Monday, 26 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Nasim Chaudhry
  4. Aqil Baligh Ka Janaza, Bachon Ke Kandhon Par

Aqil Baligh Ka Janaza, Bachon Ke Kandhon Par

عقل بالغ کا جنازہ، بچوں کے کاندھے پر

پارلیمنٹٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی قانون سازی کو غیر اسلامی سمجھتا ہوں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس قانون سازی کو اسلامی نظریاتی کونسل بھیجتے تو اچھا ہوتا، میں آپ کے قانون کی خلاف ورزی کروں گا، 18 سال سے کم عمر 10-12 سال کےنوجوانوں کی شادیاں کراؤں گا۔

یہ جملہ اگر کسی طنزیہ افسانے کا آغاز ہوتا تو ہم داد دیتے، مگر بدقسمتی سے یہ بیان ایک سنجیدہ سیاسی قائد کا ہے۔

مولانا فضل الرحمان فرماتے ہیں: "میں 10 سال، 12 سال، 15 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا، خود ان میں بیٹھوں گا اور قانون کو چیلنج کرتا ہوں"۔

یہاں سب سے پہلا سوال یہ نہیں کہ قانون کیا کہتا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ مولانا صاحب! آپ جسے جوان کہہ رہے ہیں، وہ دراصل بچہ ہے اور اگر وہ لڑکی ہے تو بچی۔ دس سال کی بچی وہ ہوتی ہے جو ابھی گڑیا کے بال سنوار رہی ہوتی ہے۔ جو اسکول کی اسمبلی میں قطار سیدھی نہ ہونے پر ڈانٹ کھا لیتی ہے۔

جسے ماہواری کا نام سن کر بھی جھجک آتی ہے۔ جو آئین، نکاح نامہ، شوہر، سسرال اور ازدواجی حقوق جیسے الفاظ کا بوجھ سن کر ہی خوف زدہ ہو جائے۔ کیا واقعی ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ بچی کو دلھن اور بچے کو شوہر کہہ کر مطمئن ہو جائیں؟

ایک معصوم سوال: کیا 10 سال کی بچی شادی کر سکتی ہے؟

یہ سوال مغرب کا نہیں۔ یہ سوال اقوام متحدہ کا نہیں۔ یہ سوال کسی این جی او کا نہیں۔ یہ سوال ضمیر کا ہے۔ کیا 10 یا 12 سال کی بچی: ازدواجی تعلقات کے جسمانی و نفسیاتی تقاضے سمجھ سکتی ہے؟ حمل، زچگی اور ماں بننے کے خطرات کا ادراک رکھتی ہے؟ شوہر، ساس، سسر، نند، دیور اور سماج کے دباؤ کا مقابلہ کر سکتی ہے؟"نکاح نامہ" پڑھ سکتی ہے یا صرف انگوٹھا لگا سکتی ہے؟

اگر جواب "نہیں" ہے۔ تو پھر یہ شادی نہیں۔ یہ معصومیت کا اغوا ہے۔ اسلام، شریعت اور وہ بات جو خطبوں میں رہ جاتی ہے اسلام میں نکاح صرف ایجاب و قبول کا نام نہیں۔ اسلام میں رضامندی شرط ہے اور رضامندی کے لیے عقل و فہم شرط ہے۔

کیا کوئی دس سال کی بچی آزادانہ، شعوری اور بغیر دباؤ کے "قبول ہے" کہہ سکتی ہے؟ یا وہ "قبول ہے" دراصل والدین، رسم، غربت اور خوف کا مشترکہ جملہ ہوتا ہے؟

یہاں سوال یہ بھی ہے کہ اگر شریعت کا معیار صرف عمر نہیں بلکہ فہم، بلوغت اور ذمہ داری ہے تو پھر بچیوں کو جلدی دلھن بنانے کی اتنی جلدی کیوں؟

ذرا ذاتی سوال، مولانا صاحب!

ادب کی اجازت ہو تو ایک سوال بنتا ہے اور طنز کی روایت ہو تو یہ سوال لازم ہو جاتا ہے: کیا آپ نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی شادیاں بھی 10,12 یا 15 سال کی عمر میں کیں؟

اگر نہیں۔

تو پھر یہ سہولت صرف غریبوں کے بچوں کے لیے کیوں؟ اگر آپ کے بچے تعلیم یافتہ، بالغ اور باشعور ہو کر شادی کے بندھن میں بندھے۔ تو پھر یہی حق دوسرے بچوں کو کیوں نہیں؟

یہ سوال بدنیتی نہیں۔ یہ سوال برابری کا ہے۔ "میں خود بیٹھوں گا"، یہ اعلان یا اعتراف؟

