Saturday, 21 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Ahmad Qazi
  4. Mazameen e Quran, Pacheesvi Nimaz e Taraweeh

Mazameen e Quran, Pacheesvi Nimaz e Taraweeh

مضامین قرآن، پچیسویں نمازِ تراویح

آج کی نمازِ تراویح اٹھائیسویں پارے پر مشتمل ہے جس کے کل 20 رکوع اور 9 سورہ مبارکہ شامل ہیں۔ اس پارے کی ابتدائی سورۃ المجادلہ میں ایک خاتون کی نبی اکرمﷺ سے خوبصورت بحث و مباحثہ اور ظہار کے مضامین وارد ہوئے ہیں جب حضرت اوس بن صامتؓ نے اپنی بیوی خولہ بنت ثعبلہؓ کو کہا کہ تمہاری پشت میری ماں کے مشابہ ہے۔ یہ کلمہ زمانہ جاہلیت میں طلاق شمار کیا جاتا تھا اور ایسا کہنے سے بیوی شوہر پر حرام ہو جاتی تھی۔ جبکہ اسوقت تک ظہار بارے وحی نہیں آئی تھی اور خولہ بنت ثعبلہ کو آقاﷺ نے فرمایا کہ تیرے بارے میرے پاس کوئی حکم نہیں۔ سرکارﷺ یہی جواب دیتے رہے کہ تم اپنے شوہر پر حرام ہوگئی ہو۔ جب خولہ بنت ثعبلہؓ نے جواب نہ پایا تو اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرکے اس مسئلے کے حل اور حکم کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے دعا کو قبولیت عطا کرکے ظہار کو جھوٹ اور گناہ کا موجب جرم قرار دیا۔

آدابِ رسالت مآبﷺ کو بیان کیا کہ جب تم تنہائی میں حضورﷺ سے بات کرنا چاہو تو اس سے پہلے کچھ صدقہ دے دو کہ یہ تمہارے لئے بہتر اور پاکیزہ ہے۔ تم نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو اور اللہ عزوجل اور رسول اللہﷺ کے فرمانبردار رہو۔ مومنین کو اللہ اور اسکے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرنے سےمنع کیا گیا ہےچاہے وہ ان کے باپ، بیٹےیا خاندان والے ہوں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانؒ فرماتے ہیں کہ اس آیتِ کریمہ میں صاف فرما دیا کہ جو اللہ یا رسول کی جناب میں گستاخی کرے، مسلمان اُس سے دوستی نہ کرے گا، جس کا صریح مفاد ہوا کہ جو اس سے دوستی کرے گا وہ مسلمان نہ ہوگا۔ اگر کوئی اللہ عزوجل اور رسول اللہﷺ کی عظمت پر سب وار دے گا تو پھر اللہ تعالی ان سے راضی اور وہ اللہ تعالی سے راضی ہوئے، یہ اللہ کی جماعت ہےاور یہی جماعت کامیاب ہے۔

سورہ حشر کو سورہ بنی النضیر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس سورہ میں بنی نضیر قبیلہ کے محاصرے اور جلاوطنی کے مضامین آئے ہیں کیونکہ یہ خفیہ طریقہ پر مشرکین مکہ کی حمایت اور مسلمانوں کی مخالفت کرتے تھے۔ مالِ فئے کا ذکر ہوا جو کہ وہ مال ہے جسے بغیر جنگ کے کفار سے حاصل کیا گیا ہو اور بتایا کہ مالِ فئے کو نبیﷺکے گھر والوں، غرباء، مساکین اور ضرورتمندوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سورہ میں اسلامی معیشت کے اصول، مال کی تقسیم اور ان کو کن جگہوں پر استعمال کیا جا سکتا ہے وہ سمجھائے گئے۔ منافقوں کی یہودیوں سے ساز باز، منافقوں کی بزدلی، منافقوں کا شیاطین کی طرح دھوکہ دہی بارے مضامین شامل کئے ہیں۔

