Suraj Ke Tax Par Andhere Ki Khushiyan
سورج کے ٹیکس پر اندھیرے کی خوشیاں

قدرت نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ہوا، پانی، سورج، چاند، بارش، بادل، درخت، پہاڑ اور زمین یہ سب وہ عطیے ہیں جو ربِ کائنات نے بغیر کسی قیمت کے انسان کے لیے مہیا کیے۔ ان نعمتوں میں سورج کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ سورج صرف روشنی ہی نہیں دیتا بلکہ زندگی کی بقا کا ضامن بھی ہے۔ فصلوں کی نشوونما، پھلوں کا پکنا، موسموں کا تسلسل اور روزمرہ زندگی کا ہر پہلو سورج کی روشنی سے جڑا ہوا ہے۔ انسان نے ترقی کے سفر میں اسی سورج کی روشنی کو توانائی کے ایک بڑے متبادل ذریعے کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا تاکہ مہنگی بجلی اور ایندھن کے بوجھ سے کچھ نجات حاصل کی جا سکے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں بجلی کی قیمتیں مسلسل عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں وہاں سولر انرجی لوگوں کے لیے ایک امید کی کرن بن کر ابھری تھی۔ متوسط طبقہ اپنی جمع پونجی لگا کر گھروں کی چھتوں پر سولر پینل نصب کر رہا تھا تاکہ بجلی کے بھاری بلوں سے بچ سکے اور اپنی زندگی میں کچھ آسانی پیدا کر سکے۔ مگر افسوس کہ اب اسی سورج کی روشنی پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی خبریں عوام کے لیے ایک نئے امتحان کی صورت اختیار کر گئی ہیں۔
حکومتِ پاکستان کی حالیہ قانون سازی نے عوامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب سورج بھی ایک سرکاری اثاثہ قرار پا چکا ہے؟ کیا اب روشنی لینے کے لیے بھی اجازت نامہ درکار ہوگا؟ جو لوگ اپنے وسائل سے بجلی پیدا کر رہے تھے کیا اب انہیں بھی سرکاری فائلوں اور منظوریوں کے پیچیدہ نظام سے گزرنا پڑے گا؟ تصور کیجیے کہ ایک نیا محکمہ "شمسی وسائل" قائم ہو جس کا کام لوگوں کے گھروں کی چھتوں پر لگے سولر پینلز کی نگرانی ہو۔ دوکاندار سولر پینل فروخت کرنے سے پہلے پوچھے کہ کیا آپ نے حکومتی اجازت نامہ حاصل کر لیا ہے؟ کیا آپ نے تصدیق شدہ فارم جمع کروا دیا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہو تو معذرت آپ سورج کی روشنی خریدنے کے اہل نہیں۔
یہ منظر بظاہر مزاحیہ محسوس ہوتا ہے مگر حقیقت میں یہ ایک تلخ طنز ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اب سورج کی ہر شعاع پر بھی حساب رکھا جائے گا۔ شاید کل کو صبح کے اجالے کے لیے بھی کوٹہ مقرر ہو جائے۔ میٹر ریڈر صرف بجلی کا نہیں بلکہ سورج کے استعمال کا بھی حساب لینے آئے۔ اگر آپ نے اپنے مقررہ کوٹے سے زیادہ روشنی حاصل کر لی تو جرمانہ آپ کے موبائل پر آن لائن موصول ہو جائے۔
یہ صورتحال اس قدر عجیب ہے کہ اب اجازت نامہ صرف اسلحہ رکھنے کے لیے نہیں بلکہ روشنی حاصل کرنے کے لیے بھی درکار ہوگا۔ ممکن ہے آنے والے وقتوں میں یہ شرط بھی شامل ہو جائے کہ دن میں سورج استعمال کرنے کی اجازت ہے مگر رات کو چاندنی سے فائدہ اٹھانے کے لیے الگ لائسنس درکار ہوگا۔ اگر ایسا ہوا تو واقعی اندھیرا خوشیاں منائے گا اور روشنی کو عدالتوں میں صفائیاں دینی پڑیں گی۔ یہ سب کچھ ایک بڑے المیے کی طرف اشارہ ہے۔
ریاست اگر عوام کو ریلیف دینے کے بجائے فطرت کی نعمتوں پر بھی محصول عائد کرنے لگے تو یہ صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی بحران بھی بن جاتا ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بھاری بلوں اور پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں۔ آج ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 26.77 روپے اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد پٹرول 393.35 روپے اور ڈیزل 380.19 روپے فی لیٹر ہو چکا ہے۔ ایسے میں سولر توانائی ہی ایک امید تھی مگر اب اس پر بھی بوجھ ڈال دیا گیا۔
افسوس اس بات کا ہے کہ رب کی عطا کردہ نعمتوں کو بھی سرکاری فائلوں میں بند کرنے کی روایت پروان چڑھ رہی ہے۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو بعید نہیں کہ کل ہوا لینے، درخت کے سائے میں بیٹھنے، چہل قدمی کرنے یا آکسیجن استعمال کرنے پر بھی ٹیکس عائد کر دیا جائے۔ سوال صرف ٹیکس کا نہیں سوچ کا ہے۔ کیا حکومت واقعی عوام کو سہولت دینا چاہتی ہے یا ہر آسانی کو ایک نئے بوجھ میں بدل دینا مقصود ہے؟
یہ اندھیرے کی خوشیاں ہیں اور ہمارے لیے لمحۂ فکریہ۔ روشنی پر پہرے بٹھا دیے جائیں تو معاشرہ صرف بجلی سے نہیں سوچ سے بھی تاریک ہو جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرے نہ کہ سورج جیسی نعمت کو بھی محصول کی زنجیروں میں جکڑ دے۔ کیونکہ جس دن روشنی بھی مہنگی ہوگئی اُس دن صرف گھروں میں نہیں ُدلوں میں بھی اندھیرا اتر آئے گا۔ اس موقع پر شاعر فراز احمد فراز کی غزل یاد آتی ہے، جس کے چند اشعار زیبِ قرطاس ہیں۔
تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ
لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ
اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں
خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ
گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پہ روشن ہے ضمیر
خود اندھیرے میں ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ

