Wednesday, 11 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Ahmad Qazi
  4. Mazameen e Quran, Baaisvi Nimaz e Taraweeh

Mazameen e Quran, Baaisvi Nimaz e Taraweeh

مضامین قرآن، بائسویں نمازِ تراویح

پچیسویں پارے کے کل 20 رکوع ہیں جو سورہ حٰم السجدہ (1 رکوع)، سورہ الشورٰی (5 رکوع)، سورہ الزُخرُف (7 رکوع)، سورہ الدخان (3 رکوع) اور سورہ الجاثیہ (4 رکوع) پر مشتمل ہے۔ اس پارے کے ابتداء میں سورہ حٰم کا ایک رکوع ہے جس میں کائناتِ ارض و سماء (قیامت، شگوفوں سے نکلنے والے پھلوں) اور وجودِ انسانی (حمل و وضع حمل) کو بیان کرکے اللہ تعالی کی قدرت، وجود اور عظمت و جلالت کی گواہی دی گئی ہے۔

انسان کی ایک عادت بتائی گئی کہ وہ اپنے لیے بھلائی کی دعا مانگتے کبھی نہیں تھکتا اور اگر اُسے کبھی کوئی شر، مصیبت یا آزمائش پہنچ جائے تو وہ مایوس و ناامید ہو جاتا ہے۔ کافروں، مشرکوں اور منکروں کو خطاب کرکے بتایا گیا کہ ہم تمہیں تمہارے اعمالِ بد کی وجہ سے سخت عذاب چکھائیں گے۔

سورہ الشوریٰ میں مرکزی مضمون اللہ تعالی کے ان نیک بندوں بارے ہے جو باہمی مشورے سے معاملات طے کرتے ہیں۔ سورہ میں قرآن کریم کی حقانیت، عظمت و شان اور عالمگیریت بیان کرکے توحید کا پیغام دیا اور معبودانِ باطل کے اعمال کا رد کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی طاقت کا بیان کیا کہ اگر میں چاہوں تو ہر کسی کو اسلام میں داخل کردوں مگر ہم نے انسان کو اختیار دیا ہے کہ وہ فیصلہ خود کرے تاکہ بروزِ قیامت جزا و سزا اسی کے مطابق مقرر ہو سکے۔ فرقہ بندی پر اہلِ کتاب کی ملالت، دین الہی میں جھگڑنے والوں کو وعیدیں، کفار سے متعلق آقاﷺ کو چند ہدایات، اوصافِ باری تعالیٰ (آسمانوں و زمینوں کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے، و ہ جو چاہیے پیدا کرے، جس کو چاہے بیٹیاں دےاور جسے چاہے بیٹے اور جسے چاہے بانجھ رکھے) اور انبیاء علیہم السلام کی طرف وحی کی صورتیں بیان کی گئیں۔

سورہ الزُخرُف میں عظمت و شانِ قرآنِ کریم اور اسے عربی میں اتارنے کی حکمت کا بیان ہے۔ کفار کا مذاق اڑانے پر آقاﷺ کو تسلی، ذاتِ الہی پر دلالت، سواریوں کی اہمیت اور ان سے فائدہ حاصل کرنے، اللہ تعالیٰ کے لیے اولادکا عقیدہ رکھنے والوں کا رد، بیٹی کی پیدائش پر کفار کا حال بتایا کہ ان کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے، عورتوں میں پائے جانے والی دو کمزوریاں بیان کی ہیں۔ کفار کے اس مطالبے کا رد کر دیا کہ قرآن کریم مکہ و طائف کے بڑے سرداروں (ولید بن مغیرہ اور ابو مسعود ثقفی) پر نازل کیوں نہ ہوا؟ اللہ تعالی نے جواب دیا کہ یہ رحمٰن کی تقسیم ہے اور جو رحمٰن کی یاد سے غافل ہو وہ اندھا ہو جاتا ہےاور اس پر ہم شیطان مسلط کر دیتے ہیں جبکہ اہلِ تقویٰ ہر قسم کے خوف، رنج و الم سے آزاد ہو کر جنت میں داخل کر دیے جائیں گے جہاں وہ ہنسی خوشی رہیں گے۔

سورہ الدخان میں ایک مبارک رات کا ذکر ہے جس سے اکثر مفسرین نے لیلۃ المبارک مراد لی اور بعض نے شعبان المعظم کی پندرھویں رات اور یہ ایسی رات ہے جس میں طے شدہ معاملات فرشتوں کے سپرد کئے جاتے ہیں۔ کفارِ قریش کے لیے وعیدیں، کفارِ قریش کے عہد ایمان کی تردید، ان کی دعا کا جواب، ان کو روزِ قیامت گرفت کی یاد دہانی اور ان کو قومِ فرعون کے مشابہت قراردیا گیا۔

حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا واقعہ بیان ہوا جس میں حضرت موسیٰؑ کا بنی اسرائیل کی واپسی کا مطالبہ، فرعون کو نصیحت اور فرعون کا جواب، فرعونیوں کی تباہی و بربادی اور روزِ قیامت کے احوال بیان کئے گئے ہیں۔ سورہ الجاثیہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و جلالت کی نشانیوں، معبودانِ باطل کو گمرہ قرار دیا اور بتا دیا کہ ان کی سماعتوں اور دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے۔ اس بات کو ایک بار پھر واضع کر دیا کہ کفار اور اہلِ ایمان کے ساتھ یکساں معاملہ نہ ہوگا اور ہر چیز کسی مقصد کے تحت ہی تخلیق کی گئی ہے، بے شک روزِ قیامت اہلِ باطل ہی خسارے میں ہوں گے۔

منکرینِ آخرت بارے مضامین شامل کرکے ان کے عقائدِ باطلہ کی نفی کر دی وہی رب ہے جو تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا اور وہاں تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا کیونکہ دینا میں تم نے اللہ تعالی کی آیتوں کا مذاق بنایا پس آج نہ تم آگ سے نکالے جاؤ گے اور نہ ہی اللہ تعالی تم سے راضی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے سب خوبیاں ہیں آسمانوں، زمینوں اور سارے جہان کا رب ہے اور آسمان و زمین میں اسی کے لیے بڑائی ہے اور عزت والا، حکمت والا ہے۔

Check Also

Talkh Sachaiyan

By Syed Mehdi Bukhari