Thursday, 18 April 2024
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Saira Kanwal/
  4. New Laundry

New Laundry

نیو لانڈدی‎

سنا ہے پاکستان میں پہلے دھوبی گھاٹ بڑے عام ہوتے تھے۔ یعنی صرف امراء ہی نہیں متوسط طبقے کے افراد بھی کپڑے دھوبی سے دھلواتے اور استری کرواتے تھے۔ پھر مہنگائی نے ہر سہولت متوسط طبقے سے دور کر دی۔ کپڑے گھروں میں واشنگ مشین کے زریعے دھلنے لگے اور لانڈری بھی صرف خواص کے لیے محدود ہوگئی۔

پاکستانی سیاستدان کیوں کہ عام نہیں بلکہ خواص ہوتے ہیں۔ اس لیے انھوں نے اپنی اپنی لانڈریاں (دھوبی گھاٹ) لگا لیں۔ یعنی پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کا اپنا لانڈری سسٹم ہے۔ یہ سسٹم بہت ایکٹیو ہو کر کام کر رہا ہے۔

کوئی سیاسی رہنما جب چاہے اپنی پارٹی چھوڑے۔ دوسری پارٹی جوائن کرے۔ اور وہ لوگ اپنی لانڈری میں اسے واشنگ پاؤڈر کے ذریعے دھو کر پاک صاف کر دیں اور پھر اس پر سے تمام الزامات دھل جائیں۔ سوشل میڈیا پر ٹرولنگ بند ہو جائے، اس کے گلے میں پارٹی پرچم کا پھندہ ڈال دیا جائے اور پھر کہا جائےگاکہ یہ لیجئے بندہ حاضر ہے۔

عوام کی کیا جرات کہ وہ سوال یا تنقید کر سکیں۔ عوام تو صرف بھگتنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ ان کا فرض ہے کہ وہ مہنگائی برداشت کریں۔ گندہ ماحول، گندہ پانی اور ناقص خوراک عوام کے نصیب میں لکھ دی جائے اور اگر کوئی لیڈر عوام کی فلاح کے لیے کام کرے تو اسے حکومت چلانے نا دی جائے۔ اس پر ناجائز کیسوں کی بھرمار کر دی جائے۔

کیا دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسا شاندار نظام دیکھا ہے؟ یہ صرف پیارے ملک پاکستان کی سیاست میں ہوتا ہے۔ کیونکہ پاکستان کے خواص سیاستدان (مزید خواص) ہوتے جا رہے ہیں۔ اس لئے وہ بعض اوقات پوری پارٹی ہی اپنی لانڈری میں لے جاتے ہیں اور ساری کی ساری پارٹی کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ پھر دھلی، نکھری، اجلی، چمکتی ہوئی پارٹی سامنے آ جاتی ہے۔

ہمارے معصوم جذباتی عوام جو اپنے پسندیدہ سیاستدانوں کے پیچھے دوسروں کو بد زبانی کے جوہر دکھاتے تھے۔ کھسیانے ہوئے پھرتے ہیں۔ مگر پھر بھی چمچہ گیری سے باز نہیں آتے۔

آج کل ن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سوشل میڈیا سیل اپنے اپنے موبائلز فون پر ہی دست وگریباں ہوئے پڑے ہیں اور بہت سے لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ الیکشنز کے بعد ملک کے وسیع تر مفاد میں کس کس سے جوڑ توڑ کیا جائے گا اور حکومت تشکیل دی جائے گی۔

مجھے گمان ہے کہ ملک کی خاطر یہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں ایک پیج پر آجائیں گیں۔ مگر کیا پھر بد زبانی کرنے والوں کو تھوڑی سی بھی شرمندگی ہوگی؟

Check Also

Ye Middle Class Muhabbat Karne Wale

By Azhar Hussain Azmi