Thursday, 22 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Saira Kanwal
  4. Mutwazan Shakhsiyat

Mutwazan Shakhsiyat

متوازن شخصیت

آج کی تحریر کسی خاص شخصیت یا کسی خاص واقعے سے متاثر ہو کر نہیں لکھی گئی۔ یہ تحریر صرف ذاتی خیالات کا اظہار ہے۔ میرے ہر اس محبت کرنے والے قاری کے لیے جو اپنا قیمتی وقت میرے ان الفاظ کو پڑھنے پر شاید ضائع کرتا ہے۔ کسی بھی انسان کی شخصیت کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک ظاہر اور دوسرا باطن۔ ظاہری شخصیت میں لباس، جسمانی اعضاء کی خوبصورتی، صفائی پسندی، انداز گفتگو، اٹھنے بیٹھنے اور کھانے کے آداب، مسکرانا، ہنسنا سب نظر آتے ہیں۔ اس ظاہری شخصیت کے ہر پہلو کو کوئی بھی فرد محنت سے دوسروں کے لیے پر کشش بنا سکتا ہے اور مقابل پر اچھا یا برا اثر چھوڑ سکتا ہے۔

دوسرا پہلو باطن کی خوبصورتی ہے جو آپ کے کردار اور سوچ میں ہوتی ہے۔ اگر دل و دماغ کثافتوں سے پاک ہیں، تو یقین مانیئے کالے، موٹے، گنجے، چھوٹے قد کے لوگ اپنی مثبت شخصیت کے باعث مقناطیسں بن کر دوسرے فرد کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں سے پھوٹتی مثبت شعاعیں ماحول پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہ جہاں جاتے ہیں۔ اس ماحول کو گل و گلزار بنا دیتے ہیں۔ لوگ ان سے محبت ہی نہیں بلکہ ان کی عزت بھی کرتے ہیں۔ یہ باطنی خوبصورتی اور عزت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔ جو کچھ لوگوں کو بن مانگے اور کچھ کو مانگنے پر ملتی ہے۔۔

اگر آپ کا تعلق متوسط طبقے سے ہے تو گھر میں موجود والدین اور ان کے بھی والدین پر توجہ کریں۔ کیا کبھی آپ کو محسوس ہوا کہ والدین اور ان کے بھی والدین بوڑھے اور بدصورت ہیں؟ ان کے رنگ کالے اور چہروں پر جھریاں ہیں۔

مجھے سو فیصد امید ہے کہ جواب نہیں میں ہوگا۔ آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ جب والدین میں سے کوئی ایک بھی نظر نا آئے تو گھر میں اداسی اور اندھیرے محسوس ہوتے ہیں۔

وجہ صاف ظاہر ہے کہ خونی رشتے کے علاؤہ ہم ان سے محبت اور عزت کے مضبوط رشتے میں بندھے ہیں۔ ہم ان کے چہروں کی خوبصورتی نہیں دیکھتے۔ صرف محبت دیکھتے ہیں۔

محبت صرف خونی رشتوں میں ہی نہیں ہوتی بلکہ اس وسیع جذبے میں ہماری زندگی میں آنے والے بہت سے لوگ اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ وہ لوگ جو "سارے کے سارے" خوبصورت نہیں ہوتے۔ جو قیمتی لباس زیب تن نہیں کرتے۔ جو دولت مند نہیں ہوتے۔ جن میں اسٹائل نہیں ہوتا۔ جو سادہ لگتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے نصیب میں عزت اور محبت لکھ دی ہے۔ یہ عزت اور محبت پیسے سے نہیں ملتی۔ ورنہ اہل ثروت اسے بھی خرید لیتے۔

سورہ آل عمران کی آیت نمبر 26 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں "آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے"۔

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کا آخری خطبہ پڑھیں۔

آپ ﷺ ایک جگہ ارشاد فرماتے ہیں۔۔ اللہ تعالیٰ کی نظر میں تم میں سے سب سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو اللہ سے ڈرنے والا ہے۔ نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے، نہ کسی عجمی کو عربی پر، نہ کالا گورے سے افضل ہے نہ گورا کالے سے، ہاں بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقوی ہے۔

اسی خطبے میں ایک اور جگہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری جھوٹی نخوت کا خاتمہ کر دیا۔ اب باپ دادا کے کارناموں پر تمہارے فخرومباہات کی کوئی گنجائش نہیں۔

تو بس جب قرآن کی سچی بات پر بھروسہ اور پیارے نبی ﷺ کے کہے پر یقین ہے۔۔ تو کسی بھی ذاتی تعلق کا ڈھنڈورا پیٹنے کی چنداں ضرورت نہیں۔

ایک مرتبہ پھر یادہانی کروا دوں کہ یہ تحریر کسی بھی خاص شخصیت یا واقعے سے متاثر ہو کر نہیں لکھی گئی۔۔

یاد رکھیں روشنی بہت تیز ہو تو آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ نظر پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ مگر مناسب دھیمی روشنی آنکھوں کے ساتھ ساتھ دل و دماغ پر بھی اچھا اثر ڈالتی ہے اور شخصیت کو متوازن رکھتی ہے۔ تو ہم سب کو اپنی شخصیت کے توازن پر توجہ دینی چاہیے۔۔ کیوں کہ شخصیت میں خوبصورتی "جزو" ہوتی ہے "کل" نہیں۔۔ اس لیے شدید محنت کی کیا ضرورت ہے؟

Check Also

Qissa Aik Bike Rider Ka

By Azhar Hussain Azmi