Mazameen e Quran, Uneesvi Nimaz e Taraweeh
مضامینِ قرآن، انیسویں نماز تراویح

بیسویں پارے کے کل 16 رکوع ہیں جس میں سورہ النمل کے 3، سورہ القصص کے 9 اور سورہ العنکبوت کے 4 رکوع شامل ہیں۔ بیسویں پارے کا آغاز نعمتِ خداوندی، آسمان و زمین کی تخلیق، مخلوق کی ابتداء اور اس کی روزی کا تعین اور زمین کی خصوصیات بیان کرکے توحید پر استدلال سے ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں۔ علمِ الہی کی شان کو بیان کیا کہ اللہ تعالی کا علم ذاتی ہے، قرآن کلامُ اللہ ہے جو مومنین کے لیے ہدایت و رحمت ہے اور لوحِ محفوظ میں ہر چیز کو لکھ دیا گیا ہے۔ قیامت برپا ہونے بارے مضامین جس میں صور پھونکنے، دابتہُ الارض کے ظاہر ہونےکا بیان ہوا۔
سورہ القصص میں عظمت قرآن کو بیان کرکے حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا واقعہ بیان ہوا کہ فرعون متکبر، ظالم اور فسادی تھا اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا اور ان کو فرعونیوں سے محفوظ رکھا۔ حضرت موسیٰؑ پر انعامات، ان کی اپنی والدہ کی طرف واپسی، آپ کی بہن کا واقعہ بیان کرکے آپ پر جوانی میں احساناتِ الہی اور آپ کی بارگاہِ الہی میں عاجزی و انکساری کے مضامین اور مدین کی طرف ہجرت کے واقعات شامل ہوئے۔
حضرت موسیٰؑ اور قبطی شخص کا واقعہ بیان ہوا جس میں اسرائیلی کا قبطی سے جھگڑا اور آ پ کی تنبیہ بیان ہوئی۔ حضرت شعیبؑ کی طرف سے اپنی بیٹی کے ساتھ نکاح کی پیشکش اور حضرت موسیٰؑ کا اِسے قبول کرنے کا بیان ہوا۔ حضرت موسیٰؑ کا کوہ طور پر جانا اور ان کو معجزات (عصائے موسیٰؑ کا سانپ بننا، روشن ہاتھ کا معجزہ اور خوف کی دوری) کا عطا ہونا شامل ہے۔ قرآن کریم کی بتدریج نازل ہونے کی حکمتیں، صالحین اہل کتاب کا ایمان لانا، مومنین اہل کتاب کو دگنے اجر کی بشارت اور مومنین اہلِ کتاب کے کردار، مومن اور کفار میں امتیاز، بروزِ قیامت کفار سے سوالات اور کافر سرداروں کا اعلانِ برأت، مشرکین اور ان کے معبودوں کا حال اور بروزِ قیامت مشرکین کی بدحواسی بارے تفصیلات بتائی گئیں۔
قارون کے خزانوں، اسکی سرکشی، نیک لوگوں کا قارون کو نصیحت کرنا، قارون کا جواب اور اللہ تعالیٰ کی تنبیہ، قارون کا جاہ و جلال اور اس کے عبرت ناک انجام سے نصحیت حاصل کرنے کو کہا گیا۔ نیک اور کامیاب لوگوں بارے واضح کر دیا گیا کہ جو لوگ تکبر اور فساد سے پاک ہوتے ہیں وہی آخرت میں کامیاب ہونگے۔ سورہ کے آخر میں ایک بار پھر مضامینِ توحید بیان ہوئے کہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اسی کے فیصلے کائنات میں نافذ ہوتے ہیں اور تم سب نے اُسی کے پاس لوٹ کر آنا ہے۔
سورہ العنکبوت میں مسلمانوں کی آزمائش کے متعلق قانونِ الہی، پہلی امتوں کے احوال، برے عمل کرنے والوں کی تنبیہ، باعمل مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالی کا معاملہ، حقوقِ الہی و حقوقِ والدین، جہاد اور مجاہدے کا فائدہ، منافقوں کا حال، عذاب و رحمت کی مشیتِ الہی اور قدرتِ الہیہ کی شانوں کو بیان کیا گیا۔ حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت لوطؑ، حضرت عادؑ، حضرت ہودؑ اور حضرت شعیبؑ کی قوموں کے احوال، انکی دعوت و نصیحت، برے کاموں سے ممانعت، انکی قوموں پر عذابِ الہی کو بیان کیا گیا تاکہ یہ لوگ ان کے عبرت ناک انجام سے سبق حاصل کریں۔ متکبرین لوگوں جن میں فرعون، قارون اور ہامان شامل ہیں کے واقعات بیان کرکے ایسے لوگوں اور ایسی قوموں کی تباہی کا ضابطہ بیان کیاجن پر کبھی پانی و سیلاب، آندھی طوفان، دھماکوں، زلزلوں اور زمین میں دھنسا دینے والےعذابوں کا بیان ہوا۔ ساری دیناکے متکبرین کو بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے علاہ معبودانِ باطل کی طاقت و قوت اللہ تعالی کے مقابلے میں ایک مکڑی اور اس کے جالے کے برابر بھی نہیں۔
