Wednesday, 11 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Ahmad Qazi
  4. Mazameen e Quran, Taeesvi Nimaz e Taraweeh

Mazameen e Quran, Taeesvi Nimaz e Taraweeh

مضامین قرآن، تئسویں نمازِ تراویح

آج کی نمازِ تراویح کا آغاز چھبسویں پارے سے ہوتا ہے جس کے کل 18 رکوع ہیں اور اس میں 6 سورہ مبارکہ شامل ہیں۔ اس پارے میں جو مضامین شامل ہیں ان میں کفار کے باطل معبودوں کا رد اور ان کی بےبسی، اہلِ ایمان اور استقامت والوں کو جنت کی خوشخبریاں، ماں باپ سے حسنِ سلوک کی تاکید، ماں کی حمل کے دوران مشقتیں، دودھ پلانے کی 2 سال کی مدت، والدین کے نافرمان اور باطل عقائد والوں کے برے و ذلت والےانجام، حضرت ہودؑ کی قوم کا واقعہ، جنات کا نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہونا، آسمانی کتابوں کا بیان، کفار کے برے رویوں پر انبیاء علہیم السلام اور سرکارِ دو جہانﷺ کو صبر کی تلقین پر کلام کیا گیا ہے۔

اسی پارے میں جہاد کی ترغیب، جنگی قوانین، مسلمانوں کو منافقین سے خبردار رہنے، جنگی قیدیوں سے سلوک، فدیہ بارے بیان، اہلِ تقوی کو جنت کی بشارت جس میں دودھ جیسی نہریں، شرابِ طہور، رنگ برنگے پھل، کفار و منکرین کو جہنم کے عذاب بیان کئے گئے۔ اس کے علاوہ یہ بتایا گیا کہ انسان کو ہماری نازل کی گئی کتاب میں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے اگر ان واضح دلائل کے باوجود بھی وہ نہیں مانتے تو ان کے دلوں پر تالے لگے ہیں۔

منفاقین کے رویوں پر مسلمانوں کو صبر کرنے، ہمت نہ ہارنے اور اللہ تعالی کی راہ میں دل کھول کر خرچ کرنے کی دعوت دی گئی کیونکہ انہی چیزوں میں فلاح و کامرانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کی شان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے آپﷺ کو گواہی دینے والا، جنت کی بشارت دینے والا، عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے تو اے لوگوں تم سب پر فرض ہے کہ اللہ تعالی کے رسول کی تعظیم بجا لاؤ۔

بیعت رضوان کو بیان کیا کہ بے شک حضورﷺ کا ہاتھ اللہ تعالی ہی کا ہاتھ ہے اور پھرصلح حدیبیہ، صحابہ (رضوان اللہ اجمعین) کی جانثاری، اخلاص، ایمان کی صداقت، رضائے الہی کا حصول، اصحابِ رسول کی صفات ہیں کہ آپس میں رحیم و شفیق ہیں مگر کفار پر غضب ناک اور سخت ہیں۔ نبی اکرمﷺ کے صحابہ ہر وقت اللہ تعالی کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں اور ان کی جبینیں سجدوں کے اثر سے منور ہیں۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے اقدامات اور نبی اکرمﷺ کی بارگاہ میں حاضری کے آداب اور بے ادبی سے بچنا بیان ہوا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے سارے اعمال برباد ہو جائیں اور تمہیں خبر تک نہ ہو۔ کسی بھی خبر کی چھان بین کے بغیرنہ کسی کو بتاؤ نہ ہی اس پر کوئی عمل کرو۔ ہر فیصلہ عدل و انصاف پر کرو اور مسلمانوں میں اخوت و بھائی چارے کو فروغ دو۔

مسلمان مرد و زن ایکدوسرے کا مذاق نہ اڑائیں، ایک دوسرے کی عیب جوئی نہ کریں، غیبت نہ کریں۔ کفار کے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے انکار کرنے کو دلائل کے ساتھ رد کیا۔ قدرت الہیہ کی نشانیوں کا بیان ہوئیں جیسے سورج، چاند، ستارے، زمین کی وسعت، بلند و بالاپہاڑ، آسمان سے بارش کا برسنا، اناج، پھل اور مردہ زمین کو زندہ کرنا۔ نمازوں کے اوقات اور اللہ تعالی کی حمد و ثنا، حشر و نشر، قیامت کے احوال، اہلِ ایمان پر انعاماتِ اخروی، نعمتیں، رزق میں کشادگی کا بیان ہوا۔ اس کے بعد حضرت ابراہیمؑ کے پاس فرشتوں کا انسانی شکل میں آنا اور ان کو حضرت اسحاقؑ کی بشارت دینے کے مضامین کو بیان کیا گیا۔

ستائسویں پارے کے کل 20 رکوع ہیں جس میں 6 سورتیں شامل ہیں۔ اس پارے میں جو مضامین شامل ہیں ان میں حضرت ابراہیمؑ کے پاس فرشتوں کا انسانی شکل میں آنے کے مقصد کا سوال اور فرشتوں کا جواب، قومِ لوط کی بے راہ روی اور ہلاکت کا واقعہ، حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا واقعہ، نافرمان قوموں کی سرکشی، فسق و فجوراور ان کی تباہی کے واقعات بیان کئے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و وحدنیت پر دلالت کرنے والی نشانیوں کو بیان کرتے ہوئے آسمان، زمین، ہر چیز کا جوڑا بنا کر بتادیا کہ اللہ تعالیٰ سے بڑا کوئی کاریگر نہیں۔

انسانوں اور جنات کی پیدائش کا مقصد بیان کیا کہ تمہیں رب کی عبادت کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔ عقائد کی پختگی اور تین بنیادی عقائد توحید، رسالت اور قیامت کے موضوع بیان کئے۔ قیامت کی منظر کشی کرتے ہوئے آخرت کو جھٹلانے والوں کا انجام اور پرہیزگاروں کو آخروی صلہ دینے، اہلِ جنت کی غذاؤں، جنت کے خدمت گاروں، اہلِ جنت کا ایک دوسرے سے حال دریافت کرنے اور لطف و سرور کو بیان کیا۔ کفار کی نبی اکرم کی مخالفت، ان کی سرکشی، آقا پر شاعر ہونے کا الزام اور آقا کوصبر، مخصوص اوقات میں تسیبح و تمحید اور تسلی و نصیحت کرتے رہنے کی ہدایت دی ہیں۔

نبی اکرمﷺ کی عظمت و شان بتاتے ہوئے آپﷺ کے سفرِ معراج کی تصدیق اور معراجِ سماوی کے حقائق، اللہ تعالیٰ سے ملاقات، سدرۃ المنتہی پر فرشتوں سے ملاقات اور حضرت جبرائیلؑ کے اوصاف کو تفصیلی بیان کیا۔ کفار و مشرکین نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا جس کا اللہ تعالیٰ نے رد فرمایا اور پھر یہ بتا دیا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی مرضی و رضا کے بغیر کسی کی شفاعت نہیں کر سکتے۔ نیک لوگوں کے اوصاف بیان ہوئے اور اپنے نیک کاموں کی فخریہ تعریف کرنے والوں کو تنبیہ کی۔ حضرت موسیٰؑ اور حضرت ابراہیمؑ کے صحیفوں بارے مضامین وارد ہوئے، مختلف قوموں کی ہلاکت کے واقعات، بروزِ قیامت جزا و سزا کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ انسان کو وہی ملے گا جس کی اس نے کوشش کی ہوگی ان تمام کاموں کے لیے عمل کی بہت اہمیت ہے اور پھر کوشش کرتے رہنے کی تاکید کی گئی۔

