Khwahishat Ka Panchi
خواہشات کا پنچھی

1990 کے بالکل آخری دن تھے۔ ہمارا رزلٹ پنجاب یونیورسٹی نے شائع کیا اور اس وقت میری خوشی کی انتہا نہیں رہی جب مجھے معلوم ہوا کہ میری ایم بی بی ایس کے آخری امتحان میں اپنی کم و بیش 300 کی کلاس میں ساتویں پوزیشن تھی۔ ایک ایسا خواب جو میں نے ہمیشہ دیکھا تھا اس کو پُورا کرنے میں اب بظاہر کچھ بھی مانع نہیں تھا۔ یہ خواب اپنی پسند کی ہاؤس جاب، راولپنڈی میڈیکل کالج کے سرجری کے پروفیسر رشید خواجہ صاحب اور میڈیسن کے پروفیسر حبیب صاحب کے ساتھ کام کرنے کا تھا۔ دونوں پروفیسر بھی مجھے بہت پسند کرتے تھے اور انتہائی نفیس لوگ تھے۔ درست معنوں میں نرم گو، شائستہ مزاج اور لائق پروفیسرز تھے۔ اُن کے وارڈز کا میرٹ بہت ہائی ہوتا تھا اور اس خواب کی دھنک رنگ تعبیر کا وقت آن پہنچا تھا۔
طب کے طلباء خوب واقف ہیں کہ سب نوجوان ڈاکٹر، ہاؤس جاب اپنے ہی کالج میں اور اپنے اساتذہ اور اپنے کلاس فیلوز کے ساتھ ہی کرنا چاہتے ہیں۔ میرے والدین البتہ شروع سے متفق نہیں تھے اور اس وقت صحیح معنوں میں اس بات کے متقاضی تھے کہ اب میری پڑھائی مکمل ہوگئی ہے اور مجھے گھر میں رہنا چاہئیے اور اس وقت لاہور میں ہاؤس جاب کی واحد جگہ لاہور جنرل اسپتال ہی تھا۔ اُن کی عمر بھی اس بات کی متقاضی تھی کہ میں آخری واپسی کے طور پر گھر لوٹ آؤں۔ پاپا کی ریٹائرمنٹ اور بڑھتی ہوئی معاشی ذمہ داریوں میں حصہ ڈالنا ایک ایسی ضرورت تھا جس سے کوئی بھی باضمیر نوجوان نظریں نہیں چُرا سکتا تھا۔
راولپنڈی میڈیکل کالج میں گزارے ہوئے پانچ سال میری زندگی کے بےحد شاندار اور زندگی سے بھرپور دن تھے۔ ایک اچھی درس گاہ میں بہت اچھے اساتذہ، ہم جماعتوں اور قریبی دوستوں کے ساتھ گزارے ہوئے خوش رنگ دن ابھی بھی یادوں میں دمکتے ہیں۔ زندگی کی بھیگتی ہوئی شام میں نوجوانی اور بے فکری کے دھنک رنگ دن ابھی بھی لو دے اُٹھتے ہیں۔
راولپنڈی چھوڑنا ایک بہت بھاری دل سے کیا گیا فیصلہ تھا لیکن ایک فرمانبردار بیٹے کے کئیے گئے اس فیصلے پر مجھے کبھی دُکھ نہیں ہوا۔ ہمارے لئیے بحثیت خاندان 1990 کی دہائی مشکل ترین تھی اور اس میں کئی صحت کے اور معاشرتی مسائل سے نمٹنا پڑا تھا۔ لیکن اُن دنوں نے مجھے ایک ایسا شخص بننے میں بہت مدد دی جس کیلئے اس کا خاندان اور رشتے بہت اہم رہے۔
پیچھے مُڑ کے دیکھیں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ کاندھے پر مسائل کی گٹھڑی تو تھی لیکن نوجوانی کے خوابوں نے سر اونچا رکھنے کا سلیقہ دیا اور دور پہاڑ کی چوٹی پر جلتا ہوا امید کا دیا جسم کو گرم رکھنے اور تاریک رات گزارنے میں بہت کارآمد رہا۔
اتنا ضرور سیکھا کہ مشکل ترین دنوں میں پامردی سے کھڑے رہیں تو اچھے دنوں کی امید کبھی ماند نہیں پڑتی۔ قوس قزح کیلئے بارش اور طوفان لازم و ملزوم ٹھہرتے ہیں اور یہی حکمت ہے جو عمر کے ساتھ ساتھ وافر حصہ لے کر آتی ہے۔
میں بھی مزید پڑھنے کے لئیے اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ امریکہ جانا چاہتا تھا لیکن میری والدہ مرحومہ کو یہ پسند نہیں آیا اور انہوں نے مجھے منع کر دیا۔ دُکھ تو پہنچا لیکن بغیر بحث کئیے میں نے اُن کی بات مان لی۔ میرے لئیے یہ دوسرا دھچکا تھا لیکن والدین کی نافرمانی کا تصور کم از کم اُس وقت ہمارے معاشرے میں نہیں تھا۔ خواب لپیٹ کر طاق نسیاں میں رکھ دئیے جاتے تھے اور یہ ایک اچھے خاندانی معاشرے کی نشانی تھے۔ میرے اندر کچھ تلخی تو پیدا ہوئی لیکن کم از کم وہ زبان پر نہیں آسکی اور نہ ہی چہرے مُہرے سے ظاہر ہوئی۔
غالباََ 1993 کے موسم گرما میں کہیں کسی مقام پر پاپا کی کوئی توقع پوری نہیں ہوئی اور وہ بہت خفا ہوئے۔ اپنے بیٹے پر وہ ناراضگی کا حق رکھتے تھے اور اس گرم دوپہر کو انہوں نے اپنے اُس حق کا استعمال خاصی فراخدلی سے کیا۔ مجھے بہت تکلیف ہوئی اور تین سے زیادہ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی مجھے مکمل طور پر یاد ہے کہ وہ ایک غلط فہمی تھی اور میرا قصور چنداں نہ تھا۔
مجھے لا محالہ بہت دُکھ ہوا اور کسی بے مہر لمحے میں یہ فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگی کہ کم از کم مجھے آج تو پاپا کو یہ کہنا ہوگا کہ میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ جوان اُبلتے ہوئے خون کا ساتھ دینے کو تیار بیٹھی زبان کو اُسی لمحے عقل نے تھام لیا۔ مجھے اپنے آپ کو سنبھالنے میں چند ہی ساعتیں لگیں اور میری زبان سے ایک بھی ایسا حرف نہیں پھسل سکا جو بعد میں حرف ندامت بن جاتا۔
خاموشی وقت کا کلام ٹھہری اور میں آہستگی سے اُٹھ کر اپنے کمرے میں آگیا۔ دروازہ بند کیا اور غُسل خانے کے شیشے کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا۔ شیشہ یہ بتا رہا تھا کہ میری آنکھیں سُرخ تھیں اور میں نے اللہ تعالیٰ سے خاموشی سے شکوہ کیا کہ آج صرف آپ کے حکم کی وجہ سے میں نے جواب نہیں دیا کیونکہ والدین کے متعلق آپ کا حُکم واضح ہے لیکن میرے ساتھ واضح زیادتی ہوئی ہے۔ نوجوانی میں اُسی تکلیف دہ لمحے میں یہ بھی ذہن میں آیا کہ آج کے دن کی اور اس تکلیف کی کبھی تلافی نہیں ہوگی۔
وہ دن اور بہت سے دن، ھفتے اور ماہ و سال گزر گئے۔ واقعہ ذھن سے محو ہوگیا۔ زندگی کے بہت سے ورق پلٹ گئے۔ والدہ صاحبہ کینسر کا شکار ہوئیں اور وفات پاگئیں۔ وفات سے پہلے وہ علاج کیلئے امریکہ بھی آئیں اور انہیں امریکہ اچھا لگا۔ اُنہیں میری خواہش کا علم تو تھا اور انہوں نے مجھے نہ صرف امریکہ آنے کی اجازت دی بلکہ اُن کی وفات کے بعد پاپا نے اپنی زندگی کے آخری چھ سالوں کا زیادہ تر حصہ میرے ساتھ ہی گزارا۔