یہ کہنا کہ "میں خود ان شادیوں میں بیٹھوں گا" قانون کے خلاف بغاوت نہیں۔

یہ دراصل ایک سماجی اعلان ہے کہ "میں طاقتور ہوں اور طاقتور ہر چیز جائز سمجھتا ہے"۔

لیکن تاریخ گواہ ہے کہ

بچوں کے مستقبل پر بیٹھنے والی کرسیاں کبھی پائیدار نہیں ہوتیں۔

طنز کی اجازت ہو تو عرض ہے۔

اگر دس سال کا بچہ "جوان" ہے تو پھر:

پرائمری اسکول یونیورسٹی کیوں نہیں؟ پلے گراؤنڈ پارلیمنٹ کیوں نہیں؟ کارٹون چینل پر نکاح کے اشتہار کیوں نہیں؟ اور اگر بارہ سال کی بچی "دلھن" بن سکتی ہے تو پھر مٹی کے کھلونوں کے ساتھ جہیز کیوں نہیں؟

یہ طنز ہنسی کے لیے نہیں۔ یہ آئینہ دکھانے کے لیے ہے۔ ریاست، قانون اور اصل ذمہ داری ریاست کا کام مذہب سے جنگ نہیں۔ ریاست کا کام بچوں کا تحفظ ہے۔

یہ قانون کسی مولانا کے خلاف نہیں۔ یہ قانون دس سال کی بچی کے حق میں ہے جو اسکول جانا چاہتی ہے۔ ماں نہیں بننا چاہتی۔

یہ قانون اس بچے کے حق میں ہے جو خواب دیکھنا چاہتا ہے۔ ازدواجی فرائض نہیں۔

اصل چیلنج قانون نہیں۔ اصل چیلنج سوچ ہے۔ اگر ہم نے دس سال کے بچوں کو جوان مان لیا۔ تو کل ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ بچپن ایک غیر ضروری تعیش تھا۔

اور یاد رکھیے قانون ٹوٹ سکتا ہے مگر بچی کی ٹوٹی ہوئی زندگی دوبارہ نہیں جڑتی۔ اسلامی جمہوریہ ہونے کا مطلب صرف لفظ "اسلامی" لگانا نہیں بلکہ اسلام کی رحمت، حکمت اور عدل کو زندہ رکھنا ہے۔ ورنہ تاریخ یہ نہیں پوچھے گی کہ قانون کس نے توڑا۔

تاریخ یہ پوچھے گی "جب بچیوں کی عمر خواب دیکھنے کی تھی۔ تو تم نے ان کے ہاتھوں میں نکاح نامہ کیوں تھما دیا؟"

جناب، یہ نکاح نہیں، یہ اعلانِ شکست ہے، اگر دس سال کا بچہ واقعی "جوان" ہے تو پھر اس ملک میں بچپن محض ایک افواہ تھا۔ اگر بارہ سال کی بچی دلھن بن سکتی ہے تو پھر اسکول، کتاب، کاپی اور خواب سب فضول تھے اور اگر قانون کا جواب یہ ہے کہ "میں خود خلاف ورزی کروں گا" تو پھر آئین کتاب نہیں۔ صرف طاقتوروں کے ہاتھ میں ایک کاغذی رومال ہے۔

مولانا صاحب!

ریاست آپ سے مقابلہ نہیں کرے گی۔ ریاست خاموشی سے تاریخ لکھ دے گی اور تاریخ یہ ضرور لکھے گی کہجب بچیوں کی عمر گڑیا کھیلنے کی تھی۔ تو کچھ بڑوں نے انہیں دلیل بنا کر پیش کیا۔ یہ سوال بھی لکھا جائے گا کہ جنہوں نے بچوں کی شادی کو شریعت کہا۔

انہوں نے اپنے بچوں کے لیے اسی شریعت کو کیوں مؤخر رکھا؟

یاد رکھیے، قانون تو آپ توڑ سکتے ہیں۔ مگر وقت کو چیلنج نہیں کر سکتے۔ وقت گواہی دے گا کہ یہ "اسلام" نہیں تھا۔

یہ ضد تھی۔ یہ "روایت" نہیں تھی۔ یہ طاقت کا مظاہرہ تھا اور یہ "نکاح" نہیں تھا۔ یہ بچپن کا جنازہ تھا اور شاید سب سے کڑا سوال یہی ہوگا: جب دس سال کے بچے "جوان" تھے۔ تو پھر اس قوم کے بڑوں میں عقل کب بالغ ہوگی؟ بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ عقل بالغ کا جنازہ بچوں کے کاندھے پر آگیا ہے۔۔

Check Also

Kya Hum Waqai Riyasat e Madina Chahte Hain?

By Saleem Zaman