Wednesday, 15 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Awam Ka Tail

Awam Ka Tail

عوام کا تیل

بڑی منتوں مرادوں کے ساتھ وزیر اعظم نے میڈیا پر آکر حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں پورے بارہ روپے کمی کردی جبکہ حقیقت میں ابھی بھی جنگی اثرات کے نام پر پٹرول کی قیمت میں سو روپے اضافہ ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم نے تو بین الاقوامی راہنمائی کی لاج بھی نہ رکھی اور عوام کے لئے ریلیف تو درکنار انھیں مارکیٹ پٹرول کی قیمت کی کمی کے ثمرات بھی نہیں پہنچنے دئیے ہیں۔ ابھی بھی حکومت سو روپے سے زیادہ لیوی سمیت درجن بھر ٹیکس پٹرول سے وصول کررہی ہے اور ان ٹیکسوں کا عوام کو کوئی فائیدہ بھی نہیں ہوتا ہے سوائے کہ اشرافیہ اور مافیاز کی جیبیں بھری جاتی ہیں کیونکہ پٹرول کی کمائی پر حکمرانوں کے خزانے بھریں گے تو ساتھ ساتھ ساری ضروریات زندگی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو جائے گا جو تیل کی قیمتیں آدھی ہونے پر بھی کم نہیں ہوگا۔

اس وقت دودھ، گھی، چائے، پھلوں، سبزیوں، گوشت، دالوں اور ادویات تک کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں لیکن یہ قیمتیں اب شاید کبھی کم نہیں ہوں گی اور اس طرح حکمران ان تمام منافع خوروں کی سہولت کاری کے لئے سال دو سال بعد ایک دو بار ایسا جھٹکا ضرور لگاتی ہے کہ کاروباری افراد کی موجیں لگ جاتی ہیں۔ ابھی بھی اطلاعات ہیں کہ پٹرول کی مد میں آئل کمپنیوں نے اربوں روپے کی دیہاڑی لگائی ہے اور اس کے بعد، ایل پی جی مافیا نے بھی اپنا کام دکھا دیا ہےاور سیمنٹ، اینٹ، سریا اور بجلی سمیت ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے لیکن حکمرانوں کو ان ساری چیزوں کی کوئی فکر نہیں ہے۔

حقیقت میں یہ حکمران ہیں بھی نہیں بلکہ ایک انتظام کے تحت تابغداروں کی فوج جمع کی گئی ہے جنہوں نے آگے بیوروکریسی کے نام پر عوامی تذلیل کے لئے کند ذہن لوگوں کے ریوڑ پال رکھے ہیں جن میں معیشت دان، ماہرین تعلیم، وصحت، بین الاقوامی معاملات کے ایکسپرٹس اور جانے کیا کیا لوازمات کے ماہرین شامل ہیں اور بدقسمتی ہے کہ ملک ان تمام ماہرین کے چونچلے ہی برداشت کررہا ہے کیونکہ ان کی صلاحیتوں نے کبھی قوم کو نازک موڑ سے باہر ہی نہیں آنے دیا ہے۔ لگتا یہی ہے کہ ان تمام ماہرین کا کام ملکی ترقی میں رکاوٹیں اور مشکلات ہی کھڑی کرنا رہ گیا ہے ورنہ کارکردگی ان کے کریڈٹ پر دھیلے کی نہیں ہے۔

یقین جانئیے بڑے بڑے دفاتر میں بیٹھے ان سیکرٹریوں اور ڈائریکٹروں کے پاس عوامی فلاح اور ملکی ترقی کا کوئی ایجنڈا ہے اور نہ ترجیحات۔ یہی وجہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ سارے لوگ امیر تر ہوتے جارہے ہیں اور ان کی مہارت کی بدولت ملک اور عوام قرضوں میں ڈوبتے جاتے ہیں۔ ہم نے جب سے آنکھ کھولی ہے تو ملک کے تمام اداروں کو انحطاط پذیر ہوتے ہیں دیکھا ہے اور یہاں تک کہ خساروں اور بحرانوں میں ڈوبے سارے محکمے بکتے چلے گئے اور جو باقیات بچی ہیں تو ان کے اندر بھی افسروں کی فوج ہے جبکہ کام کرنے والے ورکر ختم ہوتے جاتے ہیں۔

