Ghaznavi Missile Night Vision Ka Kamyab Tajurba
غزنوی میزائل نائٹ ویژن کا کامیاب تجربہ

رات کے سناٹے میں جب فضا خاموش ہو، ستارے اپنی جگہ ٹھہرے ہوں اور زمین سانس روکے منتظر ہو، اُس لمحے اگر کسی میزائل کا کامیاب تجربہ ہو جائے تو یہ محض ایک عسکری سرگرمی نہیں رہتی، بلکہ یہ ایک قوم کے اعتماد، سائنسی بلوغت اور دفاعی خود مختاری کا اعلان بن جاتی ہے۔ غزنوی میزائل کا کامیاب نائٹ ویژن ٹیسٹ بھی ایسا ہی ایک اعلان ہے، خاموش، پُراعتماد اور بامعنی۔
غزنوی میزائل کا یہ تجربہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب جنوبی ایشیا سیاسی بے یقینی، جارحانہ بیانات اور عسکری اشتعال انگیزی کی زد میں ہے۔ خطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے کی مسلسل کوششیں ہو رہی ہیں، مگر پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ وہ نہ تو جنگ کا خواہاں ہے اور نہ ہی دفاع پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار ہے۔
غزنوی میزائل پاکستان کے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس کی کامیابی محض تکنیکی نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک واضح اسٹریٹیجک پیغام پوشیدہ ہے: پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے ہر لمحہ تیار ہے، دن ہو یا رات، روشنی ہو یا اندھیرا۔
نائٹ ٹیسٹ کی اہمیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ رات کے وقت کسی میزائل کا کامیاب تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہماری مسلح افواج اور دفاعی ادارے ہر ممکنہ صورتحال میں جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ پیغام نہ صرف دشمن کے لیے ہے بلکہ دوستوں کے لیے بھی، کہ پاکستان ایک ذمہ دار، مگر مضبوط ریاست ہے۔
پاکستان کی دفاعی تاریخ قربانیوں، جدوجہد اور خود انحصاری کی کہانی ہے۔ پابندیوں، سازشوں اور عالمی دباؤ کے باوجود پاکستان نے اپنی دفاعی صنعت کو زندہ رکھا، جدید بنایا اور وقت کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ غزنوی میزائل کا کامیاب تجربہ اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے۔
یہ کامیابی کسی ایک ادارے کی نہیں، بلکہ انجینئرز، سائنسدانوں، تکنیکی ماہرین اور مسلح افواج کے درمیان مثالی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے خاموشی سے لیبارٹریوں میں، فیکٹریوں میں اور فیلڈ میں کام کیا، آج اُن کی محنت قوم کے اعتماد میں ڈھل گئی ہے۔
یہ بات بار بار دہرائی جاتی ہے اور آج پھر دہرائے جانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے۔ ہم نے جنگوں کی قیمت ادا کی ہے، ہم جانتے ہیں کہ جنگ صرف تباہی لاتی ہے۔ مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ کمزور قوموں کے لیے امن محض ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ پاکستان کا دفاعی نظریہ جارحیت نہیں بلکہ ڈیٹرنس (Deterrence) پر مبنی ہے، یعنی ایسی صلاحیت کہ کوئی دشمن جارحیت کا سوچے بھی تو اُسے انجام کا اندازہ ہو۔ غزنوی میزائل کا کامیاب نائٹ ٹیسٹ اسی ڈیٹرنس کو مضبوط کرتا ہے۔
جنوبی ایشیا میں اسلحے کی دوڑ کوئی نئی بات نہیں، مگر پاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ نہ بلا اشتعال حملے، نہ جنگی جنون، نہ توسیع پسندانہ عزائم۔ اس کے برعکس، پاکستان نے ہر فورم پر بات چیت، امن اور تنازعات کے پرامن حل کی بات کی ہے۔ لیکن جب سامنے جارحانہ نظریات، سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے اور انتخابی سیاست کے لیے جنگی نعرے ہوں، تو دفاعی تیاری کمزوری نہیں بلکہ مجبوری بن جاتی ہے۔
غزنوی میزائل کے کامیاب تجربے پر قوم کا ردعمل قابلِ غور ہے۔ یہ محض خوشی یا فخر نہیں، بلکہ ایک اجتماعی اطمینان ہے، کہ ہماری افواج بیدار ہیں، چوکس ہیں اور ہر لمحہ تیار ہیں۔
پاک فوج، اسٹریٹیجک فورسز اور دفاعی ادارے کسی سیاسی بیانیے کے محتاج نہیں۔ اُن کی اصل طاقت قوم کا اعتماد ہے اور یہی اعتماد ہر کامیاب تجربے کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
اس موقع پر یہ بات بھی ضروری ہے کہ دفاعی کامیابیوں کو بیان کرتے وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔ جذباتیت اپنی جگہ، مگر پاکستان کو ایک سنجیدہ اور ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر پیش کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
نعرے لگانا آسان ہے، مگر اصل طاقت خاموش اعتماد میں ہوتی ہے اور غزنوی میزائل کا نائٹ ٹیسٹ اسی خاموش اعتماد کی علامت ہے۔
رات کے اندھیروں میں کامیاب ہونے والا یہ تجربہ دراصل پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک روشن پیغام ہے۔ یہ پیغام ہے کہ: پاکستان کمزور نہیں، پاکستان تنہا نہیں، پاکستان دفاع میں کسی سے پیچھے نہیں۔
ہم امن کے خواہاں ہیں، مگر اگر امن کو آزمائش میں ڈالا گیا تو جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، دن میں بھی، رات میں بھی۔
غزنوی میزائل کا کامیاب نائٹ ٹیسٹ محض ایک خبر نہیں، یہ ایک قومی اعتماد کی بازگشت ہے جو رات کے سناٹے میں گونج کر دشمن کو بھی سنائی دی اور دوست کو بھی۔
پاکستان زندہ باد
مسلح افواج پائندہ باد

