Bare Taya Abbu (3)
بڑے تایا ابو (3)

آج کل بڑے تایا ابو بہت پریشان ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ گہرے ڈپریشن میں چلے گئے ہیں۔ اپنی عزت کے بارے، وہ پہلے بھی کچھ خاص حساس نہیں تھے۔ اس لیے ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے تھے۔ اپنی ویڈیوز کے بارے بھی زیادہ شرمندہ نظر نہیں آئے۔ حالانکہ دوسروں کی آڈیو، ویڈیو کے ذریعے انھیں بلیک میل کرکے خاصا مال کما چکے تھے۔ مگر ثبوت کوئی نہیں چھوڑتے اس لیے یہ محض ایک الزام اور ذہنی اختراع ہی معلوم ہوتا ہے۔
مگر بڑے تایا ابو کو نا جانے کیوں محسوس ہونے لگا کہ سب چھوٹے اب ان کی عزت نہیں کرتے۔ تو اپنی زبردستی کی عزت بنانے کے لیے انھوں نے ایک چھوٹے کے گھر پر حملہ کر دیا۔ انھیں محسوس ہوا چھوٹا بیچارہ غریب، مسکین ہے۔ جلد ہی میرے قدموں میں ڈھیر ہو کر، میرے گھٹنوں کو ہاتھ لگا لے گا۔ جیسے دوسرے چھوٹے خوشامدی اور چاپلوسی کرتے ہیں۔ یہ چھوٹا بھی سر جھکا دے گا۔
مگر یہ چھوٹا غریب ضرور تھا مگر عزت نفس اور غیرت والا ہے۔ ویسے بھی غریب کی سب سے بڑی دولت عزت نفس اور غیرت ہی ہوتی ہے۔ سو اس نے اپنے گھر پر حملے کا ایسا جواب دیا کہ بڑے تایا ابو کے تو ہوش ہی اڑ گئے۔ وہ آئیں بائیں شائیں کرتے رہ گئے۔ باقی چھوٹے بظاہر سنجیدہ اور غم زدہ شکل بنا کر بیٹھے ہیں۔ مگر دوسری طرف منہ کرکے ہنستے ضرور ہیں اور پھر منہ سیدھا کرکے کہتے ہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
بڑے تایا ابو ان میسنے دشمنوں کو جانتے ہیں جو ان کی حالت کے مزے لے رہے ہیں۔ مگر کیا کریں ابھی بہت زیادہ پنگے لینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اس لیے مسکرا مسکرا کر وقت گزار رہے ہیں۔ ہاں ساتھ ساتھ اپنے ڈپریشن کا روحانی علاج بھی کروا رہے ہیں۔ کیوں کہ اب دوا نے ان پر اثر کرنا چھوڑ دیا ہےاور انھیں اپنے گناہ ساری رات بھوت بن کر ڈراتے ہیں۔
عام عوام کو لگتا ہے کہ مظلوموں کی بددعائیں رنگ لانا شروع ہوگئی ہیں اور بڑے تایا ابو آہستہ آہستہ اپنے انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں بڑے تایا ابو چلے بھی گئے تو ان کی باقیات رہ جائیں گی اور اقتدار کی ہوس ختم نہیں ہوگی۔ چھوٹوں کو سہولیات اور پیسہ دے کر رعب جھاڑنے کا سلسلہ بند نہیں ہوگا۔ کیوں کہ یہ نشہ سب نشوں پر بھاری ہے۔
فی الحال تو عام عوام کی صدق دل سے دعا ہے کہ چھوٹے مظلوموں پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔ کیوں کہ ایسی ہوس کی لڑائیوں میں بہت سے بے گناہ بھی کچلے جاتے ہیں۔ جو روز محشر اللہ تعالیٰ سے سوال کریں گے کہ ہمارا کیا قصور تھا؟

