Wednesday, 07 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sanober Nazir
  4. Mohtarma Maryam Nawaz Ke Naam Aik Kutiya Ki Faryad

Mohtarma Maryam Nawaz Ke Naam Aik Kutiya Ki Faryad

محترمہ مریم نواز کے نام ایک کتیا کی فریاد

محترمہ مریم نواز،

میں کوئی ووٹ بینک نہیں،

نہ میرے ہاتھ میں پلے کارڈ ہے،

نہ میرا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہے اور نہ ہی ٹی وی اسکرین تک میری رسائی ہے۔

میں خدا کی وہ مخلوق ہوں جو انسانوں سے بہت پہلے اس دھرتی ماں پر موجود تھی۔

میں وہ مخلوق ہوں جس نے انسان کو اپنا دوست سمجھا، جس نے اس کے قدموں کے ساتھ چلنا سیکھا، اس کی بستیوں میں

اپنا ٹھکانہ بنایا۔

میں ایک کتیا ہوں ایک ماں، جس نے چند روز پہلے ننھے بچوں کو جنم دیا تھا۔

کئی دن کی بھوکی، سردی سے ٹھٹھرتی زچہ تھی۔ میرے ننھے بچے دودھ کی ایک ایک بوند کے لیے میرے تھنوں سے چمٹے ہوئے تھے کہ ایک شخص گوشت کا لوتھڑا لیے قریب آیا وہی شخص جسے آپ نے ہم بے زبانوں کو زہر دینے کا حکم صادر کیا ہے۔ آپ بھی تو ماں ہیں لیکن غالباً اب آپ ممتا کے مرتبے سے زیادہ وزیراعلی کے عہدہ پر فخر کرتی ہیں۔ ادھر میں نقاہت ماری، میں نے اسے فرشتہ سمجھا اور پلک جھپکتے ہی وہ لقمہ نگل لیا۔ مگر اب میرا جسم جل رہا ہے۔ منہ سے جھاگ بہہ رہی ہے، وقفے وقفے سے جھٹکے لگتے ہیں۔

ایسے دردناک کہ بچے جنتے وقت بھی اتنی اذیت محسوس نہ ہوئی تھی۔ میرے ننھے اب بھی میرے تھنوں سے چمٹے ہیں، مگر بہت جلد وہاں صرف ایک سرد جسم رہ جائے گا۔ جانتی ہوں کہ میں محض چند ساعتوں کی مہمان ہوں۔

محترمہ مریم نواز صاحبہ،

ہم وہ بے زبان جانور ہیں جو انسانوں کے جھوٹے کھانوں کی تلاش میں کوڑے دانوں کے گرد منڈلاتے ہیں، دربدر بھٹکتے ہیں، بھوک اور پیاس کو اپنی تقدیر سمجھ لیتے ہیں۔

یہ سراسر بہتان ہے کہ ہم پاکستان کے انسانوں سے نفرت کرتے ہیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے پاکستان کی اکثریت ہم سے نفرت کرتی ہے۔

بلا وجہ ہمیں پتھروں سے مارا جاتا ہے، لکڑیوں سے ہانکا جاتا ہے، کھولتے پانی سے ہمارے جسموں کو جھلسایا جاتا ہے، اینٹوں سے ہمارے سر اور پیٹ کو کچلا جاتا ہے اور جب اس پر بھی انسانوں کی تسکین پوری نہیں ہوئی تو۔۔

تو، آپ کے شاہانہ حکم کے سائے میں ہمیں زہر دے کر مارا جا رہا ہے۔ آپ تو مائی باپ ہیں، مریم صاحبہ۔ آپ شاید کبھی بھوک کی اس تڑپ کو محسوس نہ کر سکیں جو دنوں پیٹ میں بل کھاتی ہے، لیکن ہم کئی کئی دن بھوکے اور پیاسے رہتے ہیں۔ جب آپ کی زہریلی مہم کے کارندے زہر میں بجھی بوٹی یا روٹی کے چند ٹکڑے ہماری طرف اچھالتے ہیں تو ہم سادہ لوح یہ نہیں جانتے کہ یہ غذا نہیں، موت کا پروانہ ہے۔ ہم دم ہلاتے ہیں، اچھلتے ہیں، اپنے محسن کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور وہ لقمہ اچک لیتے ہیں جس میں ہماری اذیت لپٹی ہوتی ہے۔

