Zuban Darazi
زبان درازی

جس وقت میں نے شینن ڈووا میں کام شروع کیا تو گویا میں اسپتال کا پہلوٹھی کا بیٹا تھا۔ ایک چھوٹے شہر میں کوئی بھی نہیں رُکتا تھا لیکن جلد ہی سب کو اندازہ ہوگیا کہ میں رہنے آیا ہوں۔ مجھ سے درخواست کی گئی کہ ذرا کی ذرا آس پاس کے نرسنگ ہوم بھی دیکھ آئیے۔ اب ہم ٹرائی اسٹیٹ ایریا میں رہتے تھے جہاں تین ریاستوں یعنی نبراسکا، آئیووا اور ریاست میزوری کی سرحدیں ملتی تھیں اور سائیکائٹرسٹ تو خال خال ہی تھے۔ انکار کی تاب کس میں تھی۔ ایک مریض کو دیکھنا شروع کیا۔ ہمیشہ ناراض ہی رہتا البتہ مجھ سے تعلقات شاید کچھ بہتر تھے۔ سالوں گزر گئے اور ایک دن خبر ملی کہ مریض وفات پاگئے۔ چھوٹے شہروں میں سب ایک دم دوسرے کو جانتے تھے۔ اُن کی آخری رسومات کے متعلق پوچھا تو معلوم ہوا کہ جنازے میں صرف اُن کی دو بیٹیاں ہی تھیں یا پھر فیونرل ہوم کے ڈائرکٹر تھے۔ زندگی جیسی بھی گزری ہو، ایک عزت دار اختتام سب کا ہی حق ہے۔
کسی شہر میں میری ایک مریضہ بے حد زبان دراز تھیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ اُن کی بیٹیاں ایک دوسرے شہر سے ملنے آئی ہیں اور اپنی والدہ کی بیماری کا جاننا چاہتی ہیں۔ میں نے بہت احترام اور تسلی سے والدہ کی بیماری کا بتایا لیکن صاحبزادی بھی اسی زبان درازی میں طاق تھیں۔ والدین سے اور کچھ نہ بھی ملا ہو لیکن وراثت میں کاٹ کھانے والی زبان ضرور ملی۔
چند ھفتے پہلے میرے دو بچوں کی گریجویشن کی تقریب دو مختلف شہروں میں تھی۔ بڑا بیٹا ایم بی اے کی ڈگری لے رہا تھا اور دوسرے نے میڈیکل اسکول مکمل کیا۔ یہ بات بہرحال حیران کُن تھی کہ تقریب میں آنے والے زیادہ تر والدین پڑھے لکھے، نستعلیق اور بے حد تہذیب یافتہ تھے۔ انگلش محاورے کے تحت سیب اپنے درخت سے بہت دور نہیں گرتا۔
چند سال پہلے ایک شہر سے دوسرے شہر جانا ہوا اور ایک موقعہ پر چند ماہ کیلئے ایک گھر کرائے پر لینے کی ضرورت پڑی۔ معلوم ہوا کہ ایک مسلمان ڈاکٹر صاحب کا گھر خالی ہے۔ میں اُن سے ملنے بھی گیا اور گھر بھی اچھا تھا لیکن انہوں نے ماہانہ کرایہ اتنا زیادہ مانگا کہ بات چیت نہیں بن پائی۔ واپس مڑتے ہوئے مجھے روک کر کہنے لگے سُنا ہے آپ کی تنخواہ اچھی نہیں ہے۔ خاموشی سے بہتر جواب کیا ہو سکتا تھا۔ سالوں گزر گئے۔ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر گیا۔ ایک دن مجھے اُن کا فون آیا اور اپنے بچوں میں سے ایک کی زبان درازی کا گلہ کرتے دکھائی دئیے اور بعد میں فون پر ہی رو پڑے۔ بہت کچھ یاد آ جاتا ہے لیکن عزت دار لوگوں کے جواب دینے کا دن نہیں تھا۔ تسلی تشفی دی اور فون بند کر ڈالا۔
ایک جاننے والی خاتون کی زبان درازی کا سب ہی گلہ کرتے رہے۔ ماں باپ بہن بھائی، رشتہ دار اور ہمسائے، کوئی بھی اُن کی زبان درازی سے محفوظ نہیں رہا البتہ کہنے والے کہتے ہیں کہ زندگی کے آخری دنوں میں اپنے والدین کی قبر پر اُن سے معافی مانگنے ضرور گئیں لیکن اُن کے بچے بھی زبان درازی میں انہی پر گئے۔ ایک نسل سے دوسری نسل تک صرف جنیاتی تبدیلی ہی نہیں جاتی بلکہ زبان درازی بھی نسلوں میں ہی منتقل ہو جاتی ہے۔
چند سال پہلے ایک عزیز کی زبان دراز ہمشیرہ کا موڈ کچھ خراب دکھائی دیا۔ کھانے کی میز پر سب کی موجودگی میں اپنے بیٹے کو کہنے لگیں کہ مزید کھانا بنوا لینا کیونکہ ہمارے رشتہ دار کھا گئے ہیں۔ عزت دار انسان نگاہیں نہیں اٹھا پائے البتہ بعد میں اپنی اولاد کی زبان درازی کا شکوہ کرتے پائی گئیں۔
بحیثیت استاد اور ماہر نفسیات اور ہاں بحثیت والد ہمیشہ یہی کوشش کی کہ نوجوانوں کو انسان دوستی اور زبان کو سوچ سمجھ کر استعمال کا سبق ملے۔ ہر جنگ جیتنے کیلئے نہیں لڑی جاتی اور لفظی جنگ میں حقیقی ہار ہمیشہ بدزبان اور بد خصال انسان کے حصے میں آتی ہے۔ نتیجہ نکلنے میں دیر سویر تو ہو سکتی ہے لیکن حتمی نتیجہ عموما" ایک ہی نکلتا ہے۔ مکمل شکست اور پسپائی۔
انگریزی کی کہاوت battle has ended but war is not yet over ایک مکمل سبق دیتے ہوئے بتاتی ہے کہ چھوٹی لفظی جنگ جیت لینا، بڑی لڑائی کا مکمل نتیجہ نہیں لکھتی۔ الفاظ کی چھوٹی جنگوں میں ہار جائیے اور یہی اصل جیت ہے۔ آپ کی اولاد اور گھر والے احترام آدمیت کا سبق سیکھیں گے۔ بہو اور داماد دعا دیں گے اور نسلیں عزت دار گھروں سے گنی جائیں گی۔ ہر زبان دراز انسان کامیاب نہیں ہوتا۔ بعض کامیابیاں خاموشی کے نقرئی حروف سے لکھی جاتی ہیں اور سات پُشتوں تک سنبھالی جاتی ہیں۔ زندگی میں حقیقی انسانی احترام جیتنا، کسی بھی لفظی جنگ جیت لینے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ خاموش رہنے کا فیصلہ آپ آج کرتے ہیں اور احترام آپ کی نسلیں کماتی ہیں۔

