Biwi Ko Ghoorna Mana Hai
بیوی کو گھورنا منع ہے

خاوند کرسی پر بیٹھا پسینہ پونچھ رہا تھا ہتھکڑیاں کھل چکی تھیں مگر قانون کا سایہ اب بھی کمرے میں موجود تھا پولیس افسر فائل بند کرتے ہوئے بولا "دیکھیں جناب خوش نصیب ہیں آپ دھمکی دینا جرم ہے عمل کرنا نہیں"۔
خاوند نے آہ بھری جیسے کسی فلسفیانہ راز تک پہنچ گیا ہو۔
تو پھر یہ قانون عورت کو بچانے کے لیے ہے یا الفاظ کو؟
پولیس افسر نے کندھے اچکا دیے۔۔
یہ سوال آئین میں شامل نہیں، اس لیے قابلِ سماعت نہیں۔
ادھر بیوی الماری کھول کر کپڑے تہہ کر رہی تھی استری شدہ جوڑے جوتے، میچنگ بیگ گویا وہ طلاق نہیں کسی باوقار سرکاری تبادلے پر جا رہی ہو۔
اس نے پلٹ کر کہا "دیکھا اگر دھمکی دیتے رہتے تو آج تھانے کی سلاخیں گنتے اب قانون بھی تمہارے ساتھ ہے"۔
خاوند نے دل ہی دل میں سوچا، یہ کیسا زمانہ ہے کہ نیت جرم ہے اور نتیجہ حق؟
کچھ دیر بعد پولیس افسر جاتے جاتے پلٹا جیسے کوئی اہم سرکاری اعلان یاد آ گیا ہو اور ہاں، یاد رکھیں بیوی کو گھورنا بھی جرم ہے۔ زیادہ دیر دیکھیں گے تو نیت ثابت ہو سکتی ہے۔
خاوند فوراً نظریں جھکا کر فرش گھورنے لگا، فرش پر پڑی دراڑیں اب پہلے سے زیادہ معصوم لگ رہی تھیں۔
افسر نے مزید وضاحت کی "دوسری شادی کی بات چھیڑنا طلاق کا امکان ظاہر کرنا یا بیوی کے واٹس ایپ لاسٹ سین کے بارے میں سوال کرنا یہ سب سٹاکنگ کے زمرے میں آسکتا ہے"۔
خاوند نے گھبرا کر پوچھا، سانس لینا؟
پولیس افسر نے فائل بند کی، سانس کی حد ابھی طے نہیں ہوئی، لیکن محتاط رہیں۔
دروازہ بند ہوا تو خاوند نے سکون کا سانس لیا مگر فوراً خیال آیا کہیں یہ سانس بھی نفسیاتی دباؤ میں نہ آجائے۔
بیوی نے سوٹ کیس بند کیا زپ لگائی اور فاتحانہ انداز میں بولی، قانون نے مجھے تحفظ دیا تم نے مجھے آزادی دی۔
خاوند نے آہستہ سے کہا اور مجھے؟
بیوی مسکرائی، تمہیں تجربہ ملا۔
یوں اس گھر میں نہ لڑائی ہاری نہ جیتی گئی بس منطق ہار گئی اور قانون جیت گیا۔
یہ نیا قانون شاید عورت کے تحفظ کے لیے آیا ہے، مگر اس نے مرد کو ایک عجیب مخمصے میں ڈال دیا ہے۔ بولے تو مجرم، خاموش رہے تو مشکوک، دھمکی دے تو قید، فیصلہ کرے تو آزاد۔ اب ازدواجی زندگی میں جذبات نہیں صرف الفاظ ناپے جاتے ہیں۔ محبت کم ہو یا زیادہ قانون سے کم ہونی چاہیے۔
اور خاوند؟
وہ اب آئین تعزیرات اور لغت تینوں ساتھ رکھ کر سوتا ہے کہ نہ جانے کون سا لفظ کس دفعہ کے نیچے آ جائے۔
نیا قانون آگیا ہے کہ بیوی طلاق کی دھمکی دینا گھورنا منع ہے مگر اس پر عمل کرنا۔۔ اسلئھ کسی درویش نے درست کہا تھا ایک تو یہ پڑھے لکھے نہیں ہیں دوسرا سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے آج یہ فقرہ حرف بہ حرف حقیقت بن کر پوری دنیا کو بتا رہا ہے یہ واقعہ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔

