Faisla Aap Ka
فیصلہ آپ کا

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب جس کے سچا اور مستند ہونے کی گواہی خود اللہ رب العزت نے دی۔
یہی قرآن کہتا ہے۔۔ تم سے جو برائی کرے اس سے بھلائی کرو۔ ہو سکتا ہے ایک دن وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہو جائے۔۔
مگر ہمارے معاشرے میں ہو کیا رہا ہے؟ ہم سب کو سوچنے کی ضرورت ہے۔ بڑے بڑے مسائل تو ایک طرف ہم تو اسلام کی بنیادی باتوں کو نظر انداز کرکے خود کو مسلمان کہتے ہیں۔
زیادہ دور نا جائیں اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں۔ اپنے خاندان، جاننے والے ہمسایوں کو دیکھ لیں۔ ہم جو کچھ ہم کر رہے ہیں کیا مسلمانوں کو یہ احکامات دئیے گئے ہیں؟ ہم عوام ہر وقت اشرافیہ اور حکمرانوں پر تنقید کرتے ہیں مگر اپنے معاملات میں بعض اوقات مظلوم بن جاتے ہیں۔ ہمیں حکمران یہ نہیں کہتے کہ سگے بھائی بہن ایک دوسرے کو تکلیف دیں۔ رشتے دار منافقت سے کام لیں۔ والدین کا احترام نا کیا جائے۔ قانون۔ پر عمل داری سے گریز کریں۔ جہاں تک ہو سکے بے ایمانی سے کام لیں۔۔
مگر ہم عام عوام یہ سب دھڑلے سے کرتے ہیں اور اب ان اخلاقی برائیوں میں نا زیبا ویڈیوز کا اضافہ ہو چکا ہے۔ یعنی گناہ کو چھپانے کی بجائے عوام پوری بہادری سے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلاتے ہیں۔
بعض اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ عام عوام کے ساتھ اشرافیہ یا حکمران جو کچھ کرتے ہیں۔ ہم اسی قابل ہیں۔
سیاست کو دیکھ لیں ہر شخص بدلے کی سیاست کر رہا ہے۔ کوئی کسی کی غلطی کو بھلانے پر تیار نہیں ہوتا۔
خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ دنیا تیسری عالمی جنگ سے خوفزدہ ہے اور ہمارے احتجاجات، ریلیاں اور جلسے ختم نہیں ہو رہے۔
یوٹیوبرز کے واہیات ویڈیوز پر وی لاگ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔۔ صحافی حضرات ونڈر بوائے کے تماشے لگا رہے ہیں۔۔ اپنے ملک کا بھی سوچ لیں۔ جو ہے تو آپ ہر طرف مزے کرتے نظر آرہے ہیں۔۔

