Iran America Tanaza Aur Pakistan Ki Mudabirana Safarat Kari
ایران امریکہ تنازع اور پاکستان کی مدبرانہ سفارت کاری

پاکستان اس وقت صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک سفارتی پُل بن چکا ہے۔ ایک ایسا پُل جس کے ایک کنارے پر ایران کھڑا ہے اور دوسرے کنارے پر امریکہ۔ دونوں کے درمیان بارود، پابندیاں، جنگی بحری بیڑے، ڈرون حملے اور ایٹمی خدشات موجود ہیں، جبکہ درمیان میں پاکستان خاموشی سے توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دنیا کی نظریں ان دنوں تہران پر جمی ہوئی ہیں جہاں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ دورہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ عالمی میڈیا اسے محض ایک عسکری یا سفارتی ملاقات نہیں بلکہ ایک "بیک چینل ڈپلومیسی" قرار دے رہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان کو یہ حساس کردار کیوں ملا؟ آئیے جانتے ہیں۔
اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اُن چند ممالک میں شامل ہے جو بیک وقت واشنگٹن، تہران، بیجنگ، ریاض اور دوحہ کے ساتھ رابطے رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکہ جانتا ہے کہ ایران تک صرف دھمکیوں کے ذریعے رسائی ممکن نہیں، جبکہ ایران بھی سمجھتا ہے کہ پاکستان خطے کا وہ واحد ایٹمی مسلم ملک ہے جو اس کی بات سن بھی سکتا ہے اور دنیا تک پہنچا بھی سکتا ہے۔
حالیہ بحران کی بنیاد اُس وقت پڑی جب فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے جوہری تنصیبات کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا۔ اس کے بعد خلیج میں امریکی بحری سرگرمیاں بڑھ گئیں جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب اپنی فوجی نقل و حرکت تیز کر دی۔ یہ وہی آبنائے ہرمز ہے جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اگر یہاں ایک گولی بھی چل جائے تو صرف خلیج نہیں، پوری دنیا کی معیشت لرز اٹھتی ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک کے لیے تو یہ صورتحال کسی معاشی زلزلے سے کم نہیں۔ تیل مہنگا ہوتا ہے، ڈالر اوپر جاتا ہے، بجلی مہنگی ہوتی ہے، فیکٹریاں بند ہوتی ہیں اور مہنگائی عوام کی زندگی کو نگلنا شروع کر دیتی ہے اور جب اکثریت کو زندگی کی معیاری بنیادی سہولیات کی کمی ہو تو صورتحال اور بھی گھمبیر ہو جاتی ہے۔ پاکستان نے شاید یہی خطرہ سب سے پہلے محسوس کیا۔ اسی لیے اسلام آباد نے خاموش سفارت کاری شروع کی۔ مارچ 2026 میں امریکہ نے ایران کے لیے ایک "15 نکاتی امن منصوبہ" پاکستان کے ذریعے تہران بھجوایا۔ بعدازاں پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر ایک "5 نکاتی فریم ورک" بھی تیار کیا جس میں جنگ بندی، بحری راستوں کی سیکیورٹی اور جوہری مذاکرات کی بحالی شامل تھی۔ پھر وہ لمحہ آیا جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔
اپریل 2026 میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات ہوئے۔ عالمی سفارتی حلقوں نے اسے، اسلام آباد ٹاک" کا نام دیا۔ امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے جبکہ ایرانی وفد میں عباس عراقچی سمیت اہم شخصیات شامل تھیں۔ پاکستان کی طرف سے وزیر اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مرکزی کردار میں نظر آئے۔ یہ مذاکرات اکیس گھنٹے تک جاری رہے۔ کمرے کے اندر سفارت کاری ہو رہی تھی جبکہ باہر دنیا کے دل جنگ کے خدشات کو لے کر دھک دھک کر رہے تھے۔ لیکن اختلافات بہت گہرے تھے۔ عشروں کی بد اعتمادی اور تناؤ اس کا باعث تھے۔
امریکہ چاہتا تھا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرے جبکہ ایران پابندیوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز پر امریکی بحری موجودگی اور ناکہ بندی بھی تہران کے لیے ناقابلِ قبول تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے۔ مگر اس کے باوجود ایک حقیقت واضح ہوگئی۔ پاکستان اب صرف ایک تماشائی نہیں رہا بلکہ خطے کی بڑی سفارتی بساط پر ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے اور پاکستان کی ہر چال نپی تلی تھی کیونکہ غلطی کی گنجائش ہی نہیں۔ اسی دوران پاکستان کے اندر بھی صورتحال دلچسپ رخ اختیار کرتی گئی۔ کراچی، لاہور، کوئٹہ اور اسلام آباد میں مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں نے ایران کے حق میں مظاہرے کیے۔ بعض مقامات پر امریکی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی ہوئی۔ حکومت ایک طرف عوامی جذبات کو سنبھال رہی تھی جبکہ دوسری طرف واشنگٹن اور خلیجی ممالک کو یہ یقین دلا رہی تھی کہ پاکستان کسی جنگی بلاک کا حصہ نہیں بنے گا۔
یہ وہ مقام ہے جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہوتا ہے۔ ایسی مدبرانہ قیادت جو سب کو ایک ساتھ لے کر چلنے کا عزم بھی رکھتی ہے اور یقین کامل بھی۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے تہران، واشنگٹن، دوحہ اور ریاض کے درمیان خاموش رابطوں کا ایک ایسا سلسلہ قائم کیا جو بظاہر نظر نہیں آتا مگر پسِ پردہ سفارت کاری کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی پاکستان کی کوششوں کو اہم قرار دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پوری صورتحال میں چین بھی خاموشی سے سرگرم ہے۔ بیجنگ جانتا ہے کہ اگر خلیج میں جنگ چھڑتی ہے تو اس کے توانائی منصوبے، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور سی پیک سب متاثر ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ چین پاکستان کی ثالثی کو سپورٹ کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ منظر نامہ ہمیں ماضی کی کئی کہانیاں یاد دلاتا ہے۔
1970 کی دہائی میں بھی پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان خفیہ سفارت کاری میں کردار ادا کیا تھا۔ ہنری کسنجر کے بیجنگ کے خفیہ دورے کی راہ اسلام آباد نے ہی ہموار کی تھی۔ آج ایک بار پھر پاکستان شاید اسی نوعیت کے ایک نئے سفارتی باب کے درمیان کھڑا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار معاملہ صرف سیاست نہیں، ایٹمی تناؤ اور عالمی معیشت کا بھی ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان مکمل جنگ چھڑتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان پر براہِ راست پڑ سکتے ہیں۔ خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں پاکستانی متاثر ہوں گے، ترسیلاتِ زر کم ہو سکتی ہیں، تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی اور خطے میں فرقہ وارانہ کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے۔ اسی لیے اسلام آباد کی ہر کوشش کا مرکز صرف ایک جملہ ہے: "جنگ اب نہیں"۔
شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس وقت خاموش ضرور ہے، مگر غیر فعال نہیں۔ تہران میں ہونے والی ملاقاتیں، واشنگٹن کے بیانات، دوحہ کی بند کمروں والی گفتگو اور بیجنگ کی خاموش دلچسپی، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ آنے والے دنوں میں پاکستان خطے کی سیاست میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ بعض اوقات جنگیں میدانوں میں نہیں بلکہ بند کمروں میں رُکتی ہیں اور اس وقت اُن کمروں میں پاکستان موجود ہے۔

