Thursday, 30 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shams Muneer Gondal
  4. Ana Ki Siasat, Tail Ki Nabz Aur Jang Ke Posheeda Muharikat

Ana Ki Siasat, Tail Ki Nabz Aur Jang Ke Posheeda Muharikat

انا کی سیاست، تیل کی نبض اور جنگ کے پوشیدہ محرکات

طاقت جب غرور میں ڈھلتی ہے تو فیصلے دلیل سے نہیں، ضد سے جنم لیتے ہیں اور یہی ضد آج ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک خطرناک توازن پیدا کر رہی ہے۔ یہ محض جنگ نہیں، مفادات، خوف اور حکمتِ عملی کا ایسا جال ہے جس میں پوری دنیا الجھ چکی ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اب محض دو ریاستوں کی سفارتی کھینچا تانی نہیں رہی۔ واشنگٹن کے رویے کو بعض حلقے ایک کھلی جنگی تیاری کے بجائے "کنٹرولڈ پریشر اسٹریٹجی" کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس میں فوری تصادم کے بجائے وقت کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے حالات کو اس سمت دھکیلا جا رہا ہے جہاں مطلوبہ سیاسی نتیجہ خود بخود تشکیل پاتا نظر آئے۔

اسی سوچ کے تناظر میں کچھ مبصرین یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ جیسے ماضی میں وینزویلا جیسے ممالک کے خلاف اقتصادی دباؤ، پابندیوں اور سیاسی تنہائی کے ذریعے نظام کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی، ویسے ہی ایران کے معاملے میں بھی براہِ راست جنگ کے بجائے دباؤ، تنہائی اور طویل عدم استحکام کی حکمت عملی کے آثار دکھائی دیتے ہیں، اگرچہ ایران کی ریاستی طاقت اور علاقائی اثر اسے کسی سادہ ماڈل میں قید نہیں ہونے دیتا۔

امریکی مڈٹرم انتخابات اس پورے منظرنامے میں ایک اضافی سیاسی تہہ چڑھا دیتے ہیں، جہاں خارجہ پالیسی اب صرف خارجہ نہیں رہی بلکہ اندرونی سیاسی بقا، عوامی رائے اور طاقت کے توازن کا حصہ بن چکی ہے یوں جنگ بعض اوقات مجبوری نہیں بلکہ حساب شدہ حکمتِ عملی بھی بن جاتی ہے۔ جہاں عالمی فیصلے کبھی کبھار مقامی ووٹ بینک کی ضرورتوں کے تابع ہو جاتے ہیں۔

طاقت کا مظاہرہ، سخت بیانیہ اور عالمی محاذ پر سرگرمی یہ سب داخلی سیاست کو مضبوط کرنے کے اوزار بھی بن جاتے ہیں۔ کیونکہ مضبوط لیڈر کا تاثر قائم رکھنا بھی ایک سیاسی ضرورت بن جاتا ہے۔

ادھر اسرائیل میں بدعنوانی کے مقدمات یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ داخلی سیاسی دباؤ بعض اوقات خارجہ پالیسی کو مزید جارحانہ بنا دیتا ہے۔ امریکہ دباؤ کو پالیسی سمجھتا ہے، ایران مزاحمت کو اپنی بقا اور اسرائیل اس پورے منظرنامے کو اپنی سلامتی کے تناظر میں دیکھتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

اسرائیل کے لیے ایران صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک خطرہ ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام وہ بنیادی وجہ ہے جس نے اس کشمکش کو مسلسل زندہ رکھا ہوا ہے۔ اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ اگر ایران ایٹمی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے تو خطے میں طاقت کا توازن مکمل طور پر بدل جائے گا۔

اسی لیے اسرائیل کی حکمتِ عملی صرف دفاع تک محدود نہیں، نہ صرف جوہری تنصیبات بلکہ فوجی ڈھانچے اور سائنسی نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنایا گیا تاکہ خطرہ پہلے ہی ختم کر دیا جائے۔

دوسری بڑی وجہ ایران کا علاقائی اثر و رسوخ ہے۔ حماس، حزب اللہ اور دیگر گروہوں کی حمایت نے اسرائیل کے گرد ایک ایسا دائرہ بنا دیا ہے جسے وہ "سیکیورٹی سرکل" کے بجائے "خطرے کا گھیراؤ" سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے لیے یہ جنگ صرف ایران کے خلاف نہیں بلکہ اس پورے نیٹ ورک کے خلاف ہے جسے وہ اپنی سرحدوں کے لیے مستقل خطرہ تصور کرتا ہے۔

حالیہ برسوں میں ایران کے بعض اتحادی کمزور ہوئے اور اس کی دفاعی کمزوریاں بھی سامنے آئیں۔ جسے اسرائیلی قیادت نے ایک ایسا لمحہ سمجھا جہاں وہ ایران کی صلاحیتوں کو مستقل نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسی دوران مغربی دنیا میں کارپوریٹ مفادات، دفاعی صنعت اور لابنگ کے گرد گھومتی بحث یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا جنگیں صرف سیکیورٹی کے لیے لڑی جاتی ہیں یا کہیں نہ کہیں معاشی مفادات بھی اس کھیل کا حصہ ہوتے ہیں۔

ایران اور امریکہ کے جاری تناؤ کے درمیان آبنائے ہرمز ایک ایسے مرکزی نکتے کی حیثیت اختیار کر چکی ہے جو عالمی سیاست کی دھڑکن کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ تنگ سمندری راستہ، جسے دنیا کی سب سے حساس توانائی گزرگاہ قرار دیا جاتا ہے، خاموشی سے عالمی تیل کی منڈیوں کی سمت متعین کرتا ہے۔ کسی بھی ممکنہ کشیدگی یا امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی کی حکمت عملی اس خطے کو براہِ راست عالمی بحران کے دہانے پر لا کھڑا کر سکتی ہے، کیونکہ یہاں کی ایک معمولی رکاوٹ بھی توانائی کی ترسیل کو جھٹکے میں مبتلا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ایران اپنی اس اسٹریٹجک پوزیشن کو ایک خاموش مگر مؤثر دباؤ کے طور پر استعمال کرتا ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی بندش یا عسکری محاذ آرائی نہ صرف خطے بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے خطرناک زلزلہ ثابت ہو سکتی ہے ایسے پیچیدہ ماحول میں پاکستان کا کردار ایک ممکنہ ثالث کے طور پر سامنے آتا ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ سرحدی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات ہیں، جبکہ امریکہ کے ساتھ دفاعی اور سفارتی روابط بھی موجود ہیں۔ یہی توازن اسے ایک ایسا پل بنا سکتا ہے جو کشیدگی کو مکالمے میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

مگر شرط وہی ہے، اندرونی استحکام، متوازن سفارت کاری اور غیر جانبدارانہ حکمتِ عملی۔

آخر میں حقیقت بہت واضح ہے: یہ جنگ صرف میزائلوں اور پابندیوں کی نہیں بلکہ خوف، مفاد اور طاقت کے توازن کی جنگ ہے اور سب سے تلخ سچ یہ ہے فیصلے ایوانوں میں ہوتے ہیں مگر ان کے اثرات بازاروں، گھروں اور عام انسان کی زندگی پر ہوتے ہیں۔

Check Also

Pakistan Mein Khwateen Ke Haqooq: Haqeeqat Ya Khwab?

By Ahmar Aliza