Aks e Muashra: Barkarton Walay Log Aur Hum
عکس معاشرہ: برکتوں والے لوگ اور ہم

یہ ماننا پڑے گا کہ وقت نے صرف گھڑیوں کی سوئیاں نہیں بدلیں بلکہ ہمارے جینے کا ڈھنگ اور معاشرے کا مزاج ہی بدل دیا ہے۔ کبھی وہ دور تھا جب انسان اور قدرت کا رشتہ گہرا تھا۔ وہ معاشرہ جو کبھی سورج کی پہلی کرن کے ساتھ بیدار ہوتا تھا آج آدھی رات کو بھی جاگ رہا ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب فجر کی اذان کے ساتھ ہی چولہے جل جاتے تھے اور گلیوں میں زندگی کی چہل پہل شروع ہو جاتی تھی مگر آج صبح آٹھ بجے بھی گلیوں پر ہو کا عالم ہوتا ہے۔
پرانے لوگ صبح جلدی اٹھنے کے عادی تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ رزق اور برکت صبح کے وقت تقسیم ہوتی ہے۔ تب کسان کھیتوں میں ہوتا تھا اور دکاندار اپنی دکان کی دہلیز پر جھاڑو دے کر رب کا نام لے کر کام شروع کر چکا ہوتا تھا۔ آج ہم نے اس ترتیب کو الٹ دیا ہے۔ اب جب ہم صبح آنکھیں کھولتے ہیں تو بازاروں میں ویرانی ہوتی ہے، شٹر گرے ہوتے ہیں اور معیشت کا پہیہ جیسے تھم سا جاتا ہے۔ وہ برکت جو علی الصبح کے کاموں میں چھپی تھی اب شاید موبائل کی سکرینوں اور راتوں کی بے سکونی میں کہیں کھو گئی ہے۔
جب میں امورِ زندگی کے لئے مختلف شہروں کا رخ کرتا ہوں تو وہاں کے حالات کا جائزہ لیتا ہوں۔ آج ہمارے شہر، قصبے حتٰی کہ دیہات میں سب کچھ بدلا ہوا نظر آتا ہے۔ وہ علاقے جو کبھی اپنی سادگی اور نظم و ضبط کے لیے پہچانے جاتے تھے آج جدیدیت کی ایسی دوڑ میں ہیں جہاں ہم نے بہت کچھ پا کر بھی شاید وہ "سکون" کھو دیا ہے جو ہماری مٹی کی پہچان تھا۔ مجھے یاد ہے اپنا وہ بچپن جب فجر کی نماز اور ناشتے کے فوراً بعد ہی شہر میں کاروبارِ زندگی شروع ہو جاتا تھا۔ مین بازار ہری پور ہو یا کپڑا بازار، گلیوں میں زندگی کی چہل پہل سورج نکلنے سے پہلے ہی شروع ہو جاتی تھی۔ نبی کریم کی دعا ہے: "اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما"۔ مگر آج جب ہم صبح بازاروں سے گزریں تو وہاں ہو کا عالم ہوتا ہے، شٹر گرے ہوتے ہیں اور چہل پہل کا تھمی ہوتی ہے کیونکہ معاشرہ "خوابِ خرگوش" کے مزے لے رہا ہے۔ دکاندار اب دوپہر کو دکان کھولتا ہے اور پھر برکت نہ ہونے کا گلہ کرتا ہے حالانکہ برکت تو اس وقت تقسیم ہو رہی تھی جب وہ غفلت کی نیند سو رہا تھا۔
پہلے وقتوں میں ایک خاموش مگر طاقتور نظم و ضبط تھا۔ اذانِ مغرب کے ساتھ ہی بازار بند ہونا شروع ہو جایا کرتے تھے اور ہر شخص اپنے گھر کی راہ لیتا تھا۔ راتیں سونے اور آرام کے لیے تھیں جیسا کہ سنتِ نبوی ہے کہ حضور اکرم عشاء کے بعد بلا ضرورت بات چیت کو ناپسند فرماتے تھے۔ اُس دور میں ہوٹلوں پر بیٹھنا یا باہر کھانا پینا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ قصبوں اور شہروں میں ہوٹل محض مسافروں کے لیے تھے جہاں صرف کڑک چائے ملتی تھی اور لوگ گھر کے سادہ دسترخوان کو ہی عافیت سمجھتے تھے۔ مگر آج آدھی رات بھی شہر کے ہوٹلوں پر ہجوم ہے، روشنیاں چمک رہی ہیں، رنگ برنگے کھانے و پکوان بن رہے ہیں اور نوجوان نسل اپنی صحت اور وقت دونوں برباد کر رہی ہے۔
اگر آپ آدھی رات کو شہر کا رخ کریں تو منظر ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ وہ وقت جو آرام اور سکون کے لیے مقرر تھا اب شاپنگ اور تفریح کا وقت بن چکا ہے۔ مارکیٹیں کھلی ہیں، ہوٹلوں پر ہجوم ہے اور نوجوان نسل کیفوں میں بیٹھی وقت کو دھوئیں میں اڑا رہی ہے۔ ہم نے مصنوعی روشنیوں سے راتوں کو تو منور کر لیا مگر وہ ذہنی سکون اور جسمانی تندرستی گنوا دی جو فطرت کے ساتھ چلنے میں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں "عصر" یعنی وقت کی قسم کھائی جو اس کی اہمیت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ وقت وہ واحد سرمایہ ہے جو ضائع ہو جائے تو دوبارہ نہیں ملتا۔ اگر ہم اپنے روزمرہ کے کاموں کو وقت کی پابندی اور سنتِ نبوی کے مطابق ڈھال لیں تو نہ صرف ہماری معیشت بہتر ہوگی بلکہ ہماری نسلوں کی صحت اور اخلاق بھی محفوظ رہیں گے۔ امورِ زندگی کو وقت پر نپٹانا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ تبدیلی کیوں آئی بلکہ سوال یہ ہے کہ اس تبدیلی نے ہمیں دیا کیا؟ ہم نے دیر سے اٹھنے کو "ماڈرن لائف اسٹائل" تو قرار دے دیا لیکن اس کے نتیجے میں آنے والی سستی، بے برکتی اور بے سکونی کا حل کسی کے پاس نہیں۔ وقت نے سب بدل دیا ہے مگر شاید اب وقت آگیا ہے کہ ہم واپس پلٹ کر دیکھیں کہ ہم نے اس دوڑ میں کیا پایا اور کیا کھویا۔ تبدیلی کا سفر ہمیشہ واپسی سے شروع ہوتا ہے۔ اگر ہمیں وہی سکون، وہی برکتیں اور وہی صحت مند معاشرہ دوبارہ چاہیے تو ہمیں اپنے ماضی کی طرف لوٹ جانا چاہیے۔ ہمیں دوبارہ اسی سحر خیزی کو اپنا کر ان روایات کو زندہ کرنا ہوگا جو ہمارے بزرگوں کا خاصہ تھیں۔ ہم اپنی اصل کی طرف لوٹ آئیں کیونکہ سچی ترقی فطرت سے لڑنے میں نہیں بلکہ فطرت کے ساتھ چلنے میں ہے۔ اگر ہم اب بھی نہ جاگے تو وہ دن دور نہیں جب معاشرے کا یہ "عکس" مزید دھندلا جائے گا۔