اس پارے کی باقی سورتوں میں جو مضامین آئے ہیں ان میں کفار و مشرکین کے ساتھ دوستی سے ممانعت، کفار کی عداوت کا حال، حضرت ابرہیمؑ کا واقعہ، دعائیں اور کفار سے براؑت کا بیان ہوا۔ انسان کے قول و عمل میں تضاد کی مذمت کی کہ جو بات کرو اس پر عمل بھی کرو اور اللہ تعالی کی طرف جھوٹی بات منسوب نہ کرو۔ نبی اکرمﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کرکے بتایا کہ دینِ الہی کی مدد کرو۔ شرک، چوری، زنا، الزام تراشی، قتلِ اولاد اور نبی اکرمﷺ کی مخالفت سے اجتناب کرنے کی تلقین کی۔ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دی اور سب کو مضبوط دیوار بننے کا درس دیا اور سب کو اعلاء کلمتہ اللہ کے لیے اللہ تعالی کی راہ میں کفار و مشرکین سے لڑنے کی تاکید کی ہے اور جہاد فی سبیل اللہ کو کامیاب تجارت قرار دیا ہے۔

یہودیوں کا تذکرہ کرتے ہوا بتایا کہ انہوں نے آسمانی کتابوں سے وہ فیض حاصل نہ کیا جس کے لئے ان پر انبیاء و رسلؑ کو بھیجا گیا تھا۔ مسلمانوں کو بتایا کہ جب جمعہ کی آذان ہو جانے کے بعد سب کام چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی یاد اور نماز کی طرف دوڑو اور اس کام میں مشغول ہو جاؤ کیونکہ اسی میں ترقی کا راز ہے، اللہ تعالیٰ ہی بہترین رزق دینے والاہے۔ اس پارے میں منافقین کا حال بیان ہوا کہ ان کے دل اور زبان میں اتفاق نہیں اس لیے مسلمانوں کو ان پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ مسلمانوں کو ترغیب دی گئی کہ وہ داعی اجل کو لبیک کہنے سے پہلے پہلے اللہ تعالی کی راہ میں مال خرچ کریں، صدقہ دیں اور صالحین میں شامل ہو جائیں کیونکہ جب مقررہ وقت آ جائے گا تو پھر کسی کو کوئی مہلت نہیں دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ سب کاموں سے خوب خبردار ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کو واضح کر دیا مگر نافرمان قوموں نے ان سے سبق نہ لیا اور عذابِ الہی کی حقدار بن گئیں۔ جنہم ایسے لوگوں کے لیے بدترین ٹھکانہ ہے، دنیا کی چیزیں انسان کے لیے آزمائش ہیں جن میں بیوی اور بچے سب سے زیادہ آزمائش کا ذریعہ بنتے ہیں۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے طلاق، عدت، رجوع، بچوں کی رضاعت اور نان نفقہ کے احکام کو بیا ن کئے تاکہ ان کو اپنا کر انسان معاشرتی زندگی کے امور اچھے طریق پر سرانجام دے سکے۔ اگر پھر بھی انسان ان پر عمل نہیں کرتا اور ان حدود سے تجاوز کرتا ہے تو وہ ظالموں میں شامل ہے۔

واقعہ تحریم کو بیان کرکے حال چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرنے کی تنبیہ کی گئی کہ حلت و حرمت کا کام صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ انسان کی پریشانی کو ختم کیاکہ اگر وہ قسم کھا لے تو پھر اس کا کیا کفارہ ادا کرے اور کیسے قسم پوری ہوگی۔ آقاﷺ کی ایک زوجہ محترمہ نے راز افشان کردیا تو ان کو توبہ کرنے کی تاکید اور تنبیہ کی گئی اور اچھی بیویوں کے اوصاف بیان کئے۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے حضرت نوحؑ اور حضرت لوطؑ کی بیویوں کی مثال دی کہ کس طرح انہوں نے خیانت کی تو پھر جہنم کی حقدار ٹھہریں۔ اہلِ ایمان کو فرعون کی مومنہ بیوی اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کی مثال دی کہ کس طرح عمرانؑ کی بیٹی نے اپنی پرسائی کی حفاظت کی اور وہ بے شک فرمانبرداروں میں سے تھی۔

Check Also

Har Mard Doosri Shadi Kyun Nahi Kar Sakta?

By Hafeez Babar