Saturday, 14 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Akram
  4. Wali Ullah (12)

Wali Ullah (12)

ولی اللہ (12)

تقریباََ تین ماہ کی محنت کے بعد، ہمارے حامیوں اور فعال کارکنوں کی تعداد قریب 300 تک پہنچ چکی تھی جس میں زیادہ تر ہمارے رشتہ دار تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو نہ صرف ہمارے نظریات سے متفق تھے، بلکہ عملی طور پر وقت اور توانائی لگانے کو تیار تھے۔ اب وقت تھا ایک مربوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کا۔ ہم نے تمام فعال اراکین کو ایک اجتماع کے لیے بلایا، جو ایک مقامی اسکول کے ہال میں ہوا۔ یہ ہماری پہلی باضابطہ عمومی مجلس تھی۔ احمد نے آغاز کیا، "آج ہم یہاں صرف ایک پارٹی کی بنیاد نہیں رکھ رہے۔ ہم ایک نئے پاکستان کا وعدہ کر رہے ہیں اور یہ وعدہ ہم اپنے آپ سے، اپنی آنے والی نسلوں سے کر رہے ہیں"۔

اس کے بعد تنظیمی ڈھانچے پر بات چیت ہوئی۔ سب سے پہلے پارٹی صدر کے عہدے پر بات آئی۔ میرے ساتھیوں نے یک زبان ہو کر میرا نام پیش کیا۔ وسیم کھڑا ہوا، "دو ماہ سے ہم سب نے ضرغام کی قیادت، ان کے جوش، ان کی دیانت داری اور ان کی فکر مندی کو قریب سے دیکھا ہے۔ وہ ہماری روح ہیں۔ میں تجویز دیتا ہوں کہ ضرغام ہماری پارٹی کے پہلے صدر بنیں"۔ مجھے شدید جھجک محسوس ہوئی۔ میں کھڑا ہوا، "بھائیو اور بہنو، میں آپ کی محبت کا شکر گزار ہوں۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ ہماری پارٹی میں ہر فیصلہ مشاورت سے ہو۔ کیا آپ واقعی مجھے اس ذمہ داری کے لیے موزوں سمجھتے ہیں؟" ہال میں ایک ہی آواز گونجی، "جی ہاں!"

میں نے اس اعتماد کو قبول کیا۔ اس کے بعد باقی عہدے بھی مشاورت سے طے ہوئے: جنرل سیکرٹری: طلحہ (نوجوان ہونے کے ناطے، انہیں یہ ذمہ داری دی گئی تاکہ پارٹی میں نوجوانوں کی نمائندگی مضبوط ہو اور وہ نوجوانوں کی توانائی کو بروئے کار لائیں)۔ فنانس سیکرٹری: وسیم (اپنے کاروباری تجربے اور دیانت کی بدولت)۔ جوائنٹ سیکرٹری: احمد (تنظیمی امور میں ان کی مہارت کے پیش نظر)۔ چار رکنی مرکزی کمیٹی: ان چار عہدیداروں کے علاوہ دو اور اراکین (ایک بزرگ کارکن عمران صاحب اور ایک نوجوان طالب علم علی) شامل کیے گئے، تاکہ ہر عمر اور طبقے کی نمائندگی رہے۔ ہم نے یہ بھی طے کیا کہ ہر مہینے ایک عمومی مجلس ہوگی، جس میں تمام اراکین اپنی رائے دے سکیں گے اور مالی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ یہ ہماری شفافیت کا پہلا عملی اظہار تھا۔

ہم جانتے تھے کہ روایتی میڈیا ہماری آواز نہیں اٹھائے گا، کیونکہ ہم ان کے مفادات کو خطرہ تھے۔ اس لیے ہم نے اپنا پرچم خود بلند کرنے کا فیصلہ کیا۔ طلحہ، جو ٹیکنالوجی سے واقف تھا، نے پارٹی کے لیے فیس بک پیج، ٹوئٹر اکاؤنٹ اور یوٹیوب چینل بنایا۔ نام رکھا گیا: "پاکستان سادگی پارٹی - عوام کی آواز"۔ اب ہمارا اگلا چیلنج تھا مواد تخلیق کرنا۔ ہماری پاس نہ تو بڑے بینڈ تھے، نہ ڈیزائنر۔ ہم نے سادگی کو ہی اپنی طاقت بنایا۔ ہم اپنے موبائل فون سے ویڈیوز بناتے، جن میں ہماری میٹنگز کے منظر، عوام سے بات چیت اور ہمارے منشور کی سادہ الفاظ میں وضاحت ہوتی۔ میں خود ہفتے میں تین ویڈیوز ریکارڈ کرتا، جس میں موجودہ مسائل پر بات کرتا اور ان کا حل اپنے منشور میں بتاتا۔ ہمارا مرکزی نعرہ تھا: "سادگی انقلابی ہے۔ دیانتداری طاقت ہے"۔

