Loton Ka Mausam
لوٹوں کا موسم

گلگت بلتستان کی سیاست میں اس وقت بہار نہیں لوٹوں کا موسم چل رہا ہے یہ وہ موسم ہوتا ہے جب نظریات درختوں سے سوکھے پتوں کی طرح جھڑنے لگتے ہیں وفاداریاں بولی پر لگتی ہیں اور ضمیر کسی پوش مارکیٹ کے شو روم میں سجا ہوا ایسا فرنیچر بن جاتا ہے جس پر سیل کا بورڈ آویزاں ہو فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں خریدار بھی جانتا ہے مال کھوٹا ہے اور فروخت کرنے والا بھی جانتا ہے کہ خریدار وقتی ہے مگر دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔
سیاست کبھی خدمت کا نام ہوا کرتی تھی لوگ جیلیں کاٹتے تھے کوڑے کھاتے تھے جلاوطنی برداشت کرتے تھے نظریات انسان کے قد سے بڑے ہوتے تھے اب سیاست ایک ایسی نجی لمیٹڈ کمپنی بن چکی ہے جہاں ٹکٹ سرمایہ کاری ہے وفاداری کرایہ ہے اور عوام صرف وہ ہجوم ہیں جنہیں ہر پانچ سال بعد جذباتی نعروں کی لالی پاپ دے کر دوبارہ لائن میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔
گلگت بلتستان میں آج جس طرف نگاہ دوڑائیں وہاں ایک "لوٹا" پوری آب و تاب کے ساتھ گھومتا نظر آتا ہے کل تک جو شخص ایک جماعت کو چور، ڈاکو، عوام دشمن اور قومی مجرم قرار دیتا تھا آج وہی اسی جماعت کے جھنڈے تلے ایسے کھڑا ہوتا ہے جیسے پیدائشی وفادار ہو اور کمال یہ ہے کہ اس کے چہرے پر شرمندگی نام کی چیز بھی نہیں ہوتی شاید شرم بھی اب سیاسی لغت سے نکال دی گئی ہے یہ لوگ نمائندے نہیں ہوتے یہ مفاد کے سودا گری ہوتے ہیں لوٹا کبھی نظریہ نہیں رکھتا صرف استعمال ہوتا ہے جس ہاتھ میں طاقت ہو۔
لوٹا اسی طرف لڑھک جاتا ہے کبھی اقتدار کے نلکے سے چمٹ جاتا ہے کبھی وزارت کے صابن سے خود کو دھوتا ہے اور کبھی ترقیاتی فنڈز کے پانی سے اپنی قسمت چمکاتا ہے یہاں المیہ صرف لوٹوں کا نہیں۔ عوام کا بھی ہے لوگ سب کچھ جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کون کس قیمت پر بکا کس نے کس کے قدموں میں وفاداری رکھی کس نے راتوں رات سیاسی قبلہ تبدیل کیا مگر پھر بھی انہی چہروں کے پیچھے جلوس بنتے ہیں یہی وہ مقام ہے جہاں دل مجبور ہو کر لکھتا ہے کہ شاید ہمارے ہاں سیاستدانوں سے زیادہ عوام سادہ ہیں یا شاید محرومیوں نے انہیں اس حد تک بے حس کر دیا ہے کہ اب انہیں دھوکہ بھی معمول لگنے لگا ہے۔
ہمارے خطے میں سیاست نظریات کی نہیں مفادات کی لونڈی بن چکی ہے یہاں وفاداری کی عمر اقتدار کے دورانیے سے زیادہ نہیں ہوتی اقتدار بدلے تو ایمان بھی بدل جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر انتخاب سے پہلے سیاسی وفاداریوں کا بازار لگتا ہے کچھ لوگ وزارت کے لیے بکتے ہیں کچھ ٹھیکوں کے لیے کچھ مقدمات ختم کروانے کے لیے اور کچھ صرف اس لیے کہ انہیں اگلے پانچ سال مزید اہم شخصیت بنے رہنا ہے۔
عوام کے دکھ نوجوانوں کی بے روزگاری، ٹوٹے ہوئے اسپتال، خستہ سڑکیں، تعلیمی زوال، مہنگائی، وسائل کی لوٹ مار یہ سب صرف انتخابی تقریروں کے موضوعات ہیں اقتدار میں پہنچتے ہی یہ مسائل فائلوں کے قبرستان میں دفن ہو جاتے ہیں پھر وہی لوٹے نئی گاڑیوں نئے پروٹوکول اور نئے بنگلوں میں نمودار ہوتے ہیں جبکہ عوام اگلے الیکشن تک پھر کسی نئے نعرے کے انتظار میں زندہ رہتے ہیں سچ تو یہ ہے کہ لوٹے کبھی قوموں کی تقدیر نہیں بدلتے وہ صرف اپنی قسمت بدلتے ہیں قومیں نظریات سے بنتی ہیں، سودوں سے نہیں اور جن معاشروں میں ضمیر کی قیمت مقرر ہو جائے وہاں انقلاب نہیں۔ صرف حکومتیں بدلتی ہیں چہرے بدلتے ہیں۔
گلگت بلتستان کی سیاست اس وقت ایک ایسے تھیٹر میں بدل چکی ہے جہاں کردار بدلتے رہتے ہیں مگر اسکرپٹ وہی رہتا ہے عوام ہر بار نئے چہروں کو نجات دہندہ سمجھ کر تالیاں بجاتے ہیں اور چند ماہ بعد پھر انہی چہروں کے ہاتھوں اپنی امیدوں کا جنازہ اٹھاتے ہیں۔
مگر شاید ابھی بھی وقت ہے اگر عوام نے چہروں کے بجائے کردار کو پہچاننا سیکھ لیا اگر ووٹ کو برادری، دولت اور وقتی مفاد سے نکال کر شعور کے ترازو میں رکھ دیا تو ممکن ہے اس دھرتی پر کبھی موسمِ بہار بھی آئے ورنہ موسمِ لوٹوں کا یونہی چلتا رہے گا اور ہر پانچ سال بعد کوئی نیا لوٹا نئے رنگ کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔

