Wifaq Aur Gul Plaza
وفاق اور گل پلازہ

کراچی میں میری رہائش سے محض ڈیڑھ کلومیٹر کا فاصلہ، ایم اے جناح روڈ پر قائم کراچی کا مشہور شاپنگ سینٹر گل پلازہ، سترہ جنوری دوہزار چھبیس کی شب ساڑھے دس بجے، آگ کے شعلے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ عمارت، جو برسوں سے شہر کی روایت کا حصہ تھی، اپنی دکانوں، دکان داروں اور گاہکوں سمیت جل کر خاکستر ہو رہی تھی۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ کراچی جائیں اور زینب مارکیٹ کا چکر نہ لگائیں۔ اس شام ہم چند دوستوں نے بوہری بازار کے سامنے فیم بائیٹ ریسٹورینٹ پر ملنے کا پروگرام بنایا۔ وہاں سے چائینیز کھانا کھا کر غالباً رات ساڑھے نو بجے ہم زینب مارکیٹ پہنچے اور فقط ایک گھنٹہ بعد پورے زینب مارکیٹ میں ہاہا کار مچ گئی کہ "گل پلازہ میں آگ لگ گئی"۔ ہم تینوں بھی فوراً گاڑی میں سوار ہوئے اور گل پلازہ کا رخ کیا۔ آگ لگ کر ابھی صرف پندرہ منٹ ہوئے تھے اور فائر بریگیڈ کا عملہ جائے وقوع پر موجود تھا اور محدود وسائل اور آلات کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی ذمہ داری نبھارہا تھا۔ بدقسمتی سے میں نے گل پلازہ کو اپنی آنکھوں سے جلتے دیکھا۔ شعلے ایسے لپک رہے تھے جیسے آس پاس کی ہر شے کو جلا کر خاکستر کردیں گے۔ ذہن میں ماضی گھومنے لگا۔ وہی گل پلازہ جہاں سن دوہزار میں، میرا سینکڑوں بار آنا ہوا تھا۔ بہنوں کی شادی کی خریداری کے لیے گل پلازہ کے تقریباً روز ہی چکر لگا کرتے تھے۔
گل پلازہ محض ایک شاپنگ سینٹر نہیں تھا۔ اس کی انفرادیت یہ تھی کہ شادی کی بری سے لے کر جہیز کی ہر چھوٹی بڑی ضرورت ایک ہی چھت کے نیچے، نسبتاً کم وقت اور مناسب داموں میں پوری ہو جاتی۔ اسی وجہ سے یہ پلازہ کراچی کے متوسط طبقے، خصوصاً خواتین کے لیے سہولت اور اعتماد کی جگہ سمجھا جاتا تھا۔ ہر فرد یہاں نئے سفر کا خواب لیے، کپڑوں سے لے کر سجاوٹ کے سامان اور الیکٹرک مصنوعات کی محض خریداری نہیں بلکہ خوشیوں کی تیاری کے لیے آتا تھا۔ گل پلازہ میں جلنے والی چیزیں، صرف دکانوں کا مال نہیں، بلکہ ان گنت خواب، امیدیں اور برسوں کی جمع پونجی بھی تھیں۔ اس رات آگ نے صرف ایک عمارت کو نہیں جلایا بلکہ شہر کی ایک زندہ یاد، ایک معاشی سہارا اور بے شمار خاندانوں کی محنت کو راکھ میں بدل دیا۔ ایم اے جناح روڈ پر اٹھتا ہوا دھواں دور دور تک نظر آ رہا تھا، مگر اس سے کہیں زیادہ گہرا دھواں اُن دلوں میں بھر گیا جن کا روزگار، سرمایہ اور مستقبل اس پلازے سے وابستہ تھا۔
آگ لگنے کے تقریباً تیرہ گھنٹے بعد میں دوبارہ گل پلازہ کی طرف گئی تب بھی آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا تھا اور ہر جانب دھویں کے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے۔ گل پلازہ جانے والی سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کیا جا چکا تھا جس کی بنا پر متبادل رستوں پر رش مزید بڑھ گیا تھا۔ فائر فائیٹرز کا عملہ اپنے نوجوان ساتھی فرقان علی شہید، کی ناگہانی موت کے باوجود ابھی تک اپنا فرض نبھا رہے تھے۔ فرقان علی جو گل پلازہ میں لوگوں کو بچاتے اور شعلوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کر گیا تھا۔
