Iran: Aik Mukalma, Aik Tareekh, Aur Na Jhukne Wali Qaum
ایران: ایک مکالمہ، ایک تاریخ، اور نہ جھکنے والی قوم

"تم لوگ ڈرتے نہیں ہو؟" ایک غیر ملکی صحافی نے تہران کی ایک خاموش گلی میں بیٹھے ایک بوڑھے شخص سے یہ سوال کیا۔
وہ مسکرایا چائے کا کپ ہاتھ میں تھا، مگر آنکھوں میں صدیوں کی تاریخ۔ "بیٹا ہم نے صرف جنگیں نہیں دیکھیں ہم نے سلطنتیں بنتی اور بکھرتی دیکھی ہیں۔ سوال کرنے والا خاموش ہوگیا۔
"کبھی سائرس اعظم کا نام سنا ہے؟" اس نے پوچھا۔ پوچھنے والے نے سر ہلایا۔ بوڑھا جیسے تاریخ کے اوراق پلٹتے ہوئے بولا۔ 550 قبل مسیح ایک نوجوان اٹھتا ہے، چھوٹی سی طاقت کے ساتھ مگر خواب بہت بڑا۔ وہ میڈین سلطنت کو شکست دیتا ہے، پھر لیڈیا، پھر بابل وہ ذرا سا جھکا، جیسے کوئی راز بتا رہا ہو: اور جب وہ بابل میں داخل ہوتا ہے تو قتل عام نہیں کرتا بلکہ اعلان کرتا ہے کہ ہر قوم کو اپنی عبادت اور اپنے مذہب کی آزادی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اسے فاتح نہیں، محسن کہتے ہیں۔
پوچھنے والا چونک گیا۔ یہ جنگ سے زیادہ انسانیت کی کہانی تھی۔ پھر کون آیا؟ سوال کرنے والے نے پوچھا۔ بوڑھا مسکرایا: پھر دارا آیا اصل معمار۔ یہ بہت زور آور پہلوان تھا مگر اس نے سلطنت کو نظم دیا۔ ٹیکس کا نظام بنایا، صوبے بنائے اور ایک شاہراہ بنائی رائل روڈ جس پر پیغام دنوں میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچ جاتا تھا۔ پھر اس نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا: اور اس نے ایک نمایاں جملہ لکھوایا تھا:
"میں جھوٹ کو پسند نہیں کرتا" پوچھنے والے نے محسوس کیا، یہ صرف بادشاہ نہیں تھا ایک نظام تھا۔ پھر اچانک اس کے چہرے پر سنجیدگی آ گئی۔ پھر 330 قبل مسیح آیا سوال کرنے والا سمجھ گیا وہ کس کی بات کرے گا۔ سکندر اعظم۔ بوڑھا بولا ہاں وہ ہی۔
پھر اس کی آواز میں درد آ گیا اس نے ایران کے عظیم تہذیب یا فتہ شہر پرسی پولس کو جلا دیا وہ عظیم شہر جس میں ہماری تاریخ لکھی تھی آگ کے حوالے کر دیا گیا کتب خانے جلا دیے گئے۔ تمدن کے بام و در کو آگ لگا دی گئی وہ شہر جو کبھی دنیا کی تاریخ میں ضرب المٹل تھا عبرت کا نشان بنا کر ملیا میٹ کر دیا گیا مگر کچھ لمحے خاموشی رہی۔
"کیا ایران ختم ہوگیا تھا؟ سوال کرنے والے نے پوچھا۔ وہ فوراً بولا: "نہیں! یہی تو بات ہے ہم کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ہم بس بدل جاتے ہیں۔ پھر وہ ماضی سے حال کی طرف آیا: 636 عیسوی جنگِ قادسیہ ہوئی اس سے ساسانی سلطنت ختم ہوگئی مگر ہم نے اسلام قبول کیا اور اپنی پہچان بھی بچا لی"۔
