Tuesday, 28 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Saleem Zaman
  4. Noora Kushti

Noora Kushti

نورا کشتی

​عالمی سیاست کے شطرنج پر جو مہرے ہمیں نظر آتے ہیں، ان کی اصل چالیں اکثر پردے کے پیچھے چلی جاتی ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل محض ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں، تو آپ کو تریتا پارسی (Trita Parsi) کی شہرہ آفاق کتاب "Treacherous Alliance" کے ہوش ربا انکشافات کو ضرور دیکھنا چاہیے۔ یہ کتاب محض ایک تجزیہ نہیں بلکہ ان خفیہ راہداریوں کا نقشہ ہے جہاں دشمنی کے لبادے میں مفادات کی سودے بازی ہوتی ہے۔

​1۔ مصنف کون ہے؟

​جب ہم ایسی حساس بحث چھیڑتے ہیں تو لوگ سب سے پہلے "سورس" (Source) پر حملہ کرتے ہیں۔ تریتا پارسی 1974 میں ایران میں پیدا ہوئے، سویڈن میں پلے بڑھے اور امریکہ کی مشہور جونز ہاپکنز یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی کی۔ ان کے استاد عالمی شہرت یافتہ ماہرِ سیاسیات فرانسس فوکویاما تھے۔ پارسی "نیشنل ایرانی امریکن کونسل" کے بانی ہیں اور آج کل واشنگٹن کے بااثر ترین تھنک ٹینک "کوئنسی انسٹی ٹیوٹ" (Quincy Institute) کے ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ ہیں۔ ان کی رسائی وائٹ ہاؤس کے بند کمروں سے لے کر تہران کے سفارتی حلقوں تک ہے، اسی لیے ان کی تحریر کو "اندر کی گواہی" مانا جاتا ہے۔

​2۔ کتاب کا تعارف اور مرکزی خیال

​یہ کتاب پہلی بار 2007 میں ییل یونیورسٹی پریس (Yale University Press) سے شائع ہوئی اور اسے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر مستند ترین دستاویز مانا جاتا ہے۔ پارسی کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ ان تینوں طاقتوں کے درمیان دشمنی نظریاتی (Ideological / مذہبی یا فکری) نہیں بلکہ جغرافیائی سیاسی (Geopolitical / خطے پر اثر و رسوخ کی جنگ) ہے۔ تریتا پارسی ثابت کرتے ہیں کہ یہ ممالک عوامی سطح پر ایک دوسرے کو "شیطان" قرار دیتے ہیں تاکہ اپنے اپنے عوام کو ورغلا سکیں اور اپنے اقتدار کو طول (Prolong) دے سکیں، لیکن مفادات کی میز پر یہ ایک دوسرے کی ضرورت بن جاتے ہیں۔

​3۔ اقتباسات:

​کتاب سے چند ایسے اقتباسات جو اس اسٹریٹجک (Strategic / حکمتِ عملی کے تحت) گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتے ہیں:

خفیہ تعاون (The Secret Deal):

تریتا پارسی لکھتے ہیں:

​"Israel continued to view Iraq as a greater threat than Iran.. and played a key role in facilitating arms sales to Tehran even after the 1979 revolution. "

ترجمہ: "اسرائیل عراق کو ایران سے بڑا خطرہ سمجھتا رہا اور اس نے 1979 کے (ایرانی) انقلاب کے بعد بھی تہران کو اسلحے کی فروخت میں کلیدی سہولت کار کا کردار ادا کیا"۔

​نظریہ بمقابلہ حقیقت (Ideology vs. Reality):

​"The enmity between Iran and Israel is not a result of a clash of ideologies, but a result of a geopolitical shift. "

ترجمہ: "ایران اور اسرائیل کے درمیان دشمنی نظریات کے ٹکراؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں (طاقت کے توازن) کا نتیجہ ہے"۔