پھر شروع ہوتی ہے ایک خوفناک، اذیت ناک تڑپ طویل، بے آواز، تڑپ جسے کوئی اسکرین نہیں دکھاتی۔ آپ کے صوبے میں خاموشی سے ایک مجرمانہ مہم جاری ہے کتوں کو زہر دے کر مار دینے کی مہم۔ نہ عدالت، نہ جرم کی تحقیق، نہ سزا بس ایک لقمہ اور ایک دردناک موت۔

ہم بھونکتے ہیں تو کہا جاتا ہے ہم شہر کے دشمن ہیں، ہم بیماری ہیں، ہم گندگی ہیں۔ کیا ماں ہونا بیماری ہے؟ کیا بھوک جرم ہے؟ کیا زندہ رہنے کی خواہش گناہ ہے؟ میری جیسی کتنی ہی ماؤں نے زہر کھانے کے بعد اپنے بچوں کو آخری بار زبان سے سہلایا۔

اور آپ کی حکومت کے زیرِ سایہ دودھ پیتے بچوں کی ماؤں کو بے دردی سے مار دیا گیا۔

محترمہ مریم نواز،

میں کسی ایک کتیا کا نام نہیں۔ میں اس زمین کی وہ بیٹی ہوں جسے قدیم زمانوں میں ماں کہا جاتا تھا جس کے پیٹ سے انسان، جانور، فصل اور دعا ایک ساتھ جنم لیتے تھے۔ میرے تھن صرف بچوں کے لیے نہیں۔

یہ اس ازلی ماں کی یاد ہیں جسے کبھی دیوی کہا جاتا تھا دیمتر، گایا، ماں دھرتی۔

جب دودھ پیتے بچوں اور ان کی ماؤں کو زہر دے کر مارا جاتا ہے تو یہ صرف جانوروں کی ہلاکت نہیں ہوتی، یہ مادری قوت کا قتل ہوتا ہے۔

محترمہ، مریم صاحبہ، مانا کہ آپ لاہور کو خوب صورت بنانے کے لیے بہت جتن کر رہی ہیں، لیکن کیا استنبول ایک حسین شہر نہیں؟ کیا ترکی مسلم ملک نہیں؟ وہاں کے لوگ اپنے آوارہ کتوں کی بھی ویسی ہی قدر کرتے ہیں جیسی اپنے پالتو جانوروں کی۔ ان کی حکومت ویکسین لگواتی ہے، نیوٹر کرواتی ہے، شیلٹر فراہم کرتی ہے تو کیا وہ غیر مسلم ہو گئے؟ یا ہماری وجہ سے استنبول بدصورت ہوگیا؟

ہمیں مارنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ جو زمین ماں کو زہر دے وہ ایک دن اپنی فصلوں میں زہر کاٹتی ہے۔ قدیم قصوں میں لکھا ہے کہ جب ماں دیوی روئے تو دریا رخ بدل لیتے ہیں اور جب اس کا خون زمین پر گرے تو شہر ویران ہو جاتے ہیں۔ ہم چیختے نہیں، ہم بددعا نہیں دیتے ہم بس خاموشی سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں۔ لیکن دھرتی ماں سب کچھ یاد رکھتی ہے۔

محترمہ مریم نواز صاحبہ، طاقت کا امتحان کمزور کو مارنا نہیں، بلکہ اس کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔ جو حکمران ماں کو دشمن سمجھے وہ تاریخ میں ہمیشہ قاتل ہی کہلاتا ہے۔ یہ خط کسی کتیا کا نہیں یہ اس ازلی دیوی کی صدا ہے جسے ہر دور میں نیا نام دے کر مارا جاتا رہا ہے۔

فقط
ایک ماں

Check Also

Kamzor Difa, Khokhle Naare Aur Venezuela

By Abdul Hannan Raja