پھر وہ ماضی سے حال کی طرف آیا۔ پھر صفوی آئے پھر 1953 میں محمد مصدق کو ہٹا دیا گیا اس وزیر اعظم کا گناہ یا جرم صرف یہ تھا کہ یہ اس چیز کا قائل تھا کہ ایران کے وسائل پر ایرانی قوم کا حق ہے مگر یہ بات امریکہ اور اس کی ساتھی قوتوں کو ہضم نہیں ہوئی ایک مکروہ سازش رچی گئی اور اس کو اقتدار کی راہداریوں سے گمنامی کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا مگر یہ جبر ایرانی قوم کے دل کا داغ بن گیا جو جابر کے سامنے دفاع کے لیے اپنے آپ کو منظم کرنے کی لگن جگا گیا پھر 1979 میں انقلاب آیا۔
ایک بوڑھے شخص نے عنان اپنے ہاتھ میں لی تاکہ ملک کو طاغوتی قوتوں کے مقابل برسر پیکا ر کیا جائے مگر جابران وقت کو یہ گوارہ نہ ہوا امریکہ تو دشمن تھا ہی مگر اسرائیل جو صفوی حکومت کا سب سے بڑا خیر خواہ مانا جاتا تھا وہ بھی دشمنی میں انتہا پر پہنچ گیا۔ صفوی حکومت کے عہد میں ملک کے اندر نہ شرم تھی نہ حیا تھی۔ شراب و کباب اور مکروحات میں مصروف کار رہنے والے کو حکومتی عمائدین بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور مذہب پر عمل پیرا ہونے والوں کو دقیانوسی متصور کیا جاتا تھا۔ ہر بات میں امریکی مرضی اور خواہش کو مقدم رکھا جاتا تھا۔
ایک وقت یہ تھا کہ ایران کی سر زمین پر قدم رکھنے والے ہر امریکی شہری کو سفیر کا درجہ دیا جاتا تھا۔ وہ رکا، پھر بولا: ور اسلامی انقلاب کے بعد پھر دشمن بدل گئے، امریکہ اور اسرائیل۔ پھر وہ بولا بیٹا ایران نے 8 سال عراق کے ساتھ جنگ لڑی۔ لاکھوں ایرانی راہوں میں مارے گئے۔ مگر ایران نے پھر کروٹ لی پھر انگڑائی لے کر بیدار ہوا اور اپنے نصب العین کو نہ بھولا اور نہ اپنے وقار کو مٹی میں ملنے دیا۔ پھر یہ ہوا کہ امریکی سامراج نے ایران پر پابندیاں لگا دیں۔ ایران کے اندر کسی غیر ملکی بینک کو آپریشن چلانے کی اجازت نہ دی گئی۔ تجارت پر بے جا پابندیاں لگا دی گئیں۔ ایران کی کرنسی پر دباؤ بڑھایا گیا۔ ایران کے اثاثہ جات کو منجمد کر دیا گیا۔ ڈالر میں لین دین کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ ہر طرح کا جبر روا رکھا گیا مگر یہ قوم اپنی جری فطرت کی وجہ سے نہ صرف اس سب سے باہر نکلی بلکہ ملکی نظام کو احسن انداز سے چلایا۔
ملک کے اندر شاہراؤں کا جال بچھایا گیا۔ مغربی ممالک سے اچھی ٹرین اور میٹرو کا نظام رائج کیا گیا۔ ایرانی مصنوعات کے معیار پر سمجھوتہ نہ کیا گیا۔ اسلامی حکمرانوں نے نہ قوم کا مورال گرنے دیا اور نہ کاسہ فقیری ہاتھ میں لینے دیا۔ پہلے جرنل قاسم سلیمانی کو شہید کیا گیا پھر اسرائیل نے غاصبانہ جبگ چھیڑ دی اور اب امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر حملہ کرکے پہلے امام خامنائی اور ان کے خاندان کو شہید کر دیا اور اسی طرح وحشت و بربریت کے کھیل کو جاری رکھتے ہوئے معصوم بچیوں کے سکول پر حملہ کرکے لاشوں کے ڈھیر لگا دیے۔
