Tuesday, 09 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Saleem Zaman
  4. Zehr, Khoobsurti Aur Sifarat Kari Ka Pur Asrar Khel

Zehr, Khoobsurti Aur Sifarat Kari Ka Pur Asrar Khel

زہر، خوبصورتی اور سفارت کاری کا پراسرار کھیل

قدیم ہندوستان کی تاریخ میں "ویش کنیا" (زہر کی دوشیزہ) کا تصور سیاست اور جنگ کا ایک ایسا پُرراسرار اور خوفناک ہتھیار تھا، جسے موریا سلطنت کے بانی چندر گپت موریا اور ان کے چلاک وزیر چانکیہ کوٹلیہ نے دشمنوں کو پامال کرنے کے لیے کثرت سے استعمال کیا۔ یہ لڑکیاں کوئی عام جاسوس نہیں تھیں، بلکہ انہیں بچپن سے ہی مختلف اقسام کے زہر کی قلیل مقدار خوراک میں ملا کر دی جاتی تھی، یہاں تک کہ ان کا مادی جسم زہر کا عادی ہو جاتا اور ان کے جسمانی رطوبتیں، پسینہ اور تھوک خود ایک جان لیوا زہر بن جاتے۔ ان ویش کنیاؤں کو رقص، موسیقی اور ترغیب و تحریص کے فن میں ماہر کیا جاتا، جو بغیر کسی فوج کشی کے حریف بادشاہوں، باغی وزراء اور جرنیلوں کے کیمپوں میں داخل ہوتیں اور ایک قاتلانہ بوسے یا کھانے میں زہریلے تھوک کی آمیزش سے بڑے سے بڑے دشمن کو خاموشی سے موت کی نیند سلا کر سلطنت کا راستہ صاف کر دیتیں، جس کی وجہ سے انہیں قدیم دور کا سب سے خطرناک "خفیہ ہتھیار" مانا جاتا تھا۔

زمانہ بدل چکا ہے اور دنیا کی بساط اور ہتھیار بالکل تبدیل ہو چکے ہیں، لیکن اقتدار اور غلبے کی یہ زہریلی علامات اب مادی خوراک کے بجائے شاطرانہ سفارتی چالوں اور سیاسی بحرانوں کی صورت میں نظام کے اندر منتقل کی جاتی ہیں۔ جدید دنیا کے اس بدلے ہوئے پیراڈائم میں جب سیاسی مبصرین ان پوشیدہ علامات کا سراغ لگاتے ہیں، تو ان کی نظریں ایک ایسی شخصیت پر آ کر ٹک جاتی ہیں جن کا ماضی اس قدر جارحانہ اور پُرتجسس رہا ہے کہ تاریخ کے صفحات گواہی دیتے ہیں کہ وہ اپنے سٹریٹیجک اہداف کے لیے ماضی میں کیسے متحرک رہی ہیں۔

یہ شخصیت امریکی محکمہ خارجہ کی سینیئر ترین منسٹر کونسلر اور قائم مقام سفیر نٹالی بیکر (Natalie Baker) ہیں۔ وہ ایک پختہ عمر کی انتہائی تجربہ کار سفارت کار ہیں، جنہیں عربی اور فرانسیسی سمیت دنیا کی اہم ترین زبانوں پر مکمل عبور حاصل ہے اور یہی لسانی مہارت ان کی انٹیلیجنس اور رسائی کو دشمن ملکوں کی جڑوں تک پھیلا دیتی ہے۔ واشنگٹن انہیں کسی عام بیوروکریٹ کے بجائے ایک "بحران کی ماہر سفارت کار" (Crucible Diplomat) کے طور پر دنیا کے ان مشکل ترین، ہارڈ کور اور حساس ترین علاقوں میں تعینات کرتا ہے جہاں نظام بدل رہے ہوں یا حکومتیں گر رہی ہوں۔

وہ 2011ء کے خونی انقلاب اور خانہ جنگی کے دوران لیبیا میں فرنٹ لائن پر موجود رہیں، انہوں نے کویت میں رہ کر عراق سے امریکی افواج کے عجلت پسندانہ انخلا کے اس حساس آپریشن پر پینٹاگون کے ساتھ کام کیا جس کے بعد پورے خطے میں داعش کا ظہور اور بدترین تباہی پھیلی اور وہ دبئی میں "ایران ریجنل پریزنس آفس" کی ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر براہِ راست تہران کے اندرونی حالات اور حکومت مخالف نیٹ ورکس کی نگرانی کرتی رہیں۔ نٹالی بیکر کی تاریخِ پیدائش اور درست عمر کو امریکی سیکیورٹی قوانین کے تحت انتہائی خفیہ رکھا جاتا ہے، جو خود ان کے پروفائل کی حساسیت اور ایک ہارڈ کور حکمتِ عملی ساز کے طور پر ان کے کردار کو مزید پراسرار اور خطرناک بنا دیتا ہے۔

