Muft Adviat Ki Haqiqat
مفت ادویات کی حقیقت

وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ حکومت محکمہ صحت کو ادویات کی خریداری کے لئے اسی ارب روپے کی خطیر رقم فراہم کررہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اتنی بڑی رقم کی منصفانہ تقسیم نہیں ہو پارہی ہے بلکہ لگتا یہی ہے کہ ادویات کی تقسیم میں بھی کرپشن کا عنصر موجود ہے جس کی وجہ سے دیکھنے میں آیا ہے کہ کئی بڑے ہسپتالوں کو ان کی ضروریات سے کہیں کم فنڈز ملے ہیں۔
میو ہسپتال کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ اس ہسپتال کو ڈیمانڈ کئے گئے ادویات کے بجٹ کا نصف بھی نہیں مل سکا ہے جس کے بعد اس ہسپتال میں ادویات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ گنگا رام ہسپتال اور جنرل ہسپتال میں بھی ادویات مکمل طور پر نہیں ملتی ہیں اور اطلاعات ہیں کہ جنرل ہسپتال میں درد کے لئے صرف پیراسٹامول ہی دستیاب ہے اور شدید درد کے ساتھ آئے ہوئے نیورولوجی اور ہڈی و جوڑ کے مریضوں کا علاج محض پیراسٹامول سے کرنا مضحکہ خیز ہے جبکہ اس وقت دنیا میں درد کے لئے کمبی نیشن کے ساتھ ادویات دی جاتی ہیں اور دوسری طرف ان ہسپتالوں کی انتظامیہ آؤٹ ڈور میں ڈاکٹروں پر دباؤ ڈالتی ہے کہ کچھ بھی ہو مریضوں کو ادویات اندر سے ہی دینی ہیں۔
جنرل ہسپتال کا ڈائریکٹر آؤٹ ڈور ڈاکٹروں سے بدتمیزی کرتا ہے اور ہراساں کرتا ہے کہ ادویات ہر صورت میں اندر سے دی جانی چاہئیں جبکہ یہاں معاملات اتنے خراب ہیں کہ مریض کو چار ادویات لکھی جاتی ہیں تو ضروری دو دوائیں ملتی نہیں ہیں اور غیر ضروری ادویات مریضوں کو دے کر ان کی کوئی مدد نہیں ہورہی ہے بلکہ یہ سراسر وزیر اعلیٰ پنجاب اور مریضوں کو دھوکے میں رکھنے کی کوشش ہے۔ جو ادویات ہسپتال کے اندر سے ملتی ہیں وہ اس قدر غیر معروف اور غیر معیاری ہوتی ہیں کہ مریض کو اگر دو تین دن کی دوا کے بعد بازار سے خریدنا پڑے تو پوری مارکیٹ میں نہیں ملتی ہے۔
اگر آرتھو پیڈک آؤٹ ڈور میں مریض کو ہڈیوں کی کمزوری کی وجہ سے کیلشیم سپلیمنٹ درکار ہو یا پھر پٹھوں کے کھچاؤ کے لئے کوئی پٹھوں کو ریلیکس کرنے کے لئے دوا درکار ہو تو یہ ادویات اکثر ہسپتالوں میں نہیں ملتی ہیں بلکہ ڈاکٹروں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ ہڈیوں کے بھر بھرے پن کو بھی پیراسٹامول سے ٹھیک کرنے کی کوشش کریں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مریض بجائے کہ ٹھیک ہو سکے بلکہ اسے سرکاری ہسپتالوں میں گمراہ کرکے بھیج دیا جاتا ہے۔
ایسے لوگ بعد میں ذرا سی چوٹ پر فریکچر کا شکار ہو جاتے ہیں اسی طرح کی حالت گردے کے مریضوں کی ہے جنہیں کیٹورائٹ دوا کی اگر ضرورت ہو تو وہ انھیں نہیں مل سکے گی جس سے گردوں کی بیماری میں مزید اضافہ ہی ہوگا اسی طرح پیشاب اور گردے کی پتھری کے لئے دی جانے والی ادویات نہ ملنے سے مریض مزید مشکل کا شکار ہو جاتا ہے اور یہی حالت باقی شعبوں کی سپیشلٹی ادویات کا ہے۔
اکثر ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ شوگر، بلڈ پریشر یا گردوں کی بیماری کے وہ مریض جنہیں سالہا سال ادویات کھانا پڑتی ہیں انھیں ہسپتال سے تین سے چار دن کی دوا ملتی ہے اور وہ مریض جنہیں مہینہ میں ایک آدھ بار ہی ڈاکٹر کے مشورہ کی ضرورت پڑتی ہے وہ ہفتہ میں دو دو دن آؤٹ ڈور پہنچ جاتے ہیں جس سے حقیقی مریضوں کو چھوڑ کر ڈاکٹر ادویات کو جاری رکھنے کے نسخے لکھنے میں مصروف رہتے ہیں اور مریضوں کو بھی بار بار ہسپتال جانے میں ناصرف ڈاکٹروں اور مریضوں کا وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ ٹرانسپورٹ کے کرایے پر ادویات کی قیمت سے زیادہ خرچ آجاتا ہے اور خواری الگ سے ملتی ہے۔
مجھے کچھ سینئر ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ اکثر ہسپتالوں میں صرف سیفٹرائیگزون کا اینٹی بائیوٹک انجکشن ہی دستیاب ہے اور ہر طرح کے آپریشن میں وہی ٹیکہ دیا جاتا ہے اور یہاں تک کہ کلچر ٹیسٹ کے بعد بھی ڈاکٹروں کو اسی انجکشن پر اکتفاء کرنے کو کہا جاتا ہے اور یہی حالت آؤٹ ڈور میں اینٹی بائیوٹک گولیوں کی ہے کہ اکثر سپروفلوکساسن کو ہر طرح کی انفیکشن میں بطور تریاق فراہم کیا جاتا ہے اور جو پریکٹس اس وقت سرکاری ہسپتالوں میں چل رہی ہے اس سے بہتر تو گاؤں کے عطائی علاج کرلیتے ہیں جو کم از کم مریض کو پوری دوائی تو دیتے ہیں۔