سوشل میڈیا پر لوگوں کے ردعمل مختلف تھے۔ کچھ لوگ ہمارا مذاق اڑاتے۔ "اب یہ نیا چورن آ گیا مارکیٹ میں!"، "یہ بھی وہی کریں گے، جیت کر سب بھول جائیں گے"، "بھئی، یہ 1000 سی سی گاڑی والی بات کرتے ہیں اور رکشے میں پھرتے ہیں۔ ڈرامہ بندی ہے!" لیکن ہمارے پیغام کی سادگی اور ہمارے اپنے طرز زندگی کی سچائی آہستہ آہستہ لوگوں کو متاثر کرنے لگی۔ کچھ ہمدردانہ کمنٹس آنا شروع ہوئے: "کم از کم یہ تو اپنی بات خود کہہ رہے ہیں، کسی ٹی وی چینل کے پیچھے چھپے ہوئے نہیں"، "ان کا نعرہ میرے دل کی آواز ہے"، "ایسے لوگ ہی تو ملک بدل سکتے ہیں"۔ ہم نے ہر کمنٹ کا، چاہے وہ تنقیدی ہو یا تعریفی، احترام سے جواب دیا۔ تنقید کرنے والوں کو ہم دعوت دیتے کہ آ کر ہمارے اجتماعات میں شریک ہوں، ہمیں قریب سے دیکھیں۔ حیرت کی بات یہ ہوئی کہ کچھ ناقدین واقعی ہمارے پاس آئے، ہم سے بات کی اور پھر ہمارے حامی بن گئے۔

سوشل میڈیا پر موجودگی کے ساتھ ساتھ، ہم نے فیصلہ کیا کہ حقیقی دنیا میں بھی اپنی موجودگی درج کرانی ہے۔ ہماری پہلی پرامن مارچ کی منصوبہ بندی شہر کے مرکزی بازار میں کی گئی۔ ہمارا اصول تھا: "کسی کو تکلیف نہیں، کسی کی روزی روٹی متاثر نہیں ہونی چاہیے"۔

ہم نے متعلقہ انتظامیہ سے باقاعدہ اجازت حاصل کی۔ ہم نے مارچ کا وقت ایسا رکھا جب ٹریفک کم ہو (دوپہر کے بعد 3 بجے)۔ ہم نے تمام شرکاء کو ہدایت کی کہ وہ پیدل چلیں گے، فٹ پاتھ استعمال کریں گے، سڑک نہیں روکیں گے اور کوئی نعرہ بازی نہیں کریں گے جو جارحانہ ہو۔ ہم نے صرف بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر لکھا تھا: "ہم انصاف چاہتے ہیں"، "سادگی پارٹی - عوام کی پارٹی"، "جاگیرداری ختم کرو"۔ یہ ایک تھکا دینے والا کام تھا۔ تیز دھوپ میں پیدل چلنا، لوگوں کے طنزیہ نظروں کا سامنا کرنا اور اپنا پیغام پہنچانے کی کوشش کرنا۔ لیکن ہم میں سے ہر ایک کے چہرے پر عزم تھا۔ ہم بازار میں گئے، دکانداروں سے بات کی، گاہکوں کو ہمارے منشور کی پرنٹ شدہ کاپیاں دیں (جو ہم نے اپنے پیسوں سے پرنٹ کروائی تھیں)۔ ابتدا میں لوگ شک کی نظر سے دیکھتے، لیکن جب ہم ان سے نرمی سے بات کرتے، ان کے مسائل سنتے، تو ان کا رویہ نرم پڑ جاتا۔ اس ایک مارچ نے ہمیں پچاس نئے رابطے دیے۔