لیکن اب اس تصویر کا دوسرا رخ دیکھیے، جہاں یہ سخت گیر اور تباہ کن علاقوں کی ماہر سفارت کار اسلام آباد میں ایک ہائی پروفائل وی آئی پی ریسیپشن کی میزبان بنی نظر آتی ہیں۔ ان کے طویل سٹریٹیجک تجربے کے باوجود اس محفل میں ان کی فٹنس اور جاذبِ نظری کسی نوجوان خاتون کی طرح تھی جو لاشعوری طور پر پوری محفل کا مرکزِ نگاہ بنی ہوئی تھیں۔ اس محفل کی اصل کہانی ان کے ظاہری انداز میں نہیں، بلکہ ان کی غیر معمولی اور کمانڈنگ باڈی لینگویج میں چھپی تھی۔ انہوں نے تقریب میں آنے والے تمام مہمانوں کو خود ریسیو کیا، ہر ایک پاکستانی وزیر اور سیاستدان کا ہاتھ تھام کر ان کے ساتھ گہری گفتگو کی اور گفتگو کے دوران وہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مخاطب ہوتی رہیں۔ یہ تمام علامات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ اس وقت مکمل طور پر "In Command" ہیں، وہ ہر چیز کو بہت گہری اور پارکھ نظر سے دیکھ رہی ہیں اور سامنے کھڑی اشرافیہ کو اپنے نفسیاتی حصار میں لے چکی ہیں۔ اسلام آباد میں اس دن شدید بارش اور موسم انتہائی خراب تھا، لیکن ہمارے مقتدر حلقوں پر ان کے اس سحر کا یہ عالم تھا کہ نٹالی بیکر کو خود اپنی تقریر میں یہ الفاظ کہنا پڑے کہ "موسم کی اس شدید خرابی کے باوجود آپ سب کا اتنی بڑی تعداد میں یہاں پہنچنا ہمارے لیے خوش آئند ہے"۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے نزدیک ہمیں اس محفل کے مروجہ اور سادہ طرزِ عمل پر جانے کے بجائے نٹالی بیکرکے اصل سٹریٹیجک پلان کو دیکھنا ہوگا۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ خاتون ماضی میں جہاں جہاں رہیں اور جن جن خطوں سے نکلیں، ان خطوں کے ساتھ بعد میں کیا ہوا اور وہاں کیسی تباہی مچی۔ نٹالی بیکر کی اسی سابقہ سفارت کاری اور ریکارڈ کا اگر گہرا تجزیہ کیا جائے، تو ان کے اس حالیہ جارحانہ روپ اور مقتدرہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے سے خطے کے لیے دو بڑے متوقع طوفانوں کے نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔

پہلا متوقع اشارہ یہ ہے کہ ملکی سیاست کے اندر آنے والے چھ ماہ میں شدید ترین ہلچل اور سیاسی زلزلے آ سکتے ہیں، جس میں اقتدار کے مہرے ایک بار پھر الٹ پیٹ دیے جانے کا امکان ہے اور دوسرا، اس سے بھی زیادہ ہولناک اشارہ یہ ہے کہ ملک کے اندر شدید ترین دہشت گردی کی ایک نئی اور منظم لہر متوقع ہو سکتی ہے، جو ہمارے داخلی امن اور سیکیورٹی کے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دے۔ یہ دونوں خطرناک نتائج نٹالی بیکرکے ماضی کے ٹریک ریکارڈ سے بالکل مطابقت رکھتے ہیں اور یہ اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ اگر یہاں واشنگٹن کی بات یا ان کا سکرپٹ نہ مانا گیا، تو اس بساط کے اندر اس طرح کی شدید ترین ہلچل متوقع ہو سکتی ہے۔

ہم یہاں ایران یا افغانستان کی بات نہیں کر رہے، وہ تو اس بساط کے بیرونی مہرے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت اصل بات اور اصل نشانہ خود پاکستان ہے اور اس پورے کھیل کا مرکزِ ثقل یہی ملک ہے۔ جب نٹالی جیسی کرائسز مینیجر اسلام آباد کے مرکز میں بیٹھ کر پوری مقتدرہ کے ہاتھ تھام کر ان کی آنکھوں میں جھانک رہی ہوں، تو اس کا حتمی "اینڈ گیم" (End Game) پاکستان کے اندرونی سیاسی، دفاعی اور جغرافیائی نقشے پر اثر انداز ہونے جا رہا ہے۔ اللہ ملک پاکستان کی خصوصی حفاطت فرمائیں اور فتنوں سے امان نصیب فرمائیں۔

Check Also

Karvan e Khaak, Taj o Kafan Ke Darmiyan

By Aftab Alam