اس وقت سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کے نام پر تماشہ لگا ہوا ہے اور بیوروکریسی سمیت ہسپتالوں کی انتظامیہ وزیر اعلیٰ کو ماموں بنانے میں مصروف ہے جبکہ مناسب ادویات نہ ملنے کی وجہ سے ڈاکٹروں کی بھی علاج میں دلچسپی کم ہوگئی ہے اور اکثر ڈاکٹر دوائی لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ مریض کو کوئی فائیدہ تو نہیں ہونے والا ہے بلکہ الٹا نقصان ہی ہوگا اور پھر سرکاری ہسپتالوں میں آؤٹ ڈور میں آئے ہوئے مریض کو تو ویسے ہی لاوارث سمجھا جاتا ہے کیونکہ ایسا مریض ان ہسپتالوں میں کسی فوری علاج طلب بیماری میں آتا ہے اور بے کار ادویات لے کر واپس چلا جاتا ہے جس کا نہ تو کوئی فیڈ بیک حاصل کرنے کا انتظام موجود ہے اور نہ ہی صحتیابی کی اطلاع ملتی ہے جس کا فائیدہ ہسپتال کی انتظامیہ خوب اٹھاتی ہے۔
دوسری طرف ایسے بھی ہسپتال موجود ہیں جہاں مختلف شعبہ جات کے ڈاکٹر ہی موجود نہیں ہیں اور مریضوں کی جعلی انٹری ڈال کر بڑے پیمانے پر ادویات کی خورد برد کی جاتی ہے اور پھر وہی ادویات ہسپتال کا عملہ مارکیٹ میں بیچ دیتا ہے۔ اس وقت تقریباً پنجاب کے تمام ہی ہسپتالوں میں میڈیکل افسران کی شدید کمی ہے اور صرف میو ہسپتال میں چار سو سے زیادہ آسامیاں خالی پڑی ہیں جبکہ نواز شریف کوٹ خواجہ سعید ہسپتال میں گردہ مثانہ، ہڈی و جوڑ، آئی اور ناک کان گلے کے اہم ترین شعبے مستقل ڈاکٹروں کے بغیر ہی کام کر رہے ہیں۔
مجھے تو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور وزیر اعلیٰ مانیٹرنگ ٹیمیں ان ہسپتالوں میں روزانہ دورے کرکے کیا کرتی ہیں اور اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ یہ لوگ پروٹوکول کے ساتھ ہسپتالوں میں جاتے ہیں اور بغیر عوام کو ملے اور ڈاکٹروں سے مسائل سنے واپس آجاتے ہیں اور آخر میں ان لوگوں کی دو تین فائنڈنگ ہوتی ہیں کہ ہسپتال میں صفائی کا انتظام نہیں ہے، آؤٹ ڈور میں رش کیوں لگا ہے اور ہسپتال میں میڈیکل ریپس کیوں موجود تھے۔
یہ لوگ ڈاکٹرز کی کمی، ہسپتالوں میں پائی جانے والی عطائی طرز کی پریکٹس اور ادویات کی تقسیم کے طریقہ کار پر خالی ایم ایس حضرات کی فیک قسم کی بریفننگ لے کر واپس چلے جاتے ہیں اور حقیقت یہ بھی ہے کہ اکثر ہسپتالوں کے ایم ایس پروٹوکول بھگتانے میں لگے رہتے ہیں اور ہاتھ باندھ کر ان افسران کے سامنے کھڑے ہوکر سب اچھا ہے کی رپورٹ دیتے ہیں کیونکہ یہی سب اچھا ہے کا جملہ ان کی نوکری کی ضمانت ہے۔
یہ ایم ایس حضرات کبھی بھی ہسپتال کے اصل مسائل کی بات نہیں کرتے ہیں اور پروٹوکول کے افسران کے جاتے ہیں خود چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں اور ان میں سے اکثر میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ہائیبرنیشن میں رہتے ہیں اور ان کو ملنے کے لئے جائیں تو ملتے ہی نہیں ہیں جیسا کہ جنرل ہسپتال کا ایم ایس ہے جب لوگ اسے شکایت کے لئے ملنے اس کے آفس جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ اپنے وارڈ میں ہیں اور وارڈ میں جائیں تو معلوم پڑتا ہے کہ راؤنڈ پر ہیں اور راؤنڈ پورے ہسپتال میں کہیں نہیں ہورہا ہوتا ہے۔
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آج کے مشکل دور میں ایک عہدہ کی ذمہ داریاں سنبھالنا مشکل ہے تو یہ لوگ دو فل ٹائم عہدوں سے انصاف کیسے کر لیتے ہیں تو سمجھ یہی آتی ہے کہ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی ہی اس وقت وطن عزیز کی بہترین پالیسی ہے جس پر بیوروکریسی، حکومت اور ادارے خوش اسلوبی سے چل رہے ہیں اور اسی پالیسی کی وجہ سے آج ہم تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں اور اس سارے معاملہ میں قابلیت اور کارکردگی کے بغیر شاہ کے وفاداروں کو بھرتی کرنے سے ہی قومیں تباہی کا نشانہ بنتی ہیں۔