ہمارے یہ تمام حکومتوں اور انتظامیہ کے کل پرزوں کے ناز نخروں پر عوام کے کھربوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور ان کی پرفارمینس یہ ہے کہ کاروبار، انڈسٹری اور بنیادی انسانی سہولیات سب کے سب تباہی کا شکار ہیں جبکہ یورپ، دبئی سمیت امریکہ میں ان تمام افراد کی جائدادیں بڑھتی جاتی ہیں۔ حالت یہ ہے کہ کوئی جنرل، آئی جی، وزیر، جج اور ٹاپ بیوروکریٹس ریٹائرمنٹ کے بعد چند لمحے بھی ملک میں نہیں گزارتے ہیں اور اس طرح دیار غیر کو بھاگتے ہیں جیسے ملک میں تو صرف شکار ہی کرنے آئے تھے۔ اس وقت وطن عزیر کی حالت یہ ہے کہ عوام کو بجلی کے اتنے جھٹکے لگے کہ لوگوں نے اپنی بجلی بنالی، پینے کو پانی نہ ملا تو عوام نے خود پانی خریدنا شروع کردیا اور گیس نہیں ملتی ہے تو سلنڈر خرید لئے، تعلیم کی بنیادی سہولت سے حکومت نے ہاتھ کھینچا تو عوام نے پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں میں بھاری فیسیں دے کر بچوں کو پڑھانا شروع کردیا، بیماری آئی تو پرائیویٹ ہسپتالوں سے علاج کروالیا کیونکہ سرکار کی تمام سروسز تباہی سے دو چار ہیں اور ان کی ذمہ داری حکومت اور انتظامی اداروں پر ہے۔ پھر بھی ان ارسطووں کا پیٹ نہیں بھرا تو ملک کو گروی رکھ دیا اور آج ملک کی اہم شاہراہوں اور ایئرپورٹ تک گروی پڑے ہیں۔

دوسری طرف پچیس پچیس سال کے بجلی کے معاہدے کرکے قوم کو بال بال قرضوں میں دھکیل دیا ہے اور اس وقت حالت یہ ہے کہ بغیر بجلی پیدا کئے پرائیویٹ پاور پلانٹس کو کھربوں روپے دئیے جارہے ہیں اور بدلے میں عوام کا خون نچوڑ کی مہنگی بجلی فراہم کی جاتی ہے جس کی وجہ سے آج ملک کے اندر کاروبار اور انڈسٹری تباہی کا شکار ہے لیکن ان حکمرانوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ملک ڈوبے یا تباہ ہو۔ مہنگی بجلی اور گیس کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے جس سے برآمدات بھی متاثر ہونے لگیں جس کا حل نکالنے کی بجائے تیل کی قیمتوں کو بڑھانے کاسلسلہ شروع کیا گیا تاکہ حکومت اور حکومتی مشینری کی عیاشیاں جاری رہیں۔ ٹریڈ کا خسارے بڑھنے لگا تو آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر مزید عوام کو سکریو کرنے کے لئے بے جا جرمانے اور سروسز کے بل ڈالے جانے لگے۔

اس وقت ملک میں ٹریفک چالانوں کے نام پر پوری انڈسٹری کھڑی کردی گئی ہے جہاں سے جبراً اربوں روپے لوٹے جاتے ہیں۔ یہی نہیں ٹریفک لائسنس، اسلحہ لائسنس، پاسپورٹ فیس، شناختی کارڈ فیس، پراپرٹی کے انتقال کی فیس سمیت تمام سہولیات کو کئی گنا بڑھا کر مال کمایا جانے لگا اور جب پیٹوں کی آگ نہ بجھی تو تعلیمی اداروں اور سرکاری ڈسپنسریوں اور ہسپتالوں کی نجکاری شروع کردی گئی اور سرکاری یونیورسٹیوں کی فیسوں کو اس قدر بڑھا دیا گیا کہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں داخلے کرنا مشکل ہوگیا۔ حکمرانوں نے عوام کو مہنگائی اور ٹیکسوں کے شکنجوں میں دھکیل کر آخر میں ان سے علاج اور تعلیم کی لولی لنگڑی سہولت بھی چھیننے کا مصمم ارادہ کرلیا ہے۔

حکمرانوں کے ان ظالمانہ اقدام نے آخر کار ملک کے اندر اشرافیہ اور عام آدمی کے درمیان گہری خلیج بنادی ہے۔ ملک کے ان حکمرانوں نے حکومت کا مطلب محض عیاشیوں کے لئے فنانس مینجمنٹ کو ہی حکمرانی سمجھ لیا ہے اور ریلیف تو درکنار عوام کا جہاں جہاں سے تیل نچوڑا جا سکتا ہے وہ نچوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ملک میں عوام کے لئے ریلیف نام کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ مافیاز اور اشرافیہ کی عیاشیوں کے لئے لوگوں کے جینے کے حق کو بھی چھینا جارہا ہے اور اب تو ایک ہی چوائس ہے کہ لوگ اپنے لئے ایندھن اور تیل بھی خود ہی پیدا کرلیں اور خود حکمرانوں کا ایندھن بنتے رہیں۔

Check Also

General Zia Se Aasha Ji Tak

By Rauf Klasra