اس کے بعد ہماری کارنر میٹنگز کا سلسلہ شروع ہوا۔ ہم شہر کے مختلف محلے میں جاتے، مقامی لوگوں کو جمع کرتے اور ان کے سامنے اپنا پیغام رکھتے۔ ہم نے گھر گھر جانا شروع کیا۔ یہ سب ہماری اپنی جیبوں سے ہو رہا تھا۔ رکشے کا کرایہ، پرنٹنگ کا خرچ، پانی کی بوتلیں۔۔ ہر چیز ہم خود اٹھاتے۔ کبھی کبھار کوئی ہمدرد ہمیں کھانا یا چائے کی دعوت دے دیتا، جو ہمارے لیے بہت بڑی بات ہوتی۔ ان تمام تر مصروفیات کے درمیان، میری ذاتی زندگی پر بھی بڑا دباؤ تھا۔ ایک شام جب میں تھکا ہارا گھر لوٹا، زہرہ نے مجھے چائے دیتے ہوئے نرمی سے کہا، "ضرغام، مجھے تم سے کچھ کہنا ہے"۔ اس کے چہرے پر ایک شرمیلی مسکراہٹ تھی۔

"ہاں زہرہ، کیا بات ہے؟" میں نے پوچھا۔

"ہماری فیملی میں ایک نیا مہمان آنے والا ہے"۔ زہرہ نے کہا، آنکھیں نیچی کیے ہوئے۔ ایک لمحے کے لیے میری سمجھ میں نہیں آیا۔ پھر بات میرے ذہن میں جا گزیں ہوئی۔ میرا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ "کیا۔۔ کیا مطلب؟ کیا تم واقعی؟" میری آواز میں جوش تھا۔ زہرہ نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔ میں نے اسے گلے لگا لیا۔ یہ خوشی کی خبر ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح تھی، جو میرے تھکے ہوئے وجود میں نئی روح پھونک گئی۔ میں جانتا تھا کہ اب میری ذمہ داریاں دگنی ہوگئی ہیں۔

معاشی حالات تھوڑے تنگ تھے۔ میں گاڑی چلاتا تھا شہر میں 5 سے 6 گھنٹے اور باقی وقت اب پوری طرح پارٹی کے کام میں مصروف ہوتا تھا، جس سے کوئی آمدنی نہیں تھی۔ زہرہ کے والدین اور میرے والدین دونوں مدد کی پیشکش کرتے کبھی زہرہ کو دے بھی جاتے، لیکن میں نے انکار ہی کرتا تھا۔ میں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتا تھا، اپنی محنت سے گھر چلانا چاہتا تھا۔ زہرہ نے اس مشکل وقت میں ناقابل یقین صبر کا مظاہرہ کیا۔ وہ مجھے جانتی تھی کہ میرا خواب میری زندگی ہے، اس لیے شکوہ کم ہی کرتی۔ لیکن کبھی کبھار جب رات گئے گھر لوٹتا یا اتوار کو بھی میٹنگ میں مصروف ہوتا، تو اس کی آنکھوں میں مایوسی دیکھی جا سکتی تھی۔ اکثر وہ رات دیر تک دروازے پہ ہی بیٹھی میرا انتظار کرتی رہتی تھی۔ ایک دن وہ غصے سے بولی، "ضرغام، آپکو پتا ہے میں اکیلے کیسے وقت گزارتی ہوں؟ میرا سارا دن دروازے کی طرف دیکھتے گزر جاتا ہے کہ اب دروازہ کھلے گا اور آپ گھر داخل ہوں گے۔ آپکی یہ سیاست مجھ سے تمہیں چھین رہی ہے"۔

میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی، "زہرہ، یہ صرف سیاست نہیں ہے۔ یہ ہمارے بچے کا مستقبل ہے۔ میں ایسا پاکستان چاہتا ہوں جہاں ہمارا بچہ بے خوف اور باعزت زندگی گزار سکے"۔ زہرہ آنسو پونچھتی ہوئی بولی، "مجھے پتا ہے آپکا مقصد اچھا ہے۔ لیکن آپکو بھی تو ہمارا خیال رکھنا چاہیے"۔ اس دن کے بعد میں نے کوشش کی کہ کم از کم رات کا کھانا زہرہ کے ساتھ ضرور کھاؤں۔ میرے مصروف ترین دنوں میں، مولانا احمد کی بیوی، ام کلثوم، زہرہ کی مدد کے لیے آ جاتیں۔ وہ زہرہ کے پاس بیٹھتیں، اس سے باتیں کرتیں اور گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹاتیں۔ ان کا یہ ساتھ زہرہ کے لیے بہت اہم تھا۔ ایک دن ام کلثوم نے زہرہ سے کہا، "بیٹی، ضرغام ایک بڑے کام میں لگے ہیں۔ یہ مشکل وقت ہے، لیکن جب یہ کامیاب ہو جائیں گے، تو تمہیں فخر ہوگا کہ تم نے ان کا ساتھ دیا"۔ ان باتوں نے زہرہ کو طاقت دی۔