​4۔ چاہ بہار کا معمہ: نورا کشتی کی سب سے بڑی دلیل

​ایران پر لگائی جانے والی فلج (Paralyzing / مفلوج کر دینے والی) پابندیوں کے دور میں بھی چاہ بہار بندرگاہ کا بال بھی بیکا نہ ہونا اس "گریٹ گیم" کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کا معاشی ناطقہ بند کیا، تب بھی چاہ بہار کو ہمیشہ امریکی پابندیوں سے استثنیٰ (Exemption / خصوصی رعایت) حاصل رہی۔

یہ وہ مقام ہے جہاں امریکہ، بھارت اور ایران کے مفادات ایک نکتے پر مل جاتے ہیں۔ امریکہ کو افغانستان تک رسائی کے لیے پاکستان پر انحصار کم کرنے کی خاطر اس راستے کی ضرورت تھی اور ایران کو اپنی معیشت کا سانس بحال رکھنے کے لیے ایک کھڑکی کی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں "مردہ باد" کے تمام نعرے خاموش ہو جاتے ہیں اور خالصتاً معاشی مفاد بولتا ہے۔

​5۔ تلخ سچ: "بقائے باہمی کا معاہدہ"

​کتاب کا سب سے بڑا انکشاف وہ گرینڈ بارگین (Grand Bargain / بڑا سمجھوتہ) ہے جو 2003 میں ایران نے امریکہ کو پیش کیا تھا۔ ایران نے ایک خفیہ فیکس کے ذریعے امریکہ کو پیشکش کی تھی کہ اگر امریکہ ایران میں "حکومت کی تبدیلی" (Regime Change) کا ارادہ ترک کر دے، تو ایران اسرائیل کو تسلیم کرنے (دو ریاستی حل کی بنیاد پر) اور حماس و حزب اللہ کی مالی امداد بند کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر "قدس کی آزادی" کے نعرے صرف ایک کارڈ کی حیثیت رکھتے ہیں جسے مفادات کی میز پر کسی بھی وقت کیش (Cash) کرایا جا سکتا ہے۔

​6۔ شام اور غزہ: پراکسیز کا کھیل یا مفادات کا تحفظ؟

​تریتا پارسی کے تجزیے کی روشنی میں شام اور غزہ کے محاذ بھی اسی تزویراتی (Strategic / مستقبل کی منصوبہ بندی) چال کا حصہ نظر آتے ہیں۔ شام میں ایران کی موجودگی بظاہر اسرائیل کے لیے خطرہ ہے، لیکن حقیقت میں یہ کشیدگی امریکہ کو اس خطے میں اپنی مستقل موجودگی کا جواز فراہم کرتی ہے۔ اسی طرح، غزہ کا زخم ایران کو عالمِ اسلام میں "لیڈرشپ" کا مقام دلاتا ہے، جبکہ اسرائیل اسی "ایرانی خطرے" کو بنیاد بنا کر امریکہ سے سالانہ اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور جدید ترین اسلحہ وصول کرتا ہے۔

"گریٹ گیم" اور مستقبل کا نقشہ:

​اصل حقیقت یہ ہے کہ عوام کو ورغلانا حکومتوں کی وہ پالیسی ہے جس کے ذریعے اقتدار کے دورانیے کو طویل کیا جاتا ہے۔ اسرائیل امریکہ سے اپنے مفادات حاصل کر رہا ہے اور ایران خطے میں اپنی اجارہ داری (Hegemony / چوہدراہٹ) قائم رکھنے کے لیے یہ تمام تر "گریٹ گیم" کھیل رہا ہے۔

​یہ سب کچھ ایک بڑے مستقبل کے پلان کا حصہ ہے، جس میں یہ طے کیا جا رہا ہے کہ دنیا کو کیا دکھانا ہے اور اسے کس طرح اپنی مرضی کی شکل (Shape) دینی ہے۔ حالیہ جنگ میں چاہ بہار (بندرگاہ) کا ایک پتھر بھی نہ ہلنا اور پسِ پردہ ہونے والے یہ سمجھوتے چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ سرحدوں پر خون بہانے والے اور جذباتی نعروں میں الجھنے والے عوام صرف اس عظیم شطرنج کے مہرے ہیں۔

Check Also

Iran Kitna Dabao Jhel Paye Ga?

By Wusat Ullah Khan