Rizq Ka Ziyan
رزق کا زیاں

جدید دنیا جہاں ایک طرف ٹیکنالوجی کے عروج اور وسائل کی بہتات کا دعویٰ کرتی ہے، وہیں "خوراک کا ضیاع" (Food Waste) اس صدی کا سب سے بڑا انسانی اور معاشی المیہ بن کر ابھرا ہے۔ ہم روزانہ ریستورانوں اور تقریبات میں جو کھانا اپنی پلیٹوں میں چھوڑ دیتے ہیں، وہ محض ایک لقمہ نہیں بلکہ ایک عظیم تر معاشی قتلِ عام ہے۔
اپریل 2026 کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، اس وقت عالمی سطح پر خوراک کے ضیاع کی صورتحال درج ذیل ہے:
1۔ معاشی نقصان اور مالیاتی بوجھ
ٹریلین ڈالر کا خسارہ: 2026 کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق، عالمی سطح پر ضائع ہونے والی خوراک کی کل مالیت 1.1 ٹریلین (گیارہ سو ارب) ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ رقم دنیا کی کئی بڑی معیشتوں کے مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔
سپلائی چین کا ضیاع: صرف فارم سے مارکیٹ تک پہنچنے کے دوران 550 ارب ڈالر کی خوراک خراب یا ضائع ہو جاتی ہے، جس کا بوجھ براہِ راست صارف کی جیب پر مہنگائی کی صورت میں پڑتا ہے۔
2۔ قحط زدہ ممالک اور انسانی المیہ
سب سے زیادہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ضائع شدہ کھانا کتنوں کی زندگی بچا سکتا تھا:
فاقہ کشی کا تقابل: اس وقت دنیا میں تقریباً 1.1 ارب لوگ شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔
قحط زدہ خطوں کی کفالت: اگر صرف عالمی سطح پر ضائع ہونے والے کھانے کو بچا لیا جائے، تو یہ دنیا کے تمام قحط زدہ ممالک (جیسے سوڈان، یمن اور غزہ وغیرہ) کی پوری آبادی کو اگلے تین سال تک مکمل خوراک فراہم کرنے کے لیے کافی ہے۔ یعنی ہم وہ کھانا کچرے میں پھینک رہے ہیں جو کروڑوں زندگیاں بچا سکتا تھا۔
3۔ وسائل کا بے رحمانہ زیاں
آبی ذخائر: وہ کھانا جو ہم کبھی چکھتے بھی نہیں، اسے اگانے میں سالانہ 250 کیوبک کلومیٹر میٹھا پانی استعمال ہوتا ہے۔ ایک کلو چاول کے ضیاع کا مطلب 3000 لیٹر پانی کو نالی میں بہانا ہے۔
زمین اور ایندھن: اس ضائع شدہ خوراک کی پیداوار کے لیے دنیا کے کل زرعی رقبے کا 32 فیصد حصہ استعمال ہوتا ہے۔ اس پورے عمل میں سالانہ 50 ارب ڈالر کا ایندھن (Fuel) صرف ہوتا ہے، جو کہ براہِ راست توانائی کے عالمی بحران میں اضافے کا باعث ہے۔
4۔ ماحولیاتی قیمت
خوراک کا ضیاع ماحول کے لیے ایک خاموش قاتل ہے۔ کچرے میں سڑتا ہوا کھانا گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا 10 سے 12 فیصد ذمہ دار ہے، جو 2026 میں بڑھتی ہوئی عالمی تپش (Global Warming) کی ایک بڑی وجہ ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہم اپنی پلیٹوں میں کھانا نہیں، بلکہ کسی کا حق، ملک کا ایندھن اور زمین کا پانی ضائع کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا معاشی بحران ہے جسے ہم صرف اپنا رویہ بدل کر حل کر سکتے ہیں۔

