Mazameen e Quran, Solhvi Nimaz e Taraweeh
مضامینِ قرآن، سولہویں نماز تراویح

سترویں پارے کے کل 17 رکوع ہیں جس میں سورہ انبیاء کے 7 رکوع اور سورہ الحج کے 10 رکوع شامل ہیں۔ سورہ انبیاء کا مرکزی مضمون بنیادی اسلامی عقائد (توحید، رسالت، قیامت، محشر کے حساب کتاب اور اعمال کی جزا و سزا) اور کفارِ قریش کے خفیہ مشورے کی خبر پر مبنی ہے۔ لوگوں کو قیامت کے وقوع پذیر ہونے اور ان کے حساب کی سختیوں کا بیان ہے ان لوگوں کا جو آخرت کی زندگی سے غافل ہیں اور دھوکے والی دنیوی زندگی کی لذتوں میں شامل ہیں۔
رسالت کے موضوع کو خاص طور پر مفصل انداز میں بیان کیا گیا جس میں انبیاء و رسل کے واقعات بیان کئے گئے۔ بشریت اور نبوت کو بیان کیا گیا کہ بشر ہونا نبوت ملنے کے منافی نہیں ہے کیونکہ کفار انبیاء کے بشری اوصاف پر اعتراض کرتے تھے۔ نبی اکرم کو شاعر کہتے اور اعتراض کرتے کہ قرآن کریم انہوں نے خود اپنی طرف سے بنا لیا ہےاور اگر یہ نبی ہیں تو ہمارے پاس کوئی نشانی یا معجزے لاتے جیسے کہ پہلے انبیاء معجزے دکھاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے گزشتہ قوموں کی تباہی کوبیان کرکے کفار کی تنبیہ فرمائی۔ عقیدہ توحید کو بیان کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ اللہ تعالیٰ بیوی اور اولاد سے پاک ہےاور جو کچھ بھی آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب اسی کی مِلک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت الہیہ کی نشانیاں بیان کیں جن میں آسمان و زمین، پہاڑوں کی وجہ سے زمین کا ساکت رہنا، آسمان کو بے ستونوں کے محفوظ چھت بنانا، رات اور دن کا آنا جانا، سورج اورچاند کا ایک گھیرے میں حرکت کرنا ہے۔ ان سب واضح نشانیوں کو کفار اپنی آنکھوں سے دیکھنےکے باوجود بھی منہ پھیرتے ہیں۔ مگر یہ اٹل حقیقت ہے کہ ہر جان نے موت کا مزہ چکھنا ہے اور پھر تم ہماری طرف ہی لوٹائے جاؤ گے۔
کفار کا نزولِ عذاب کے لئے جلدی کرنا اور اس بارے مذاق اڑانا۔ اللہ تعالیٰ وحی کے ذریع اپنے نبیِ برحق خاتم النبین کو آگاہ کرنا کہ ان کو ڈرائیں، جب میرا عذاب آ گیا تو پھر تمہیں کون بچائے گااور عذابِ الہی کا ایک جھونکا بھی تمہارے لیے ناقابلِ برداشت ہوگا۔ حضرت موسیٰؑ پر عطائے الہی اور رشد و ہدایت میں حضرت ابراہیمؑ کا مقام بیان ہوا۔ حضرت ابراہیمؑ کا اپنے چچا اور قوم سے مناظرہ، بت شکنی کرنا اور بتوں کا حال دیکھ کر قوم کا آپ کے ساتھ اظہارِ غضب کا مضمون بیان کیا گیا۔
حضرت ابراہیمؑ نے قوم کی سرزنش کی تو نافرمان قوم نے آپ کو آگ میں جلانے کی تجویز دی مگر حکمِ الہی سےآگ ٹھنڈی و سلامتی والی ہوگئی اور کفار کی یہ سازش ناکام ہوئی۔ حضرت لوطؑ، حضرت نوحؑ اور حضرت داؤدؑ پر احسانات کو بیان کیا کہ ان کی دعائیں قبول ہوئیں اور ان کو غموں سے نجات ملی۔ حضرت سلمانؑ کو حکومت دینے اور ان کی دسترس کو بیان کیا جو ان کو ہواؤں اور جنوں کی تسخیر کرنے پر ملی۔ اس کے بعد تین مزید انبیاء کا ذکر کیا جن میں حضرت ایوبؑ، حضرت یونسؑ اور حضرت زکریاؑ پر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور انکی دعاؤں کی قبولیت کو بیان کیا۔
دین اسلام کے بارے میں بتایا کہ تمہارا دین ایک ہی ہے (یعنی اسلام) اور میں تمہارا رب ہوں اور میری عبادت کرو، مگر لوگوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور عنقریب سب ہماری طرف ہی لوٹیں گے۔ زمین کے وارثوں بارے بتایا کہ نیک لوگ ہی زمین کے وارث ہیں اور نبی اکرم کو دونوں جہانوں کے لیے رحمت ہی رحمت بنا کر بھیجاگیاہے۔ علم الہی کی شان کا بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اللہ تعالیٰ بلند آواز سے کہی گئی بات کو بھی جانتا ہے اور اس بات کو بھی جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو۔ منکرین سے متعلق فیصلے کی دعا بیان کی جب نبی اکرم نے فرمایا کہ اے میرے رب، حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے اور ہمارا رب اللہ رحمان ہی ہے جس سے ان باتوں کے خلاف مدد طلب کی جاتی ہے جو تم کرتے ہو۔
سورہ الحج میں جن مضامین کو ذکر ہوا ان میں مرکزی مضمون حج کے بار میں ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے، قیامت کی ہولناکیوں، شیطان کی راہ پر چلنے کا نقصان، تخلیقِ انسانی کے مراحل، عظمت وصفات و شان الہی، قیامت برپا ہونے کی خبر، بتوں کی پوجا، مسلمانوں اور کفار میں حقیقی فیصلہ قیامت کو ہونے، حج کے اعلانِ عام، حج کے دنیاوی فوائد و برکات، حرماتِ الہیہ کی تعظیم، قربانی کے احکام، جہاد اور مدد الہی، سابقہ قوموں کے انجام، انسانوں اور فرشتوں میں سے رسولوں کا انتخاب اور اہلِ ایمان کو متعدد عبادتوں کے احکام بارے مضامین کو شامل کیا گیا۔
حج کے بارے میں حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ معلوم دنوں میں اللہ کے نام کو یاد کریں، اپنے میل کچیل اتاریں اور آزاد گھر کا طواف کریں۔ اللہ کے گھر کے قریب قربانی کریں، عاجزی اختیار کریں، بتوں کی پوجا سے دور رہیں اور بڑی جسامت والے جانوروں کی قربانی کرکے اللہ کا شکر ادا کریں کیونکہ تمہاری پرہیزگاری ہی اللہ کے پاس پہنچتی ہے۔ وہ لوگ جو اللہ کے دین کے غلبے کا کام کرتے ہیں تو اللہ بھی ان لوگوں کی مدد کرتا ہےاور جب ان لوگوں کو اقتدار ملتا ہے تو ہ نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں، بھلائی کا حکم دیتےہیں اوربرائی سے روکتے ہیں۔
بروز آخرت بادشاہی صرف اللہ ہی کی ہوگی جب وہ فیصلہ کردےگا اور ایمان والوں اور اچھے کام کرنے والوں کو نعمتیں اور باغات عطا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو حکم دیا کہ رکوع اور سجدہ کرو، اپنے رب کی عبادت کرو اور اچھے کام کرو اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو وہ تمہارا دوست ہے اور کیا ہی اچھا دوست اور کیا ہی اچھا مددگار۔