مہینے گزرتے گئے۔ ہماری تحریک تھوڑی بہت پھیل رہی تھی۔ اب ہمارے سوشل میڈیا پر تقریباََ پانچ ہزار فالوورز تھے اور ہماری تنظیم کا نیٹ ورک بھی شہر میں تھوڑا بہت بن چکا تھا مگر ویسا نہیں تھا جیسا ہم نے شروع میں خواب دیکھے تھے کہ مصیبت کے مارے لوگ ہمیں ویلکم کریں گے اور تحریک کا حصہ بنیں گے جبکہ تحریک کے رجسٹرڈ کارکنان صرف چھے سو ہی تھے۔ جس سے کچھ دوستوں کے حوصلے تھوڑے کم بھی ہوئے تھے مگر یقین محکم تھا۔ زہرہ کا حمل بھی آخری مراحل میں تھا۔ ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ بچے کی پیدائش کا وقت قریب آ رہا ہے۔

ایک دن میں ایک اہم سیاسی میٹنگ میں تھا۔ شہر کے دوسرے چھوٹے گروپوں کے نمائندوں سے بات چیت ہو رہی تھی، جنہیں ہمارے نظریات میں دلچسپی تھی۔ میٹنگ کے دوران میرا فون وائبریٹ ہونے لگا۔ میں نے دیکھا، زہرہ کا فون تھا۔ میں نے میٹنگ روکی اور باہر نکل کر کال سنی۔

"ضرغام۔۔ میں۔۔ مجھے شدید درد ہو رہا ہے"۔ زہرہ کی آواز کمزور اور درد سے بھری ہوئی تھی۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ "کیا ہوا؟ کہاں درد ہو رہا ہے؟" "پیٹ میں۔۔ بہت زیادہ۔۔ لگتا ہے وقت آ گیا ہے"۔ زہرہ نے کہا، ساتھ ہی درد کی ایک اور لہر نے اسے چیخنے پر مجبور کر دیا۔ "ٹھیک ہے، میں فوراً آ رہا ہوں۔ تم گھبرانا نہیں۔ میں ابھی نکلتا ہوں"۔ میں نے فوراً میٹنگ ختم کی، معذرت کی اور گھر کی طرف نکل پڑا۔ راستے میں، میری پرانی کار ایک موٹرسائیکل سے جا ٹکرائی۔ تصادم شدید نہیں تھا، لیکن میری گاڑی کا اگلا ٹائر پھٹ گیا اور موٹرسائیکل سوار گر گیا۔ میں فوراً رکا، موٹرسائیکل سوار کی حالت دیکھی۔ خوش قسمتی سے اسے معمولی چوٹیں آئی تھیں۔ میں نے اسے قریب کے ہسپتال پہنچانے کا انتظام کیا، لیکن اب میری گاڑی چلنے کے قابل نہیں تھی۔

زہرہ کا فون پھر آیا۔ "ضرغام، تم کہاں ہو؟ درد بہت بڑھ رہا ہے"۔ میں بس آ رہا ہوں۔ تھوڑی دیر میں پہنچ جاتا ہوں۔ گھبرانا نہیں۔ " میں نے کہا، حالانکہ خود گھبراہٹ میں تھا۔ میں نے اپنی گاڑی وہیں چھوڑی اور سڑک پر کوئی سواری ڈھونڈنے لگا۔ آخرکار ایک رکشہ ملا، لیکن ٹریفک جام کی وجہ سے وہ بھی تیزی سے نہیں چل سکتا تھا زہرہ کی کالیں مسلسل آ رہی تھیں، ہر کال کے ساتھ اس کی آواز کمزور ہوتی جا رہی تھی۔ میں اسے یہی کہتا رہا کہ "بس پہنچ گیا ہوں"، کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ میری مصیبتوں کے بارے میں جان کر اور پریشان ہو۔ مجھے گھر پہنچتے پہنچتے قریب دوگھنٹے لگ گئے جب میں گھر پہنچا، تو دروازہ کھلا تھا۔ اندر جلدی سے گیا، تو بی بی ام کلثوم ملیں۔

