Martinpur Ka Mattu
مارٹن پور کا مٹو

کچھ لوگ دنیا میں صرف جینے کے لیے نہیں آتے، بلکہ اپنی زندگی، فکر اور ہنر سے معاشرے کے تاریک گوشوں میں روشنی بکھیرنے آتے ہیں۔ علم، ادب اور صحافت کا افق ایسے ہی چند گنتی کے درخشندہ ستاروں سے روشن ہے، جن میں سے ایک نمایاں، معتبر اور کثیر الجہت نام عامر سہیل مٹو کا ہے۔ مٹو صاحب محض ایک فرد کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل عہد، ایک مکتبِ فکر اور فن کے مختلف رنگوں کا ایک ایسا خوبصورت گلدستہ ہے جس کی خوشبو نے دور دور تک اپنے چاہنے والوں کو معطر کر رکھا ہے۔ جب ہم ان کی زندگی کے اب تک کے فکری اور پیشہ ورانہ سفر پر نظر ڈالتے ہیں، تو اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ انہوں نے علم و دانش کے میدان میں اپنی ایک الگ اور انفرادی شناخت قائم کی ہے۔
عامر سہیل مٹو کا تعلق کسی بڑے شہر کے صنعتی یا اشرافیہ گھرانے سے نہیں، بلکہ ان کی جڑیں اس دھرتی کی زرخیز مٹی میں بہت گہری ہیں۔ وہ 9 جون 1974 کو ضلع ننکانہ صاحب کے تاریخی اور نواحی گاؤں "مارٹن پور" میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بھی اسی گاؤں کے پرسکون، روایتی اور علمی ماحول سے حاصل کی۔ مارٹن پور کی اس خالص مٹی نے ان کی شخصیت کو وہ سادگی، عاجزی، انسان دوستی اور سچائی دی جو آج بھی ان کے مزاج کا سب سے خوبصورت حصہ ہے۔ گاؤں کی گلیوں سے شروع ہونے والا یہ فکری سفر آگے چل کر انہیں علم و ادب کے بڑے ایوانوں تک لے گیا۔
زندگی کے سفر نے جب نیا رخ اختیار کیا اور ان کے والد محترم کی ملازمت کے سلسلے میں پنجاب کے صوفیانہ اور تاریخی ضلع جھنگ میں پوسٹنگ ہوئی، تو عامر سہیل مٹو کے تعلیمی سفر کا ایک نیا، اہم اور فیصلہ کن باب شروع ہوا۔ انہوں نے اپنی گریجویشن گورنمنٹ ڈگری کالج آدی وال (جھنگ) سے مکمل کی۔ جھنگ کی اس ادبی، ثقافتی اور صوفیانہ فضا نے ان کے اندر چھپے ہوئے تخلیقی انسان کو جلا بخشی۔ یہیں سے ان کے فکری شعور اور مطالعے کی عادت کو نئی سمت ملی۔ اپنی گریجویشن مکمل کرنے کے بعد، وہ علم، ادب اور صحافت کے سمندر سے مزید فیض حاصل کرنے اور اعلیٰ تعلیم کے خوابوں کو تعبیر دینے کے لیے پنجاب کے دل لاہور تشریف لے آئے۔ لاہور کی متحرک علمی فضا نے ان کے ٹیلنٹ کو نکھارنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور آج وہ اسی زندہ دلانِ لاہور کے خوبصورت علاقے "وسیم پارک، نشتر کالونی" میں رہائش پذیر ہیں، جہاں ان کا گھر علم و ادب، دانشوروں اور مخلص دوستوں کی محفلوں کا ایک روشن مرکز بنا رہتا ہے۔
صحافت کی دنیا میں عامر سہیل مٹو کی پہچان ایک ایسے سینئر صحافی اور کالم نگار کی ہے جس نے کبھی مصلحت پسند اصولوں کے آگے سر نہیں جھکایا اور نہ ہی کبھی اپنے قلم کا سودا کیا۔ ان کا کالم صرف الفاظ کا مجموعہ یا عام خبروں کا چربہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ معاشرے کے دکھتے ہوئے ناسوروں پر ایک ماہر جراح کی طرح جراحی کا کام کرتا ہے۔ ان کا قلم جب چلتا ہے تو سچائی کی روشنائی سے حقائق کو آشکار کرتا ہے اور عام قاری سے لے کر اربابِ اختیار تک کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ دورِ حاضر کی صحافت میں جہاں زوال اور مصلحت پسندی عام ہے، وہاں مٹو صاحب کا کالم نگاری کا اسلوب سچ کی شمع جلائے رکھنے کے مترادف ہے۔
صحافت کی اس بے باکی اور پیشہ ورانہ سختی کے ساتھ ساتھ، ان کے اندر کا ادبی انسان ان کی شخصیت کو مزید دلآویز اور متوازن بناتا ہے۔ وہ کلاسیکی اور جدید ادب کا گہرا ذوق رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں روکھے پن کے بجائے ایک خاص قسم کا شعری، جمالیاتی اور ادبی لمس محسوس ہوتا ہے۔ وہ لفظوں کے مزاج، ان کے درست استعمال اور ان کی حرمت کو بخوبی سمجھتے ہیں اور انہیں اپنی تحریروں میں موتیوں کی طرح پرونے کا منفرد ہنر جانتے ہیں۔ ان کی گفتگو ہو یا تحریر، وہ اپنے قارئین اور سامعین کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔
لیکن عامر سہیل مٹو کی شخصیت کا جو پہلو فن کے قدردانوں کو سب سے زیادہ مسحور کرتا ہے، وہ ان کی بے مثل صداکاری (Voice Acting) ہے۔ وہ آواز کی دنیا کے ایک ایسے مسافر رہے ہیں جنہوں نے مائیکروفون کے سامنے بیٹھ کر بے جان لفظوں کو اپنی سانسوں سے زندگی بخشی۔ ان کی اسی بے مثال صلاحیت کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر بھی ہوا، جب انہوں نے سال 2003 میں معروف عالمی نشریاتی ادارے "ریڈیو ویرتاس" (Radio Veritas Asia) کی اردو سروس میں بطور صداکار اپنی آواز کا جادو جگایا اور دنیا بھر میں بسنے والے اردو دان طبقے سے بھرپور داد سمیٹی۔ ریڈیو پر ان کا مخصوص باوقار لہجہ، الفاظ کا درست تلفظ اور آواز کا اتار چڑھاؤ سننے والے کے دل پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ صداکاری کے اس بین الاقوامی اور مقامی سفر نے ان کی ہمہ جہت شخصیت کو چار چاند لگا دیے۔
ایک کالم نگار، صحافی اور صداکار کے روپ سے ہٹ کر اگر انہیں ایک انسان کے طور پر دیکھا جائے، تو وہ ایک سچے دوست، ایک شفیق استاد اور ایک بہترین رہنما ہیں۔ ان کی گفتگو میں جہاں دانشوری، فلسفہ اور تجربہ بولتا ہے، وہاں ان کا حد درجہ عاجزانہ مزاج اور ملنساری سامنے والے انسان کو عمر بھر کے لیے ان کا اسیر بنا لیتی ہے۔ وہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہمیشہ مثبت تعمیری سوچ کو فروغ دیتے ہیں۔
آج کے اس مادی دور میں، جہاں مخلص اور ہمہ جہت شخصیات نایاب ہوتی جا رہی ہیں، عامر سہیل مٹو صاحب کا وجود علم و ادب کے مسافروں کے لیے ایک سایہ دار درخت کی مانند ہے۔ ان کا قلم اور ان کی آواز ہماری صحافت اور ادب کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ دعا ہے کہ علم و ادب اور سچی صحافت کا یہ خوبصورت اور درخشاں سفر یونہی ہمیشہ جاری و ساری رہے، ان کا قلم معاشرے کی اصلاح کے لیے سچ لکھتا رہے، ان کی آواز ریڈیو کے مائیکروفون سے دلوں کو گرماتی رہے اور ان کی فکری بزم یوں ہی سجی رہے۔