پورے ملک پر وحشیانہ بمباری کی گئی ایران کی صف اول کی لیڈر شپ کو شہید کیا گیا مگر ایران سنبھلا اور پلٹ کر وار کیے اسرائیل میں کشتوں کے پشتے لگا دیے ایسی میزائل ٹیکنالوجی استعمال کی کہ الامان الحٖفیظ۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا سی این این کی ایک رپورٹ میں جو دکھائی گئی حقائق چشم کشاء ہیں امریکی بحری بیڑے دم دبا کر بھاگ گئے۔ دفاعی نظام جن پر امریکہ اور اسرائیل نازاں تھے خس و خاشاک ہوئے۔ دنیا کے مہنگے رڈار سسٹم ماضی کا قصہ بن گئے امریکہ کے غبارے سے ایسی ہوا نکالی کہ مدد مانگنے پر بھی کوئی یورپی ملک سامنے نہ ایا خصوصا آبناے ہرمز کے معاملے میں اب اسرائیل اپنے زخم چاٹ رہا ہے اور امریکہ میں دم خم نہیں رہا۔
پاکستان کی جری اور بہادر افواج نے نہ صرف اپنی سرحدوں کی حفاظت یقینی بنائی بلکہ آگے بڑھ کر حکومت کے ساتھ قدم ملاتے ہوے سفارتی محاز کو سنبھالا اور جنگ بندی کروائی تاکہ خطے کے امن و سکون کو یقینی بنایا جا سکے۔ اب اسرائیل کی بھی کھلے برتن میں منہ ڈالنے کی ہمت نہیں مگر وہ اپنی فطری کمینگی کی وجہ سے کبھی لبنان پر حملہ کرتا ہے اور کبھی نہتے فلسطینیوں پر قتل و غارت کا بازار گرم کرتا ہے مگر ایران نہ صرف اپنی بات کرتا ہے بلکہ لبنان اور غزہ کے معصوموں کے حقو ق کی پاسداری کرتا ہے تاکہ امہ کو تنہائی کا احساس نہ ہو۔ آج کی جنگ؟ وہ آسمان کی طرف دیکھ کر بولا: آج وہی پرانی کہانی ہے صرف کردار بدل گئے ہیں۔ پہلے سکندر یونانی تھا، آج طاقتیں اور ہیں مگر ایران وہی ہے۔ صحافی نے آخری سوال کیا کیا تم جیت جاؤ گے؟ وہ مسکرایا۔
یہ مسکراہٹ عجیب تھی، جیسے تاریخ خود بول رہی ہو۔ "بیٹا ہم جیتنے کے لیے نہیں لڑتے ہم ختم نہ ہونے کے لیے لڑتے ہیں"۔
صحافی واپس آ گیا مگر اس بوڑھے ایرانی کے الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔
ایران کی تاریخ ایک سیدھی لکیر نہیں ایک دائرہ ہے۔ ہر بار تباہی کے بعد ایران کا دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا شاید اسی لیے جب دنیا ایران کو دیکھتی ہے وہ ایک ایسی کہانی دیکھتی ہے جو ہر بار جل کر بھی زندہ رہتی ہے۔ دنیا ایران کو ایک ملک نہیں دیکھتی وہ ایک ایسی تہذیب کو دیکھتی ہے جس کا ارتقائی سفر ہزاروں سال پر محیط ہے پرسیا سے فارس اور فارس سے ایران بننے کے سفر میں ہزاروں مرتبہ عروج و زوال دیکھے گئے مگر یہ قوم ہر دفعہ ایک نیے عزم ہو ہمت اور جذبے سے سر شار ہوکر آگے عازم سفر ہوتی ہے۔ میرا کالم ختم ہوگیا مگر ایران کی جدو جہد کی کہانی ابھی جاری ہے۔

