Saturday, 14 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Safdar Hussain Jafri
  4. Rasool Ka Wasi e Barhaq, Apno Mein Ajnabi o Ghareeb (3)

Rasool Ka Wasi e Barhaq, Apno Mein Ajnabi o Ghareeb (3)

رسول ﷺ کا وصیِ برحقؑ، اپنوں میں اجنبی و غریب (3)

یہ بطخیں آخر کیوں نہ نوحہ کناں ہوتیں؟ اور لوگ ان بطخوں کو چیخنے چلانے سے کیوں روکنے کی کوشش کر رہے تھے؟ علی ابن ابی طالبؑ نے اپنے دیدہ و دل سے ان بطخوں کی طرف کیوں نہ نظر کرتے۔ اس سے پہلے ہزاروں صبحیں آپ پر گزریں لیکن آج کی صبح اپنے اندر وہ راز چھپائے ہوئے تھی جس راز سے دوسری صبحیں خالی تھیں، آج آپ جو کیفیت محسوس کر رہے تھے اس سے پہلے آپ نے کبھی محسوس نہ کی تھی۔ کیا اس مردِ عظیم و بزرگوار کا یہ حق نہ تھا کہ اپنی موت کا مرثیہ بطخوں کی چیخ اور ہواؤں کی کراہ میں سنتا۔

کیا اس مردِ عظیم و بزرگ تر کا یہ حق نہ تھا کہ آفتاب و سایہ کو آج وداع کرے جنہیں پھر دیکھنے کی امید نہ تھی۔ کیا اس مردِ عظیم و بزرگوار کا یہ حق نہ تھا کہ آخری نگاہ ان منازل پر ڈال لے جن میں وہ دوسروں کو غنی بنانے کی خاطر فقر و فاقہ کی زندگی بسر کر تا رہا۔ وہ آپ کی شجاعت و بہادری کے بہت سے نمونے اور آپ کی محیر العقول شخصیت کے بہت سے مظاہر اور آپ کے آلام و مصائب کے گونا گوں مناظر دیکھ چکے تھے جن منازل میں آپ طولِ طویل راتوں میں گریہ کناں رہے اور اپنے آنسوؤں سے انہیں سیراب کرتے رہے۔

اگر دنیا کے رہنے والے حق کا دامن پکڑے ہوئے اور دین وجدان سے متمسک ہوتے تو آپ کو اس دنیا کے روز و شب کو رخصت کرتے ہوئے دکھ نہ ہوتا۔ یہ دنیا مردم خوار بھوت اور پُر فریب دیو ہے اس کے حلال و حرام آپس میں خلط ملط ہیں۔ خود امیر المومنین کا نفس تنگی و آسائش دونوں حالتوں میں یکساں رہا، اگر موت مقدر نہ ہو چکی ہوتی تو آپ کی روح تنِ مبارک میں ایک لمحہ کے لیے بھی سکون و اطمینان سے نہ رہتی۔ آپ کو صدمہ اس کا تھا کہ بدکردار اور غدار انسانوں سے یہ زمین چھلک رہی ہے۔

دنیا ان کی دستِ درازیوں سے نوحہ کناں ہے اور ان کے مظالم سے لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں، عراق و حجاز و شام میں محروم عوام کی زندگی دو بھر ہو رہی ہے۔ منافقین اپنے نفاق کے پھلوں سے پوری طرح بہرہ اندوز ہو رہے ہیں۔ دنیا کا کیا بگڑتا اگر وہ علیؑ کو دو قدم اور اٹھانے کا موقع دیتی اور آپ کچھ چیزوں میں تبدیلی پیدا کر دیتے۔

مگر دنیا کو یہ بات کہاں گوارا کہ چیزوں میں تبدیلی پیدا کی جائے۔

اس روحِ قدسی اور مردِ بزرگ نے محسوس کیا کہ میرے قدم مجھے دور دراز کے سفر پر لے جا رہے ہیں۔ آپ تھوڑی دیر مسجد کے دروازہ پر ٹھہرے ان نوحہ کناں بطخوں کی طرف نظر کی اور ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے جو آپ کے پیچھے کھڑے تھے اور کئی مرتبہ یہ فقرہ دہرایا: "انھیں نہ ہٹاؤ یہ نوحہ کرنے والیاں ہیں"۔