گل پلازہ میں بارہ سو دکانیں قائم تھیں، جہاں ہر وقت ہزاروں خریداروں کا ہجوم رہتا تھا۔ ذہن میں یہی خوف تھا کہ نہ جانے کتنی جانیں زندہ جل کر یا دم گھٹ کر فنا ہوگئی ہوں گی۔ رفتہ رفتہ آگ سے جڑی کئی ہولناک خبریں سامنے آرہی تھیں۔ دکان داروں اور خریداروں کے اہلِ خانہ اور رشتہ دار اپنے پیاروں کی سلامتی کی آس لگائے در بدر پھر رہے تھے، مگر افسوس کہ ہر خوش خبری کی امید ختم ہوتی نظر آرہی تھی۔
گل پلازہ میں لگنے والی آگ کو اگر محض ایک "حادثہ" کہا جائے تو یہ سچ پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہوگا۔ یہ آگ کسی ایک شارٹ سرکٹ، کسی ایک چنگاری کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ ایک پورے نظام کی ناکامی کا منطقی انجام ہے وہ نظام جو انسانی جان کو کاروبار، کرائے اور منافع سے کم تر سمجھتا ہے۔
تحقیقات جاری ہیں، وجوہات کا تعین کیا جا رہا ہے، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
ہر المناک حادثے کے بعد واقعی ایسے سرکاری بیانات سن سن کر عوام کے کان پک چکے ہیں۔ کیا کبھی ان تحقیقات کا کوئی نتیجہ نکلا؟ کیا کبھی کسی بڑے پلازے کے بلڈرز و مالکان، نقشہ منظور کرنے والے افسران، یا حفاظتی سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے اداروں کو واقعی سزا ملی؟ جواب ہے، نہیں۔
میں دیکھ رہی تھی کہ ایم اے جناح روڈ پر تمام کمرشل مراکز گل پلازہ کی طرح صرف ایک چنگاری کی مار ہیں۔ ہر بلڈنگ پر لٹکتے برقی تاروں کے بے ترتیب گچھے کسی بھی وقت بارود بن سکتے ہیں۔ لیکن کے الیکٹرک کے کرتا دھرتا کی آنکھوں پر تو جیسے پٹی بندھی ہے۔
ملک میں گل پلازہ جیسے کمرشل مراکز میں فائر سیفٹی قوانین کاغذوں میں تو موجود ہوتے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ فائر الارم غیر فعال، آگ بجھانے کے آلات ایکسپائر، ہنگامی حالات میں باہر نکلنے کے رستے اول تو ہوتے نہیں اور اگر ہوں تو انھیں بھی گودام بنا دیا جاتا ہے۔ کیونکہ بلڈرز مراکز تعمیر کرتے ہوئے زیادہ سے زیادی منافع کی ہوس میں پارکنگ کے لیے مختص بیسمنٹ تک کو ڈربہ نما دکانوں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
مجھے یاد ہے آج سے پچیس سال پہلے بھی گل پلازہ کی سیڑھیاں اتنی تنگ اور غیر معیاری تھیں کہ ذرا سے رش میں نکلنا محال ہوتا تھا، تو ہنگامی حالت میں لوگوں کا نکلنا تو ناممکن ہوگیا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب موجود نہیں تھا تو پلازہ کو کمرشل سرگرمیوں کی اجازت کس نے دی؟ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی؟ بلدیہ؟ فائر ڈیپارٹمنٹ؟ یا ان سب کی خاموش ملی بھگت نے مل کر اس سانحے کی بنیاد رکھی؟ لیکن ہر الزام کو محض حکومت پر دھر دینا کیا حقیقت سے فرار نہیں؟ بطورِ عوام کبھی ہم نے اپنے رویّوں کا جائزہ لیا ہے؟ جو دکان دار روزانہ انہی دکانوں سے لاکھوں روپے کماتے ہیں، کیا وہ ہر دکان میں ایک آگ بجھانے کا آلہ رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے؟