اکیسویں پارے کے کل 19 رکوع ہیں جس میں سورہ العنکبوت کے 3، سورہ الروم کے 6، سورہ لقمان کے 4، سورہ السجدہ کے 4 اور سورہ الاخزاب کے 3 رکوع شامل ہیں۔ پارے کے آغاز میں تلاوتِ قرآن کے اہتمام، نماز کی پابندی کی تلقین اور نظام الصلوۃ کے مضامین بیان کئے گئے۔ اہلِ کتاب سے بحث و مباحثے اور انکے ساتھ اخلاص سے پیش آنے کی تعلیم دی گئی۔ عظمتِ قرآن اور عظمتِ وشانِ رسالت مآب کو ایک دلیل سے سمجھایا گیا۔ انسان کو رزق کے معمالات میں اللہ تعالیٰ پر توکل کا درس دیا گیا، راہِ خدا میں کوشش کرنے والوں کو بشارتیں اور منکرین و کفار کا حال بیان کیا گیا۔
سورہ الروم میں رومیوں کے غلبہ کی غیبی خبر دی گئی اور قدرتِ الہیہ کے مظاہر کے لیے تخلیقِ کائنات میں غور و فکر کی دعوت دی گئی۔ بروزِ قیامت مجرموں کا حال بیان ہوا ور باعمل مسلمانوں کو باغاتِ جنت میں اعلیٰ مقام اور اعزاز و اکرام کے مضامین بیان کئے گئے۔ کائنات کی تخلیق، انسان کی پیدائش اور دیگر نشانیوں کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بیان ہوا، ان سے کفار کے پیروکاروں کو ہدایت حاصل کرنے کا کہا گیا۔ ہوا، بارش کو رحمت الہی کہا گیا اوررحمت الہی کے آثار میں غور و فکر کی ہدایت کی گئی۔ کفار کی ہٹ دھرمی بیان ہوئی۔ قرآن کریم میں لوگوں کو سمجھانے کی مثالیں دی گئیں باطل پرست اس کو مانتے نہی، وہ بے علم لوگ ہیں اور ان کے دلوں پر مہریں لگی ہوئی ہیں پس اے محبوبﷺ آ پ صبر کریں۔
سورہ لقمان کا مرکزی مضمون حکمت و دانائی کے بارے میں ہے۔ قرآن کریم حکمت و دانائی کی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اور یہ کتابِ ہدایت و فلاح ہے جس استفادہ حاصل کرکے انسان اپنے دین و دنیا کو سنوار سکتا ہے۔ حضرت لقمان کے حکمت و دانائی کے واقعات بیان ہوئے، انکی پند و نصائح کو بیان کیا جس میں ان کے اپنے بیٹوں کو شرک سے بچنے، والدین کی اطاعت کو بیان کیا اور واضح کر دیا گیا کہ جب ایک طرف اللہ تعالی کا حکم ہو اور ایک طرف والدین کا تو اللہ تعالی کے احکام سب سے پہلے ہیں۔ کائنات کے دلائل و شواہد میں غور و فکر کرنےکو کہا اور یہ بتا دیا کہ اگر سارے درخت قلمیں بن جائیں اور ساتوں سمندر سیاہی بن جائٰیں تو اللہ تعالی کی بے حساب خوبیاں و صفات کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جسے ہر بات کا علم ہے اوروہ ہر خبر رکھنے والاہے۔ وہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی، بارش کب ہوگی، رحمِ مادر میں کیا ہے، کوئی شخص کل کیا کرے گا اور کون کس زمین میں مرے گا۔
سورہ السجدہ میں کلامِ رب العالمین، توحیدِ باری تعالیٰ اور انسانی تخلیق کے مراحل کے بارے میں مضامین شامل ہیں۔ ایمان والوں کا حال بیان ہوا کہ ان کی زندگیاں عجز و انکساری کا پیکر ہیں اور ان کا وقت رکوع، سجدے اور تسبیح و تمحید میں گزرتا ہے اور اس کا انہیں یہ صلہ ملے گا کہ ان کی مہمان نوازی جنت کے بہترین باغات میں کی جائے گی۔
سورہ الاحزاب میں مشرکین مکہ کا اسلام کے خلاف تمام گروہوں کا اکھٹا کرنے، مدنیہ منورہ کا محاصرہ کرنے، مسلمانوں کا اپنے دفاع کے لیے خندق کھودنے، منہ بولے رشتوں کے احکام، امہات المومنین کے مقام و مرتبے، غزوہ خندق و غزوہ بنی قریظہ میں اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت، ازواجِ مطہرات کے سالانہ نفقہ میں اضافہ کا مطالبہ اور پھر اپنے مطالبہ سے دستبردار ہونے، ان کے حرمِ نبویﷺ میں رہنے کو ترجیح دینے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا ان مخلص خواتین کو اجرِ عظیم کا وعدہ کرنے بارے مضامین شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ازواجِ رسول کو مخاطب کرکے بتایا کہ اگر تم اللہ تعالی، اسکے رسولﷺ اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو بیشک اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔

