ایسے لمحے کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب ایک دباؤ میں گھری قوم نے اپنے دفاع، اپنی خودمختاری اور اپنے قومی وقار کے تحفظ کا اعلان پوری شدت سے کیا۔ شاید اسی لیے قرآن کی اصطلاح "بنیان مرصوص" یعنی سیسہ پلائی دیوار اس معرکے کے لیے منتخب کی گئی۔ ایک ایسی دیوار جو صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایمان، اتحاد اور عزم سے بنتی ہے۔ بنیان المرصوص صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھی، یہ جنوبی ایشیا کے طاقت کے توازن پر لکھی گئی نئی سطروں کا عنوان تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف اسلحے سے نہیں جیتتیں، قومیں اپنے حوصلے سے زندہ رہتی ہیں۔ 1948ء میں کشمیر کے برفیلے محاذوں پر پاکستانی مجاہدین نے محدود وسائل کے باوجود ڈوگرہ فوج کا راستہ روکا۔ 1965ء میں چونڈہ کے میدان میں دنیا کی بڑی ٹینک جنگوں میں پاکستانی جوانوں نے دشمن کی پیش قدمی روک کر تاریخ رقم کی۔ میجر عزیز بھٹی شہید نے مسلسل پانچ دن دشمن کی گولیوں کے سامنے کھڑے رہ کر یہ ثابت کیا کہ جذبہ فولاد سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ پھر 1999ء میں کارگل کے سنگلاخ پہاڑوں پر پاکستانی جوانوں نے دنیا کو حیران کر دیا۔
افواجِ پاکستان کی بہادری کا سب سے اہم پہلو ان کی پیشہ ورانہ تیاری اور فوری ردعمل تھا۔ عسکری ماہرین ہمیشہ کہتے ہیں کہ جنگ میں پہلا گھنٹہ سب سے فیصلہ کن ہوتا ہے اور پاکستانی ردعمل نے یہی ثابت کیا کہ ملک کی دفاعی مشینری ہر لمحہ تیار تھی۔ دشمن کی برتری کے شور کے باوجود پاکستانی فضائیہ اور دفاعی نظام نے یہ پیغام دیا کہ جذبہ اور حکمتِ عملی ٹیکنالوجی کے فرق کو بھی کم کر سکتے ہیں۔۔
آپریشن بنیان المرصوص محض ایک عسکری کارروائی نہیں تھا، بلکہ یہ جدید دور کی اُس ہمہ جہت جنگ کا استعارہ بن کر ابھرا جس میں بارود سے زیادہ بیانیہ، ٹیکنالوجی، سفارت کاری اور قومی حوصلہ طاقت بن جاتے ہیں۔ 22 اپریل سے 10 مئی 2025 تک جاری کشیدگی نے ثابت کیا کہ آج کی جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں، بلکہ میڈیا اسکرینز، سائبر اسپیس، سیٹلائٹ نیٹ ورکس اور عالمی رائے عامہ کے میدانوں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔
پاکستان نے معرکہ حق کے عنوان سے نہ صرف عسکری ردعمل دیا بلکہ ایک نفسیاتی اور سفارتی پیغام بھی دنیا تک پہنچایا کہ وہ دفاعی طور پر متحرک، متحد اور مؤثر ریاست ہے۔ اس معرکے کی اصل کامیابی صرف جوابی کارروائی نہیں تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں صرف بارود سے نہیں جیتی جاتیں، قوموں کے اعصاب، قیادت کے فیصلے، میڈیا کی حکمتِ عملی اور عوام کے حوصلے بھی میدانِ جنگ کا حصہ ہوتے ہیں۔ بھارت نے ہمیشہ اپنی عسکری برتری، بڑے بجٹ اور جدید اسلحے کو نفسیاتی دباؤ کے طور پر استعمال کیا۔
دنیا کی بڑی افواج میں شمار ہونے والا بھارت یہ سمجھتا تھا کہ پاکستان معاشی دباؤ اور اندرونی سیاسی کشمکش کے باعث مؤثر جواب نہیں دے سکے گا، مگر بنیان المرصوص نے اس تاثر کو چیلنج کیا۔ پاکستانی بیانیے کے مطابق اس آپریشن نے نہ صرف فوری عسکری ردعمل دیا بلکہ عالمی سطح پر یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان دفاعی صلاحیت سے محروم ریاست نہیں۔ اس معرکے کا ایک اہم پہلو فضائی حکمتِ عملی تھی۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس معرکے میں پاکستان کی کامیابی کیا تھی؟
کامیابی صرف میزائل گرانے یا حملہ روکنے کا نام نہیں۔ اصل کامیابی یہ تھی کہ پاکستان نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ وہ دفاعی لحاظ سے غیر مستحکم ریاست نہیں۔ دوسری کامیابی قومی اتحاد تھا۔ سیاسی اختلافات کے باوجود عوام، میڈیا اور ریاستی ادارے ایک صف میں دکھائی دیے۔ تیسری کامیابی انفارمیشن وار تھی جہاں پاکستانی سوشل میڈیا صارفین اور ڈیجیٹل میڈیا نے بھارتی بیانیے کا بھرپور جواب دیا۔ بھارت کی سب سے بڑی شکست شاید عسکری سے زیادہ نفسیاتی تھی۔ دہائیوں سے علاقائی سپر پاور کا تاثر رکھنے والی ریاست کو پہلی بار شدید سفارتی دباؤ، بین الاقوامی توجہ اور داخلی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی میڈیا کا جنگی جنون بھی عالمی حلقوں میں تنقید کی زد میں آیا۔ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن پر نئی بحث شروع ہوئی۔
پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود یہ ثابت کیا کہ جنگ صرف معیشت کے حجم سے نہیں بلکہ حکمت، رفتار اور عزم سے بھی لڑی جاتی ہے۔ یہاں ایک اور حقیقت بھی سمجھنا ضروری ہے۔ جدید جنگوں میں مکمل فتح یا مکمل شکست کا تصور پرانا ہو چکا ہے۔ اس معرکے میں گولیاں کم اور اعصاب زیادہ استعمال ہوئے اور پاکستان نے اعصابی جنگ میں اپنی موجودگی منوا دی۔ بھارت نے طاقت کا شور مچایا، پاکستان نے جواب میں خاموش حکمتِ عملی کی گونج سنائی۔ جدید جنگوں میں فتح ٹینک نہیں، بیانیہ طے کرتا ہے اور اس بار بیانیے کی جنگ میں پاکستان نمایاں دکھائی دیا۔
"بنیان المرصوص"نے یہ ثابت کیا کہ کم وسائل رکھنے والی قوم بھی مضبوط ارادوں کے ساتھ بڑی طاقتوں کے انداز بدل سکتی ہے۔ یہ معرکہ توپوں سے کم اور ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور رفتار سے زیادہ جیتا گیا بنیان المرصوص دراصل ایک نفسیاتی دیوار تھی جس نے خوف کے بیانیے کو چیلنج کر دیا۔ اس کشیدگی نے دنیا کو یاد دلایا کہ ایٹمی خطے میں جنگ کی ایک چنگاری پورے خطے کی سیاست بدل سکتی ہے۔ پاکستان نے اس معرکے میں صرف جواب نہیں دیا، بلکہ اپنے مخالف کے اعتماد پر بھی سوال کھڑے کر دیے۔ یہ جنگ بارود سے زیادہ معلومات، رفتار اور تاثر کی جنگ تھی۔
قومیں اس وقت مضبوط بنتی ہیں جب اختلافات کے باوجود خطرے کے وقت ایک صف میں کھڑی ہو جائیں اور اس بحران میں یہی منظر دیکھنے کو مل رہا تھا۔ بنیان المرصوص کی رات صرف توپوں اور میزائلوں کی رات نہیں تھی، یہ اُس قوم کے حوصلے کی رات تھی جس نے تاریخ میں بارہا ثابت کیا کہ پاکستان کا دفاع صرف فوج نہیں بلکہ پوری قوم کرتی ہے۔ یہ منظر 1965ء کی اُس رات کی یاد دلا رہا تھا جب لاہور کی سڑکوں پر لوگ فوجیوں کو دودھ اور پانی پلا رہے تھے اور ریڈیو پاکستان پر نور جہاں کے ملی نغمے قوم کے اعصاب مضبوط کر رہے تھے۔
بھارت شاید اپنی تعداد، بجٹ اور جدید اسلحے پر اعتماد کرتا رہا، مگر تاریخ ہمیشہ یہ ثابت کرتی ہے کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں۔ ویتنام نے امریکہ کو، افغانستان نے سوویت یونین کو اور الجزائر نے فرانس کو یہی سبق دیا تھا کہ جذبہ، عوامی حمایت اور مزاحمت بڑی طاقتوں کے حساب بدل دیتی ہے۔ بنیان المرصوص نے بھی یہی پیغام دیا کہ پاکستان صرف جغرافیہ کا نام نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک جذبہ اور ایک اجتماعی مزاحمت کا استعارہ ہے۔ یہاں سپاہی مورچوں میں لڑتا ہے تو عوام دعاؤں، اتحاد اور حوصلے سے اُس کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔
10 مئی 2025ء انہی میں سے ایک ہے پاکستانی ڈرون نئی دہلی کے سر پر منڈلاتے رہے یہ حملہ نہیں تھا، یہ پیغام تھا کہ ہم چاہتے تو بہت کچھ کر سکتے تھے۔ جب قرآن کی آیت ایک آپریشن کا نام بن جائے، تو سمجھ لو یہ محض فوجی کارروائی نہیں یہ ایمان، حکمت اور غیرت کا سنگم ہے۔ پاکستان نے جب ضربِ کلیم لگائی تو دشمن کے ایئر بیس راکھ بنے، براہموس ڈپو دھواں ہوئے اور S-400 تاریخ کا حصہ بن گیا۔ بھارتی رافیل جیسے طیارے جب رزق خاک ہوئے تو دہلی کے حکومتی ایوانوں میں لرزہ طاری ہوگیا۔ پاکستان کے سائبر جنگجوؤں نے بھارت کے ڈیجیٹل قلعے میں بن بلائے قدم رکھا، 70 فیصد بجلی گل کی او ر بغیر کوئی نشان چھوڑے واپس آ گئے۔ جب دشمن نے سمجھا کہ ایک بکھری قوم پر حملہ کر رہا ہے، تو اسے معلوم ہوا کہ پاکستانی اختلاف میں بھی متحد ہیں خطرے میں تو وہ ایک جسم، ایک روح بن جاتے ہیں۔
معرکہ حق نے ثابت کیا کہ پاکستان کی طاقت صرف ایٹم بم نہیں اس کی طاقت اس کے جوان، اس کا ایمان اور قوم کی غیرت ہے۔ رات کی تاریکی میں میزائل داغنا بہادری نہیں، بزدلی ہے اور بزدل کبھی تاریخ نہیں بناتے، صرف اس میں دفن ہوتے ہیں۔ دشمن نے پاکستان کی کمزوری کو آزمایا اور طاقت سے ٹکرا گیا یہی معرکہ حق کا سبق ہے، یہی بنیان المرصوص کا پیغام ہے: ہم ٹوٹتے نہیں، سیسہ پلائی دیوار ہیں۔