تاجر برادری متحد ہو کر"کے الیکٹرک" کی مجرمانہ کوتاہیوں پر سوال کیوں نہیں اٹھاتی؟ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو ان کی لاپرواہیوں پر کٹہرے میں کیوں نہیں لایا جاتا؟ دکان دار کیوں احتیاطی تدابیر سے گریز کرتے ہیں؟ یہ وہ تمام سوال ہیں جن کے جواب تلاش کرنے کے بجائے ہر شخص حکومت کو لتاڑ رہا ہے۔ صوبائی حکومت کی بدانتظامی پر تنقید یا ان کی کارگردگی پر سوال اٹھانا ہر شہری کا حق ہے لیکن ایسا ہی کوئی واقعہ کسی اور شہر میں واقع ہو تو سب کو کیوں سانپ سونگھ جاتا ہے۔ سانحہ اقلیتوں کی بستیاں جلانے، بلاسفیمی کے جھوٹے مقدمات میں پھنسانے، کھلے مین ہول میں گرنے، آگ میں جھلس جانے یا مری میں برف باری سے زندہ درگور ہونے کا ہو شہروں کو وفاق کے حوالے یا اٹھارویں ترمیم کو ختم کرنا حل نہیں صرف فتنہ پروری کو ہوا دینا ہے۔
شاید کراچی کی نئی نسل اس شہر کے پر آشوب دور سے واقف نہیں لیکن جو اس دور میں پل کر بڑے ہوئے وہ کبھی کراچی کے آسیب زدہ وقت کو بھول نہیں سکتے یہ وقت آپس میں تفرقے کا نہیں مل جل کر اپنے شہر کو سنبھالنے کا ہے۔ گل پلازہ جلتا دیکھ کر ایک آہ نکلی کہ کاش اگر ہر دکان میں ایسے آلے موجود ہوتے تو آگ لگنے کی صورت میں فوری کاروائی کی جاسکتی تھی۔ ایسے سانحوں سے نمٹنے کے لیے حکومت کو سنجیدہ قانونی کارروائی کرنا ہوگی کیونکہ دیگر شہروں میں حالیہ سروے بتارہے ہیں کہ راول پنڈی اور لاہور جیسے شہروں کے تجارتی مراکز کے حالات کراچی سے مختلف نہیں۔ ان مراکز کے بلڈرز اور دکان داروں کو ان آلات کو استعمال کرنے کی تربیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
دوسری جانب فائر بریگیڈ کے پاس وسائل کی کمی بھی صرف کراچی نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ حتی کہ دارلحکومت تک میں جدید آلات و مشینری ناپید ہیں۔۔ جو ہمارے نظام کی ناکامی ہے۔ ہر سانحے کے بعد فائر بریگیڈ کی ناکافی مشینری، یا محدود رسائی پر ہمیشہ سوالات اٹھائے جاتے ہیں لیکن ان اداروں کو جدید مشینری اور وسائل مہیا نہیں کیے جاتے۔ حکومت کا کام حادثے کے بعد افسوس کرنا نہیں، حادثے سے پہلے روک تھام کرنا ہوتا ہے۔ ہر سانحہ ہمیں ہر بار یہ یاد دلا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں سانحے اب حادثے نہیں، معمول بن چکے ہیں۔ کیونکہ یہاں احتساب نہیں ہوتا۔ سزا نہیں دی جاتی۔ جب تک عمارت کے مالکان، اجازت دینے والے افسران اور نگرانی کے ذمہ دار ادارے کٹہرے میں نہیں آئیں گے، تب تک گل پلازہ آخری سانحہ نہیں ہوگا۔
گل پلازہ تو راکھ ہوگیا۔ جلد یہ سانحہ بھی فائلوں میں دفن کر دیا جائے گا لیکن یہ انتظامیہ کی صرف نااہلی نہیں، ایک اجتماعی جرم ہے جس کی آگ کل کسی اور پلازہ، کسی اور بازار اور کئی اور زندگیوں کو جلا ڈالے گی۔
بہ شُکریہ: وی نیوز

