Tuesday, 14 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Khamosh Zameeron Ka Noha

Khamosh Zameeron Ka Noha

خاموش ضمیروں کا نوحہ

اے زمانے کی مصلحتوں کے شکار لوگو۔ اے دیکھتی آنکھوں۔ خاموش زبانوں اور زندہ جسموں میں دفن ضمیروں کے مالک لوگو! تمہارا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ تم سچ سے ناواقف ہو، بلکہ یہ ہے کہ تم سچ کو پہچانتے ہو، اس کی صداقت پر یقین بھی رکھتے ہو مگر اس کے ساتھ کھڑے ہونے کی قیمت ادا کرنے سے ڈرتے ہو تمہارا خوف تمہاری زنجیر بن چکا ہے اور تم نے اسی زنجیر کو عقل تدبر اور مصلحت کا نام دے دیا ہے تمہارا شعور زندہ ہے مگر تمہاری جرأت مر چکی ہے۔

تمہاری غیرت سو چکی ہے تمہارا ضمیر مصلحت کی قبر میں دفن ہو چکا ہے تمہاری زبان سلامت ہے لیکن اس پر خاموشی کے ایسے تالے لگ چکے ہیں جن کی چابی تم نے خود ظالموں کے حوالے کر دی ہے تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ خاموش رہنے سے تم محفوظ رہو گے حالانکہ تاریخ کا سب سے بڑا دھوکہ یہی ہے ظلم کبھی خاموش رہنے والوں کو معاف نہیں کرتا وہ صرف ان کی باری آنے کا انتظار کرتا ہے۔

دنیا میں کسی ظالم نے صرف اپنی طاقت کے بل پر حکومت نہیں کی ہر ظالم کے پیچھے بے شمار خاموش لوگ کھڑے ہوتے ہیں ظلم کی سلطنتیں تلواروں سے کم اور خاموش ضمیروں سے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں جب اہلِ شعور اپنی زبانیں بند کر لیتے ہیں تو باطل کو دلیلیں گھڑنے کی ضرورت نہیں رہتی پھر جھوٹ قانون بن جاتا ہے فریب سیاست بن جاتا ہے انصاف تجارت بن جاتا ہے اور ضمیر بازار کی سب سے ارزاں جنس۔

آج اگر تم اپنے گرد و پیش پر نظر ڈالو تو تمہیں اس حقیقت کا عکس صاف دکھائی دے گا ہم نے ظلم کو معمول ناانصافی کو قسمت کرپشن کو نظام، جھوٹ کو حکمتِ عملی اور خاموشی کو شرافت کا نام دے دیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ہر روز حق کا جنازہ اٹھاتے ہیں اور پھر اگلے دن اپنی روزمرہ زندگی میں ایسے لوٹ جاتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ہم دوسروں سے سوال پوچھتے ہیں، مگر کبھی اپنے آپ سے نہیں پوچھتے کہ جب حق کا گلا گھونٹا جا رہا تھا اس وقت ہماری زبان کہاں تھی؟

جب کسی بے گناہ کی آواز دبائی جا رہی تھی ہماری غیرت کہاں سو رہی تھی؟ جب جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کیا جا رہا تھا ہماری عقل کس مصلحت کی پناہ میں چھپی ہوئی تھی کوفہ صرف ایک شہر نہیں ایک ذہنیت کا نام ہے کوفہ وہاں جنم لیتا ہے جہاں لوگ حق کو پہچانتے ہوئے بھی خاموش رہتے ہیں۔ کوفہ وہاں آباد ہوتا ہے جہاں لوگ ظلم سے نفرت تو کرتے ہیں مگر ظالم کے سامنے کھڑے ہونے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ کوفہ تاریخ کا ایک باب نہیں ہر دور کا ایک آئینہ ہے۔

سوال یہ نہیں کہ کوفہ کہاں تھا سوال یہ ہے کہ کہیں ہم خود تو اپنے عہد کے کوفہ میں زندہ نہیں آئے اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں ضمیروں کو جھنجوڑیں کہ اس سے پہلے کہیں دیر نہ ہوجائے یہ نہ سمجھو کہ خاموش رہ کر تم اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کر رہے ہو تم اپنی خاموشی سے ان کے لیے ایسا معاشرہ چھوڑ رہے ہو جہاں سچ بولنا جرم، دیانت حماقت اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا بغاوت سمجھا جائے گا تم اپنے بعد آنے والی نسلوں کو آزادی نہیں، خوف ورثے میں دے رہے ہو۔