انسانی پیدائش کو بیان کیا اور دوبارہ زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں اور وہی اس کائنات کا رب ہے۔ قومِ عاد، قومِ ثمود، قومِ نوح کی سرکشیوں، ظلم اور نافرمانیوں پر ان کی ہلاکت کے واقعات بیان کئے۔ بنی اکرمﷺ کی عظمت و شان اور رسالت کو ثابت کرنے کے مضامین بیان ہوئے جن کو کفار جھٹلاتے تھے۔ آقاﷺ کے ایک معجزے شق القمر (چاند کو دو ٹکڑے) کرنے کا واقعہ بیان کیا جو مشرکین نے آپﷺ کو کہا کہ اگر چاند کو دو ٹکڑے کردیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ مگر کفار نافرمان نکلے اور معجزہِ صدقِ نبوت دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے اور حق کا انکار کر دیا۔

حضرت نوحؑ کا واقعہ بیان کیا کہ ایک ہزار سال تک جدوجہد کی مگر قوم کی گستاخیوں پر ان کو عبرتناک عذاب دیا گیا اور باقی لوگوں کو اس سے نصحیت لینے کی ترغیب دی گئی۔ پریشانی میں نجات حاصل کرنے کے لیے ایک اہم دعا بیان کی۔ قومِ عاد و قومِ ثمود کے احوال، ان کی سرکشیاں اور ان کا انجام بیان ہوا۔ ہر بندے کا عمل اسکے اعمال ناموں میں درج کرکے ان سب کو لوحِ محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدنیت کو کائناتی شواہد کے ذریعے بیان کیا تاکہ کفار و منکرین ان سے حق کو پہچانیں۔ وہ لوگ جو حق کو نہیں پہچان رہے ان کو بار بار یہ بتایا گیا کہ تمہیں بہت سی نعمتوں سے ہم نے نوازا ہے مگر تم ان کو جھٹلاتے ہو۔

اللہ تعالی نے زمین بنائی، آسمان بنایا، پودے اور درخت اگائے، خوشہ دار کھجور، نرم و نازک جسم والا انسان بنایا، جنات کو بھڑکتی آگ سے پیدا کیا، کھارے اور میٹھے پانی بنائے، سمندر کے اندر کی مخلوق، خوشمنا پتھر جیسی نعمتیں دیں۔ اس فانی دنیا کے بعد جنت میں بھی اہلِ تقویٰ پر خصوصی انعمات ہوں گے جس میں انواع و اقسام کے پھل، ریشم و کمخواب کے لباس، یاقوت و مرجان کے حسن و جمال سے لبریز جنتی حوریں اور اب "تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے"؟ منکرین قیامت، بعثت بعدالموت اور قیامت کی حقیقت کو بیان کیا کہ وہ اٹل حقیقت ہےجو وقوع پذیر ہو کر رہی گی اور اس دن عدل و انصاف کے فیصلے ہوں گے۔ اس دن کی دہشت سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائینگے اور اسی دن دائیں و بائیں والوں کو الگ الگ کر دیا جائے گا اور جزا و سزا مقرر کی جائے گی۔

اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا احاطہ ہے اور اس نے آسمان، زمین، عرش و کرسی بنائے اور انسانوں کے فائدے کے لیے لوہے بنایا۔ انبیاء (علیہم السلام) جن میں ابو البشر حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت عیسیٰؑ کی صفات اور ان کے پیروکاروں کو دہرے اجر کا مستحق ٹھہرایا گیا۔ اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنےاور رسولِ اللہﷺ پر ایمان لانے کا بیان ہوا تاکہ وہ اس پر تمہیں اپنی رحمت کے دو حصے دے اور تمہارے لیے ایسا نور پیدا کر دے جس کے ذریعے تم چلو اور وہ تمہیں بخش دے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے و ہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔

Check Also

Mehangai, Jang Aur Taleem

By Ayesha Batool