علیؑ مسجد میں آئے رب العالمین کے حضور دو زانو ہوئے۔ ابنِ ملجم زہر آلود تلوار ہاتھ میں لیے مسجد میں آیا اور حضرتؑ کے سر پر ایسا وار کیا جس کے متعلق اس کا کہنا تھا کہ اگر یہ وار سارے شہر کے باشندوں پر پڑے تو ایک شخص بھی زندہ نہ بچے۔ خدا کی لعنت ہو ابنِ ملجم پر اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہو۔ دنیا میں ہر آنے والے اور دنیا سے ہر جانے والے کی لعنت ہو۔ ہر اُس شخص کی لعنت اس پر ہو جو حکمِ خدا سے پیدا ہوا۔ خداوندِ عالم ابنِ ملجم پر ایسی لعنت کرے کہ اگر ویسی لعنت دریاؤں پر پڑے تو وہ خشک ہو جائیں، کھیتوں پر پڑے تو وہ نیست و نابود ہو جائیں اور سرسبز پودو ں کو زمین کے اندر ہی جلا دے۔ خداوندِ عالم جہنم کے بچھوؤں کے تہتر ڈنک اس پر مسلط فرمائے اور ہزار شیطان اس پر مسلط کرے جو اسے منھ کے بل جہنم میں ڈال دیں، اس جگہ جہاں آگ کے شعلے لپک رہے ہوں اور قہر الٰہی کا جوش و خروش ظاہر کر رہے ہوں۔

چیختی چنگھاڑتی ہوائیں چلیں، تیز و تند آندھیاں اٹھیں، ہر چیز درہم و برہم اور ایک دوسرے سے ٹکرا کر رہ گئی۔ ہر طرف غبار اٹھا اور جس طرف سے گزرا اسے اپنی جگہ سے ہٹنے پر مجبور کر دیا جیسے آسمان سے بجلیاں گرنے لگی ہوں۔ روزِ روشن اندھیری رات کی طرح تاریک ہوگیا، آفتاب کی روشنی اندھیرا دور کرنے سے قاصر رہی، اجالا غائب ہوگیا۔ بڑا ہولناک اور لرزہ انگیز منظر تھا، زمین سے نالہ و فریاد کی صدائیں بلند تھیں، آسمان کو تاریک ابر ڈھانپے ہوئے تھا اور بجلیاں ہردم آتشیں آہیں بھر رہی تھیں۔ محبّانِ علیؑ کو عظیم ترین صدمہ پہونچا، زمانے نے علیؑ پر گریہ کیا اور آنے والی صدیاں بھی ان پر گریہ کریں گی۔ طیور غبار آلود پروں کے ساتھ اپنے بازوؤں میں سر چھپائے اپنے گھونسلوں کو روانہ ہوئے، اشجار بے چین تھے کہ کس طرح اپنے جڑوں سمیت اکھڑ پڑیں۔ اِن میں اس طرح تھرتھراہٹ پیدا تھی جیسے طائر پر پھڑپھڑاتے ہوں انھوں نے اپنے سرسبز پتے شہید کے قدموں پر نچھاور کیے۔

دنیا کی ہر چیز دل شکستہ و اندوہ گیں ہوئی سوائے علی ابنِ ابی طالبؑ کے چہرے کے کہ وہ ہشاش بشاش تھا کہ انہوں نے نہ انتقام کی خواہش کی نہ غیظ و غضب کو ظاہر کیا۔ لوگ آپؑ کے دروازے پر عیادت کی غرض سے کھڑے تھے، سبھی افسردہ و ملول، گریاں و نوحہ کناں اور بارگاہِ الٰہی میں دست بہ دعا کہ خداوندِ عالم امیر المومنینؑ پر رحم فرمائے انہیں شفا عنایت فرما کر خلائق کے آلام و مصائب دور فرمائے، ان لوگوں نے ابنِ ملجم پر حملہ کرکے اسے گرفتار کر لیا، جب اُسے امیر المومنین کی خدمت میں لائے تو آپ نے فرمایا: "اسے عمدہ غذا ئیں اور نرم بستر دینا"۔

لیکن آپ کے چہرے کی بشاشت و نرمی تمام مصائب و آلام سے بڑھ کر اندوہناک تھی، اس وقت آپ کا چہرہ سقراط کے چہرے کے مشابہ تھا جس وقت کہ جاہل و نادان عوام نے انھیں زہر پلانا چاہا تھا۔ عیسیٰ ابنِ مریمؑ کے چہرے جیسا تھا جس وقت قومِ یہود آپ کو کوڑوں سے اذیت پہنچاتی تھی، محمد مصطفیٰ ﷺ کے چہرہ جیسا تھا جبکہ آپ پر طائف کے نادان سنگ باری کرتے اور یہ نہ سمجھتے تھے کہ ہم کس بزرگ ترین خلائق پر سنگ باری کر رہے ہیں۔

کوفہ کے بہترین طبیبوں کو امیر المومنینؑ کے علاج کے لیے بلایا گیا انہیں سب سے زیادہ حاذق اثیر بن عمرو بن ہانی نام کا ایک شخص تھا جب اس نے حضرت کی پیشانی کے زخم کا بغور معائنہ کیا انتہائی محزون و اندوہ اور نا امیدی سے بولا: "امیر المومنینؑ جو کچھ وصیتیں کرنا ہوں کر لیں کہ ابن ملجم کی ضربت مغزِ راس تک پہنچ چکی ہے"۔

امام طبیب کے جواب سے دل تنگ ہوئے نہ حرف شکایت زبان پر لائے، اپنا معاملہ خدا کے حوالے کیا۔ آپ نے اپنے دونوں فرزندوں امام حسنؑ وامام حسینؑ کو پاس بلایا ان سے وصیتیں کیں اور تاکید کی کہ میرے قتل کی وجہ سے ہنگامہ نہ کھڑا کرنا، خونریزی نہ کرنا۔ قاتل کے متعلق فرمایا کہ:

"اگر اسے معاف کر دو گے تو یہ تقویٰ کے قریب ہے اور اگر میرےقتل کا قصاص لینا تو ایک ہی وار کرناکہ اس نے بھی مجھ پر ایک ہی ضربت لگائی"۔

امیر المومنینؑ نے حسنؑ و حسینؑ کو جو وصیتیں فرمائیں اس کے چند فقرے یہ تھے:

1۔ تم کو خدا کی قسم اپنے پڑوسیوں کا لحاظ کرنا۔

2۔ تمہیں خدا کی قسم فقراء اور مساکین کا خیال رکھنا اور ان کو بھی اپنی روزی اور معاش میں شریک رکھنا۔

3 اور جیسا کہ خدا نے تمہیں حکم دیا ہے اپنی زبان سے جب بولو اچھی ہی بات بولو اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو نہ چھوڑنا۔

4۔ تمہارا فرض ہے کہ آپس میں مل جل کر اور لطف و مہربانی سے پیش آیا کرو اور بے تکلفی اور سادگی برتا کرو اور خبردار ایک دوسرے سے کٹنا اور الگ الگ رہنے کی روش اختیار نہ کرنا اور نہ متفرق ہونا۔

تھوڑی دیر کے بعد آپؑ نے لوگوں کی طرف نظر کی اور فرمایا: "میں کل تمھارا حاکم تھا اور آج تمھارے لیے سببِ عبرت ہوں، کل تم سے جدا ہو جاؤں گا خدا مجھے بھی بخشے اور تمھیں بھی"۔

بروزِ جمعہ صبح کے وقت حضرت کے فرقِ مبارک پر ضربت لگی تھی، اس کے بعد دو روز تک نہایت کرب و اذیت کے عالم میں زندہ رہے مگر آپؑ نے اپنے کرب و اذیت پر اُف تک نہ کی، خدا سے سہارے اور ڈھارس کی تمنّا کرتے لوگوں کو احسان اور نیکی کی تلقین اور بے بس لاچار لوگوں پر رحم و کرم سے پیش آنے کی وصیت فرماتے۔ ماہِ رمضان 40ھ کی اکیسویں شب میں آپؑ نے دنیا سے رحلت فرمائی۔

وہ مردِ یگانہ و بزرگ جسے دشمنوں نے بھی دکھ پہنچائے اور دوستوں نے بھی، دنیا سے اٹھ گیا۔ وہ مردِ بزرگ و غریب جو جیتے جی شہید تھا اور مرتے وقت شہیدوں کا پدر۔ استقامت واستواری اور خیر خواہی کے شہید نے وفات پائی۔ پاکیزگی اور پختگی کا شہید جس نے حق و اخلاص کے معاملہ میں ذرا بھی سستی گوارا نہ کی۔

وہ مردِ عظیم و بزرگ دنیا سے اٹھ گیا۔ افسوس کہ دنیا نے اسے مہلت نہ دی کہ وہ ایسی حکومت کی بنیاد رکھ سکے جسے بعد کی آنیوالی صدیاں پاتیں اور حکومتیں آپ کی روش اور طرزِ حکومت کو اپنے پیشِ نظر رکھتیں اور عوام الناس آپ کے مبارک نام کی برکت سے امن کی زندگی گزارتے اور مفسد و فتنہ انگیز ظالموں کو ذلت و رسوائی کی خاک میں ملاتے۔

آپ دنیا سے رخصت ہوگئے اور اپنے بعد ایسا خاندان چھوڑ گئے جس کا ایک ایک فرد راہِ حق کا شہید ہوا۔ اپنے بعد دکھیاری بیٹی زینبؓ کو دنیا بھر کے مصائب آلام جھیلنے کے لیے چھوڑ گئے اور دنیا نے ان کے ساتھ وہ بے رحمی و شقاوت کا سلوک کیا جیسا کسی کے ساتھ نہ کیاہوگا، حسنؑ و حسینؑ کو فرزندِ ابو سفیان اور دیگر خون کے پیاسے دشمنوں میں چھوڑ گئے۔