یاد رکھو! جب اہلِ فکر خاموش ہو جائیں تو جاہل رہنما بن جاتے ہیں جب اہلِ قلم بک جائیں تو جھوٹ تاریخ بن جاتا ہے جب اہلِ دین مصلحت کے اسیر ہو جائیں تو مذہب بھی اقتدار کی لونڈی بن جاتا ہے اور جب عوام اپنے ضمیر کی آواز کو دبا دیں تو پھر قومیں زندہ نہیں رہتیں صرف ان کا ہجوم باقی رہ جاتا ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم دوسروں کے کردار پر ماتم کرنے کے بجائے اپنے ضمیر کا محاسبہ کریں اپنے آپ سے پوچھیں کہ ہم کس زندگی کو زندگی سمجھ بیٹھے ہیں کیا صرف سانس لینا زندگی ہے کیا صرف رزق کما لینا زندگی ہے؟ کیا صرف اپنے گھر کو محفوظ کر لینا زندگی ہے جبکہ پورا معاشرہ جل رہا ہو؟ انسان کی زندگی اس کے جسم سے نہیں اس کے موقف سے پہچانی جاتی ہے اپنی زبان کو جنبش دو اپنے ضمیر کو بیدار کرو اپنے خوف کو شکست دو اور اپنے شعور کو کردار میں ڈھالو یاد رکھو ایک سچی آواز کبھی رائیگاں نہیں جاتی وہ یا تاریخ بدل دیتی ہے، یا آنے والی نسلوں کے لیے راستہ روشن کر دیتی ہے خاموشی ہمیشہ امن کی علامت نہیں ہوتی۔

اکثر اوقات وہ ظلم کی سب سے بڑی شریکِ جرم ہوتی ہے اس لیے فیصلہ تمہیں کرنا ہے کہ تم تاریخ کے تماشائی بن کر زندہ رہنا چاہتے ہو یا حق کے گواہ بن کرکیونکہ قومیں تلواروں سے کم اور خاموش ضمیروں سے زیادہ شکست کھاتی ہیں اور جب ضمیر جاگ اٹھے تو تاریخ کا دھارا بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔

آخر میں سوال یہ نہیں کہ اس قوم پر کتنے ظالم مسلط ہوئے، سوال یہ ہے کہ اس قوم کے ضمیر کتنی بار سوئے سوال یہ نہیں کہ باطل کتنا طاقتور تھا سوال یہ ہے کہ حق کے علمبردار کتنی آسانی سے خاموش ہو گئے ظلم ہمیشہ طاقت سے نہیں جیتتا وہ اکثر اہلِ حق کی خاموشی سے کامیاب ہوتا ہے جس دن معاشرے کے باشعور لوگ بولنا چھوڑ دیتے ہیں اسی دن جاہلوں کے ہاتھ میں قوموں کی تقدیر لکھنے کا قلم آ جاتا ہے۔ آج بھی وقت باقی ہے اپنے اندر جھانک کر دیکھیں کہ کہیں ہم بھی اپنے عہد کے کوفی تو نہیں۔ کہیں ہماری خاموشی بھی آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا نوحہ تو نہیں بن رہی جسے تاریخ صدیوں تک دہراتی رہے؟

یاد رکھیں زندگی کا مقصد صرف زندہ رہنا نہیں بلکہ حق کے ساتھ زندہ رہنا ہے اگر ضمیر مر جائے تو سانسوں کا چلتے رہنا بھی زندگی نہیں اور اگر ضمیر جاگ اٹھے تو ایک سچی آواز صدیوں کی خاموشی پر بھاری پڑ جاتی ہے آئیے مصلحت کے بت توڑیں خوف کی زنجیریں کاٹیں اور اپنے ضمیر کو دوبارہ زندہ کریں اسکو جگائیں کیونکہ جب ایک قوم کے ضمیر جاگ جاتے ہیں تو ظلم کے ایوان لرزنے لگتے ہیں باطل کی دلیلیں دم توڑ دیتی ہیں اور تاریخ ایک نئے باب کا آغاز کرتی ہے فیصلہ آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے ہم خاموش ضمیروں کا نوحہ بننا چاہتے ہیں یا بیدار ضمیروں کی صدا یہ فیصلہ ہمارا ہے۔

Check Also

Maseeha Sirf Ilm Se Nahi, Ikhlaq Se Banta Hai

By Iqbal Bijar