"ضرغام بیٹا، آپ آ گئے! میں ابھی اپنے ایک رشتہ دار کے گھر سے آئی ہوں۔ زہرہ کی حالت دیکھنے، لیکن جب میں پہنچی تو گھر خالی تھا۔ میں نے زہرہ کو فون کیا، تو اس نے کال نہیں اٹھائی۔ مجھے بہت پریشانی ہو رہی تھی۔ زہرہ میری کال بھی نہیں اٹھا رہی تھی۔ پھر اچانک میرے موبائل پہ میسج آیا: "جناح ہسپتال۔ بہت جلدی پہنچو۔ " یہ زہرہ کے بھائی شرجیل کا نمبر تھا۔ "لیکن میرا دماغ اس میسج کو پروسیس کرنے سے قاصر تھا۔ صرف ایک لفظ میرے وجود میں زہر کی طرح اتر رہا تھا: "ہسپتال"۔

مجھے سب کچھ بھول گیا۔ پارٹی، میٹنگ، اصول، نعرے۔۔ سب کچھ دھندلا گیا۔ صرف زہرہ کا چہرہ میرے سامنے تھا، جو درد میں تکتا ہوا مجھے پکار رہا تھا۔ میں نے ام کلثوم کو وہیں چھوڑا اور دیوانہ وار ہسپتال کی طرف بھاگنے لگا۔ میرے پاؤں نے زمین پر کوئی گرفت محسوس نہیں کی۔ میں روڈ پر بھاگ رہا تھا، بے پروا۔ مجھے یہ بھی پتا نہیں چلا کہ میرے پاؤں سے جوتے نکل گئے تھے اور میرے ننگے پیر پتھریلی سڑک پر پڑی کنکریوں اور گرم اسفالٹ کو روندتے جا رہے تھے۔

"زہرہ۔۔ مجھے معاف کر دینا۔۔ غلطی ہوگئی۔۔ تیرے پاس ہونا چاہیے تھا۔۔ اب نہیں۔۔ اب کوئی غلطی نہیں کروں گا۔۔ " میں ہیجان میں بڑبڑا رہا تھا، آنسو اور پسینہ میرے چہرے پر ملے جلے بہہ رہے تھے۔ "اللہ۔۔ میرے اللہ۔۔ ہمیں معاف کردے۔۔ اسے ٹھیک کر دے۔۔ اے اللہ رحم کرنا، "سڑک پر لوگ مجھے دیوانہ سمجھ رہے تھے۔ کچھ رک گئے، کچھ نے پکارا، لیکن میری سماعت میں کچھ نہیں جا رہا تھا۔ میرا ذہن ایک ہی فقرے کو بار بار دہرا رہا تھا: "میں اتنا سادہ تو نہیں تھا۔ میں تو حق کے لیے کوشش کر رہا تھا۔ زہرہ، مجھے معاف کر دینا۔۔ "

کیا واقعی میں حق کے لیے کوشش کر رہا تھا؟ کیا عوام کی فلاح کے لیے اپنی بیوی کو تنہائی اور تکلیف میں چھوڑ دینا "حق" تھا؟ کیا ایک بڑے خواب کے لیے اپنے سب سے چھوٹے اور مقدس وعدے کو توڑ دینا "انصاف" تھا؟ میری ساری عقل، میری ساری فلسفیانہ باتین، میرے سارے نعرے۔۔ اس وقت بے معنی ہو کر رہ گئے تھے۔ میں محض ایک شوہر تھا، جو اپنی بیوی کے انتہائی ضروری وقت میں اس کے پاس نہیں تھا۔ جناح ہسپتال کا بورڈ نظر آیا۔ میں نے اپنی آخری ساری طاقت اکٹھی کی اور اندر دوڑا۔ ایمرجنسی وارڈ۔ میں نے نرس سے پوچھا، میری آواز گلوگیر تھی، "زہرہ۔۔ میری بیوی۔۔ وہ کہاں ہے؟"

جاری ہے۔۔

Check Also

Bani Ki Deal Ho Rahi Hai?

By Najam Wali Khan