علیؑ اور فرزندانِ علیؑ کے خلاف سازش کا پہلا دور تمام ہوا، اس کے بعد بیشمار دور آئے اور ہر دور اپنی آغوش میں ہولناک تر اور سخت و شدید مصائب لئے ہوئے تھا۔

اونچے محلات امیر المومنینؑ کی شہادت سے یوں جگمگا اٹھے جس طرح خشک ریگستان میں سراب جگمگاتے ہیں، پانی کے چشمے سوکھ گئے کھیتیاں ویران ہوگئیں۔ غداروں مکاروں کی حکومت مضبوط ہوئی وہ لوگ جو حکومت قائم کرنے کے لئے غداری و خیانت کو جائز سمجھتے تھے آپ کے انتقال کے بعد ہی سرگرمِ کار ہوگئے، وہ حکومت کتنی منحوس ہے جس کی بنیادیں بزرگوں کے قتل و ہلاکت کے ذریعہ استوار ہوں۔

کیسی عظیم ناکامیاں تھیں کہ امیر المومنینؑ کی مصیبت دوستوں کے سینے میں باقی چھوڑ گئیں کتنا زبردست حزن و اندوہ تھا جو نیکو کاروں کے دلوں میں اس ہولناک حادثہ سے باقی رہا کیسی زبردست مصیبت تھی جس کی وجہ سے صدیوں عرب کی سرزمین فتنہ و فساد کی آماجگاہ بنی رہی۔ کیسا حزن و اندوہ تھا جو مسلسل بڑھتا اور سخت ہوتا ہی گیا اور اُس نے ظالموں اور ان کے مددگاروں کے پر و بال جلا دیئے اور ان کی حکومت و بزرگیوں کے ایوان کو منہدم کر دیا۔ کیا فائدہ ایسی حکومت کا جو غریبوں بیکسوں کے آنسوؤں سے قائم ہو جو کہ علی ابن ابی طالبؑ کے غم میں اشک فشانی کر رہے تھے۔

علیؑ اُن کی آنکھوں کے آنسو پونچھتے غریبوں بیکسوں کے لیے بمنزلہ باپ کے تھے، ضعیفوں بیچاروں پر شفیق و مہربان تھے، تمام دنیا کی دولت اور روئے زمین کے سارے عظیم خزانے اس مردِ عظیم کی جوتی کے تسمے کے برابر نہ تھے۔ تمام ظالم خلفاء اور ان کی ساری دولت نہج البلاغہ کے ایک کلمہ اور آپ کے ایک قصرِ فصاحت کے مقابلہ میں ہیچ ہیں اور آپ کے ایک قطرۂ اشک کے مقابلہ میں بے قدر و قیمت۔

وہ مردِ عظیم و بزرگ دنیا سے اٹھ گیا اور وہ لوگ جو ناحق اپنے کو بزرگ سمجھتے تھے باقی رہ گئے، ایک انسان مر گیا سربلند ہوا اور ایک جماعت زندہ رہی اور حقیر و ذلیل ثابت ہوئی۔

امام اپنے دشمنوں کو دنیا میں زندہ چھوڑ گئے لیکن ان کی زندگی عین ہلاکت تھی۔

آخر میں اپنے پیکرِ عدل، امام المتقین، اشجع الناس، اللہ کے شیر، حیدرو صفدر مولاؑ کی بارگاہ میں شاعرِ انقلاب جوش ملیح آبادی کی مسدس سے ایک خوب صورت بند:

اے مرتضیٰؑ! امامِ زماں! شیرِکردگار
عرفاں کی سلطنت میں نہیں تجھ سا تاجدار

تیری ادائے حرب کا اللہ رے وقار
خالق نے کی عبادتِ ثقلین بھی نثار

توُ خندہ زن ہے فتنہِ بدروحنین پر
پیغمبری کو ناز ہے تیرے حسینؑ پر

(پیش کیا گیا مضمون: "رسول ﷺ کا وصیِ برحقؑ: اپنوں میں اجنبی و غریب"، مولا علیؑ کے شیفتہ، مسیحی مصنف جارج جرداق کی مشہورِ زمانہ کتاب، الصوۃ العدالۃ الاسلامیہ کے ترجمہ: ندائے عدالتِ انسانی، از ترجمہ قبلہ سید محمد باقر نقوی، مصنفہ نفسِ رسول ﷺ، جلد ہشتم، سے اخذکیا گیا)

Check Also

Qalam Se Inqilab

By Nouman Ali Bhatti