وفات سے بالکل چند ہی دنوں پہلے جب پاپا بہت بیمار تھے اور چلنے پھرنے سے قاصر تھے، مجھے کہیں اُن کا کچھ خیال کرنا ہوا تو انہوں نے میری زندگی کے بہترین لفظ کہے۔ کہنے لگے میری خواہش ہے کہ میری موت تمہارے گھر ہو۔ جواب میں میرا جملہ تو کچھ بے ربط سا تھا البتہ الفاظ مربوط تھے لیکن میں نے اُن کا چہرہ چُوم لیا۔ اُس دن ہم دونوں ہی خوب جانتے تھے کہ اب باپ اور بیٹے کی رفاقت کا اختتام بہت قریب ہے۔ وہ منسی انڈیانا میں آسودۂ خاک ہیں اور امبر نے مجھے ہمیشہ کہا کہ انکل آپ سے بہت محبت کرتے تھے اور آپ کے پاس رہنا چاہتے تھے۔ کوشش کریں باقی زندگی یہاں گزاریں۔
خصوصاََ گرمیوں میں جب عصر پڑھ کر مسجد سے نکلوں تو اُن کی قبر گھر کے راستے میں ہی آتی ہے اور رکنا آسان ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے اس قبرستان میں دفن ہونے والے وہ دوسرے شخص تھے۔ اُن کی قریب ترین ہمسائی ایک خاتون ہیں جن کے بچوں نے تو اسلام چھوڑ دیا تھا لیکن وہ بحثیت مسلمان فوت ہوئیں اور مرنے سے پہلے یہ وصیت کر گئی تھیں کہ اُن کی آخری رسومات بحثیت مسلمان ہی ادا کی جائیں۔ وہ بھی وہاں ہی دفن ہیں۔
آئیووا میں میں بحثیت میڈیکل ڈائرکٹر اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا تھا لیکن یہ احساس ہو چلا تھا کہ ہم شکاگو سے بہت دور ہیں اور پاپا کیلئے پاکستان آنا جانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ہم شکاگو کے پاس ریاست انڈیانا میں آگئے۔ جس جگہ میں نے کام شروع کیا وہ ایک مقابلتاََ محدود آرگنائزیشن تھی لیکن کچھ ایسا ہوا کہ اگلے چند سالوں میں وہ بہت پھیل گئی۔ میں میڈیکل ڈائرکٹر بن گیااور اس کے ساتھ ساتھ انڈیانا یونیورسٹی کا ایسوسی ایٹ پروفیسر اور اسپتال کا ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ بھی بنا۔
کاروباری تنظیم بہت بڑی ہوگئی اور بورڈ نے یہ فیصلہ کیا کہ اتنی بڑی تنظیم کو چلانے کیلئے ایک چیف میڈیکل آفیسر ہونا چاہئیے جس کے نیچے پانچ یا چھ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہوں گے۔ اتنی بڑی آرگنائزیشن کے چیف میڈیکل آفیسر کے پاس ڈپلومیٹ امریکن بورڈ کے ساتھ ساتھ عموماََ ایم بی اے یا ایم پی ایچ یا پی ایچ ڈی اہم مانی جاتی ہے۔ مجھے اندازہ تھا اور میں نے امبر سے بھی اس بات کا اظہار کیا کہ میری تو کسی قسم کی کوئی امید ہی نہیں ہے ہاں خواہش بہت تھی لیکن حیران کُن طور پر بورڈ میٹنگ کے بعد معلوم ہوا کہ میرا نام بھی منظوری کیلئے زیر غور آیا تھا اور دو ایک انٹرویو تو ہوئے لیکن اُس کے بعد مجھے چیف میڈیکل آفیسر بنا دیا گیا۔
یقین جانئیے کہ ایسا لگا کہ کسی نے زندگی کی کتاب کھولی اور پچھلے دنوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے 1993 کی اُس گرم دوپہر کے بھولے ہوئے تکلیف دہ صفحے کو کھولا اور اُس پر میرا ہاتھ رکھ دیا۔ ایسا ہی معلوم ہوا کہ جیسے کسی نے اس بھولے بسرے واقعے کو یاد دلایا اور شاید کہا کہ یہ اُس دن کا بدلا ہے جس دن تُم اپنے والد کے سامنے خاموش رہے تھے۔
پھول جو زمین سے لیتے ہیں اس سے زیادہ لوٹا دیتے ہیں۔
یہ خواہشات کا پنچھی عجیب ہے ہر روز
نئی فضائیں نیا آب و دانا چاہتا ہے

