Mazameen e Quran, Sataeesvi Nimaz e Taraweeh
مضامین قرآن، ستائیسویں نمازِ تراویح

آج کی نمازِ تراویح کا آغاز قرآنِ پاک کے آخری پارے عَمَّ سے ہوتا ہے۔ تیسویں پارے کے کل 39 رکوع اور اس میں کل 37 سورتیں ہیں، 35 مکی اور 2 مدنی ہیں۔ پارے کا آغاز سورہ النَّبَاِ سے ہوتا ہےجس میں دلائل کے ساتھ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو ثابت کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کی برپا ہونے والوں کے سوال پر انہیں تنبیہ کی ہے کیونکہ مشرکینِ مکہ مرنے کے بعد زندہ ہونے بارے تمسخر کرتے تھے۔
ان نافرمانوں کو اللہ تعالیٰ نے سوچ و فکرکے لیے قدرت الہیہ کے آثار پر جن میں زمین کو بچھونا بنانے، پہاڑوں کو اُن کی میخیں، ہر چیز کے جوڑے، نیند کو آرام کا ذریعہ، رات کو ڈھانپے والی، دن کو روزی کمانے، سات آسمان، اس میں سورج، بادل سے پانی، زمین میں اناج و سبزہ اور گھنے باغات جیسے دلائل دے کر بتلایا کہ کیا اللہ تعالی دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ اس دن صور پھونکا جائے گا اور تم سب فوج در فوج چلے آؤ گےاور سرکشوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اُس دن تمہارے لیے جہنم کو تیار کیا جائے گا اور متقی و پرہیزگاروں کو ان کے مطابق صلہ دیا جائے گا۔ وہ سچا دن ہے جو وقوع ہو کر رہے گااس دن کفار کہیں گے اے کاش ہم کسی طرح مٹی ہو جاتے۔
اللہ تعالی کے فرشتے اس کائنات کا نظام چلانے پر معمور ہیں اور وہی نیک و بد انسانوں کی روح قبض کرتے ہیں۔ تمام مرے ہوئے لوگ اللہ تعالیٰ کے ایک حکم پر قبروں سے باہر نکل آئیں گے اور صبح و شام کسی وقت بھی اچانک قیامت برپا ہو جائے گی۔ قرآن کریم نصیحت کا پیغام ہے۔ ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتومؓ کا واقعہ بیان ہوا جب وہ آقاﷺ بارگاہ میں حاضر ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نبیﷺ اگر کوئی بھی شخص آپ کے پاس نصیحت کے لئے آتا ہے تو آپ اس کی اصلاح فرمائیں۔
روزِ قیامت اہلِ ایمان اور رشتہ داروں کا حال بیان کیا کہ ہر کسی کو اپنی ہی فکر ہوگی۔ قرآن کریم اللہ تعالی کی کتاب ہے جو حضرت جبرائیلؑ کے ذریعے نازل ہوئی۔ واضح کر دیا گیا کہ اللہ کے رسولﷺ غیب کی خبر بتانے میں بخیل نہیں ہیں، قرآن پر اعتراض نہ کرو اور ہر وقت مشیت الہی کے تابع رہو کیونکہ اللہ تعالی کے فرشتے تمہارے اعمال لکھتے ہیں۔ ناپ تول میں خیانت نہ کرو کیونکہ روزِ جزا انصاف قائم ہوگا اور اسے جھٹلانے والوں کا برا انجام ہوگا جبکہ کے نیک لوگوں کے لیے جنتی انعامات ہوں گے۔ کچھ بندوں کو دائیں ہاتھ میں اعمال دیا جائے گا اور کچھ کو پسِ پشت اعمال نامے دئیے جائیں گے۔
اہلِ اخدود کا واقعہ بیان ہوا جن میں ایک لڑکا تھا جو شاہی خرچے پر جوان ہوا اور پھر مسلمان ہوگیا جس پر بادشاہ نے اس کے قتل کا فیصلہ کیا اور نوجوان نے ایمان پر اپنی جان قربان کر دی۔ نوجوان کی اس بات سے متاثر ہو کر بادشاہ کی رعیت مسلمان ہوگئی۔ بادشاہ نے خندقیں کھدوا کر اس میں آگ جلا دی اور اعلان کروا دیا کہ جو ایمان سے منحرف نہ ہوا تو اسے خندق میں پھینک دیا جائے گا، لوگ مر گئے مگر ایمان سے دستبردار نہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے کھائی والوں پر لعنت کی، فرعون اور ثمود کا ذکر کرکے فرمایا کہ اللہ تعالی کفار کو پیچھے سے گھیرے ہوئے ہے اور بزرگی والا قرآن لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ قرآن کریم حق و باطل میں امتیاز کرنے والی کتاب ہے، کفار سازشیں کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا توڑ کر رہا ہے، نافرمانوں کو مہلت دو کیونکہ یہ اللہ تعالی سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتے۔ صرف وہی لوگ کامیا ب ہیں جو اپنےنفس کی اصلاح کرکے اِ سے پاکیزہ بناتے ہیں اور ذکر اللہ و نماز کے عادی ہوتے ہیں۔
اصل زندگی آخرت کی ہی زندگی ہے جو کہ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسیٰؑ پر نازل کردہ کتابوں میں لکھی ہوئی ہے۔ اس لیے مومنوں کے لیے جنت کی نعمتیں ہوں گی اور کفار پر مشقت و عذاب ہوگا۔ وہ لوگ جو یتیموں اور مسکینوں کی حق تلفی کرتے ہیں وہ سخت نقصان میں ہوں گے، فرشتے قیامت کے دن صف بندی کرکے کھڑے ہو جائیں گے اور جہنم کو لا کھڑا کیا جائے گا اس وقت کفار کو سمجھ آئے گی مگر وقت گزر چکا ہوگا۔ جو اللہ تعالیٰ اور اسکے نبیﷺ کے فرمانبردار ہوں گے ان سے اللہ تعالی فرمائے گا کہ اے اطمینان والی جان، اپنے رب کی طرف اس حال میں واپس آ کہ تواُس سےراضی ہو اور وہ تجھ سے راضی ہو۔ پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔
اللہ تعالیٰ نے والد اور اولاد کی قسم کھا کر بتایا کہ اس دنیا میں انسان تکلیف، مشقت اور آزمائشوں سے گزرتا رہےگا۔ جس نے نیکی کی راہ میں مشقت اٹھائی تو اسے اجر وثواب دیاجائے گا اور جو بدی کی راہ چلا تو وہ مستحقِ عذاب ہوگا۔ انسانوں کو دوسرے انسانوں کے ساتھ اچھے تعلق اور خدمتِ خلق کا درس دیا۔ سات قسمیں کھا کر واضح کر دیا کہ ہم نے انسان کو عقلِ سلیم عطا کی ہے کہ وہ نیکی اور بدی میں تمیز کر سکے۔ رات، دن اور مذکر و مؤنث کی تین قسمیں کھا کر بتایاکہ نیکی و بدی، خیر و شر کے حوالے سے انسان کے اعمال پرکھے جائیں گے۔ جو اللہ تعالی کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتا ہے اللہ تعالی اس سے راضی ہو جاتا ہے۔
چڑھتے دن اور رات کی شکل میں اُس ڈھانپ لینے کی قسم کھا کر آقاﷺ کو تسلی دی کہ تمہارے رب نے تمہیں نہیں چھوڑا اور نہ ہی ناپسند کیا ہے اور تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے۔ اس کے بعد آقاﷺ کے اعلی و بلند مرتبوں کا بیان کیا کہ آپ کے سینہ کھول دیا گیا اور آ پ کو نبوت کی ذمہ داریاں دی گئیں اور پھر اپنے ذکرکے ساتھ آپ کا ذکر بلند کر دیا۔ تین مقامات (طور، بیت المقدس اور مکہ مکرمہ) کی قسم کھا کر فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین شاہکار قدرت، حسین و جمیل اور مناسب شکل و صورت عطا کی۔
انسان کی سرکشیاں بیان کرکے بتایا کہ تمہارے لیے بہترین نصاب تعلیم قرآن کریم ہے جو کوئی اس سے روگردانی کرے گا اسے گناہوں سےآلودہ پیشانی سے گھسیٹ کر جنہم رسید کر دیا جائے گا اس لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اس کا قرب حاصل کرو۔ لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کی کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے کیونکہ اس رات قرآن کریم نازل ہوا جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے عزت و عظمت حاصل کرنی ہے تو اس کتاب کے ساتھ جڑ جاؤ اور اس رات خوب عبادت کرو۔
جاہلوں، عیسائیوں اور مشرکین کے بغض و عناد کا ذکر کیاکہ یہ سب اسلام کو نقصان پہنچانے میں باہم متحد ہیں مگر یہ سب جہنم کی آگ کا ایندھن ہیں اور سب سے بدتر مخلوق ہیں۔ قیامت جیسے ہولناک دن میں معمولی سے معمولی خیر و شرکے عمل کا بدلہ مل کر رہے گا۔ جہاد فی سبیل اللہ کی عظمت و اہمیت کا اجاگر کرنے کے لیے مجاہدین کی سواریوں کی قسمیں کھائیں۔ انسان کی ایک خصلت کو بیان کیا کہ مال کی حرص قبر تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی جبکہ یہ اس مال کی کوئی حثیت نہیں۔ زمانے کی قسم کھاکر بتایا کہ کون لوگ کامیا ب ہیں اور ان کی کیا صفات ہوتی ہیں۔ وہی لوگ کامیاب ہیں جو ایمان والے، اعمال صالحہ کرنے والے، حق کی تلقین کرنے والے اور حق کے راستے میں پیش آنے والی مشکلات پر صبر کرنے والے ہیں۔ وہ لوگ جو دوسرے لوگوں کا تمسخر کرتے اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں، ان پر طعنہ زنی کرتے ہیں اور حبِ مال میں مبتلا ہیں وہ ایسا نہ کریں وگرنہ ان کا انجام عبرتناک کو گا۔
ابرہہ کا ہاتھیوں کے ساتھ خانہ کعبہ پر حملہ کرنے اور اس کے عبرتناک انجام کو بیان کیا۔ ان لوگوں کا حال بیان کیا جو اللہ تعالیٰ کی بے پناہ نعمتوں کے باوجود بھی اپنے رب کی عبادت نہیں کرتے اور اس کے دینِ متین کا دفاع نہیں کرتے۔ انسان کو خدمتِ خلق اور لوگوں سے حسنِ سلوک کا درس دیا کہ برتنے کی چیزیں ایک دوسرے کو دیا کرو، یتیموں کی کفالت کیا کرو اور نماز میں سستی سے بچتے رہو۔ یہ سب کام اللہ تعالی کی رضا کے لیے کرو نہ کہ دکھلاوے کے لیے اور ریا کاری سے بچتے رہو۔
اے نبیﷺ ہم نے آپ کو کثرت عطا کرتے ہوئے بہت سی خوبیاں (تمام مخلوق پر افضلیت، خاتم النبین، حسنِ ظاہروباطن، عالی نسب، کتابِ عظیم، علمِ غیب عطائی، حوضِ کوثر، مقامِ محمود، کثرتِ امت) عطا فرمائی پس تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو بے شک تمہارا دشمن ہی ہر خیر سے محروم ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آقاﷺ کی ذات اقدس بہت ہی بلند ہے اور اُن کے گستاخ کر اور ادنیٰ سی گستاخی کا جواب اللہ تعالیٰ خود دیتا ہے۔ اسلام کے علاوہ کوئی دین قابلِ قبول نہیں اور جس نے ان کفار و مشرکین کی پیروی کی تم اے نبیﷺ اس بیزار ہو جاؤ اور کہہ دو کہ تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔
اللہ تعالیٰ نے فتحِ مکہ کی پیشن گوئی کی کہ جوق در جوق لوگ اسلام میں داخل ہوں گے اس لیے آپ اپنے رب کی حمد بیان کرو اور استغفار کرتے رہو۔ اللہ عزوجل و رسول اللہﷺ کے دشمنوں کو عبرتناک انجام سے ڈرایا اور ابوجہل کی بدترین موت جو کہ کالے دانے کے سبب ہوئی جسے عرب میں عدسہ کہتے ہیں اور متعدی بیماری ہے اس کی وجہ سے تین دن تک ابو جہل کی لاش پڑی رہی جو کہ پھٹ گئی اور اس سے شدید بدبو آنے لگی اور پھر اجرت دے کر مزدوروں سے پھینکوائی گئی۔
مشکرین کے تمام باطل عقائد کو رد کر دیا اور اللہ تعالی کی توحید بیان کر دی کہ اللہ تعالی ایک ہی ہے، بےنیاز اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ ہی اسکی کوئی اولاد ہے۔ انسان کو تمام مخلوقات کے شر سے بچنے اور ان سے پناہ مانگتے رہنے کی تکقین کی جن میں شیطان، جادوگروں، حاسدوں اور تمام منتر پڑھنے والے شامل ہیں۔ اسی طرح وسوسہ پیدا کرنے والوں سے بھی اللہ تعالی کی پناہ مانگتے رہو۔ آقاﷺ کو معمول تھا کہ جب اُن کے اہل میں سے کوئی بیمار ہو جاتا تو آپ معوذات (سورہ فلق و ناس) پڑھ کر اس پر دم کرتے۔
دعاء ختم القرآن، "اے اللہ! میری قبر سے میری وحشت اور پریشانی کو دور فرما، اے اللہ قرآنِ عظیم کی برکت اور رحمت سے مجھے نواز دے قرآن کو میرے لئے رہنما اور پیشوا بنا اور ساتھ ہی نور اور سببِ ہدایت اور رحمت بنا، الٰہی! اس میں سے جو میں بھول گیا ہوں مجھے یاد دلا دے اور اس میں سے جو میں نہیں جانتا وہ مجھ کو سِکھا دے اور رات دن مجھے اس کی تلاوت نصیب فرما اور قیامت کے روز اس کو میرے لئے دلیل بنا اے سارے عالَم کی پرورش کرنے والے"۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ قرآن کریم کےان مضامین کو قبول فرمائے اور تمام لوگوں کے لئے نفع و فائدے والا بنائے کر اصلاح معاشرہ کا بہترین ذریعہ بنائے اور اس دوران جو بھی کمی و بیشی ہوگئی ہے اس کی معافی عطا کرے۔

