Aalmi Sifarat Kari Aur Pakistan Zindabad
عالمی سفارت کاری اور پاکستان زندہ باد

گزشتہ برس 22 اپریل کے پہلگام واقعے سے لے کر 28 فروری کو ایران۔ امریکہ جنگ کے آغاز تک دنیا نے ایک کے بعد ایک ایسے بین الاقوامی واقعات دیکھے جنہوں نے عالمی سیاست کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ ان تمام ہنگامہ خیز حالات میں پاکستان نہ صرف ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھرا بلکہ اپنی بہترین سفارت کاری، عسکری مہارت اور قائدانہ کردار کی وجہ سے عالمی منظرنامے پر اپنی شان و شوکت کے ساتھ نمایاں ہوا۔
بھارت کے ساتھ چار روزہ جنگ میں پاک فوج نے جس عسکری مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا اس نے نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ بھارت کو تاریخی شکست، ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ دنیا بھر کے دفاعی ماہرین پاک فوج کی حکمتِ عملی اور جرات کے معترف نظر آئے۔ یہاں تک کہ امریکی صدر بھی ہر محفل میں بھارت کو اس کے گرائے گئے جہازوں کی گنتی یاد دلاتے رہے جو بھارت کے لیے ایک مستقل سفارتی شرمندگی بن گئی۔
بھارت نے اپنی اس شکست کا رخ بدلنے کے لیے ایک نئی چال چلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے صیہونی ریاست اسرائیل کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف نئی محاذ آرائی کا عندیہ دینا شروع کیا۔ مگر پاکستان کے واضح اور دوٹوک جواب نے ان عزائم کو ابتدا ہی میں بے نقاب کر دیا۔ اس صورتحال میں اسرائیل نے اپنی جارحیت کا رخ قطر کی طرف موڑ دیا اور گزشتہ ستمبر میں میزائل حملہ کر دیا، حالانکہ خلیجی ممالک میں امریکہ کے دفاعی اڈے موجود ہیں۔
خلیجی ریاستوں نے امریکہ کو یہ اڈے اسی یقین کے ساتھ دیے تھے کہ وہ ان کے دفاع کو یقینی بنائے گا مگر قطر پر حملے نے واضح کر دیا کہ امریکہ پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب خطے کی سیاسی ترجیحات بدلنا شروع ہوئیں۔ سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور اعتماد کا واضح ثبوت تھا۔
قطر کی جانب سے کوئی مؤثر ردعمل سامنے نہ آنے پر اسرائیل نے ایران پر حملے کی سازش تیار کی اور امریکہ کو بھی اس میں شامل کر لیا۔ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا۔ ایرانی قیادت کی شہادت پر امریکہ اور اسرائیل نے وقتی خوشی کا اظہار کیا مگر جلد ہی دنیا نے دیکھا کہ ایران نے کس جرات، حکمت اور مزاحمت کے ساتھ دونوں طاقتوں کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ اس جنگ میں نہ نیٹو کھل کر سامنے آیا نہ یورپ نے کوئی واضح حمایت کی اور سب نے فاصلے اختیار کیے۔
ایسے نازک وقت میں پاکستان نے ایک بار پھر اپنی ذمہ دارانہ سفارت کاری کا مظاہرہ کیا اور ایران و امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثی کا کردار سنبھالا۔ اسلام آباد میں 9 اور 10 اپریل کو دونوں ممالک کے وفود آئے۔ امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس نے کی جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی عباس عراقچی نے کی۔ مذاکرات میں کافی حد تک اتفاقِ رائے پیدا ہوگیا تھا مگر عین وقت پر بات چیت ملتوی ہوگئی۔ دونوں فریقوں کی طرف سے ان مذکرات کے بارے کوئی پریس کانفرس نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی ایسا بیان آیا کہ اب مذاکرات بند گلی میں چلے گئے ہیں۔
پاکستان نے ہمت نہ ہاری بلکہ دنیا کو تیسری جنگ کے شعلوں سے بچانے کے لئے کوشیش مزید تیز کر دیں۔ اس سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچے، ہوائی اڈے پر اُن کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب، قطر اور ترکیےکے دورے کیے تاکہ خطے میں امن کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی بنائی جا سکے۔ انہی کوششوں کے دوران 15 اپریل کو ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا جو عالمی تجارت اور امن کے لیے ایک بڑی پیش رفت تھی۔
پوری دنیا کی نظریں اب مذاکرات پر تھیں کہ اسی دوران کچھ دیر پہلے کی خبر ہے کہ امریکہ نے ایرانی تیل بردار پر حملہ کر دیا اور اسے قبضے میں لے لیا کیونکہ امریکہ نے ابھی تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم نہیں کی۔ اس پر ایران نے جوابی کاروائی کی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا۔ جمہوری اسلامی ایران کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ اس واقعہ کے بعد وہ پاکستان مذاکرات کے لئے نہیں جا رہے۔ ایران نے شرط رکھ دی کہ جب تک امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا تو مذاکرات کرنا فضول ہیں۔ ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل نے امریکہ کو اس سے آگاہ کیا کہ جب تک وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا تب تک مذاکرات میں ایران شامل نہیں ہوگا۔
بہادر ہی طوفانوں کا رخ موڑتے ہیں، بہادر ہی تاریخ رقم کرتے ہیں اور بہادر پاکستان نے ایک بار پھر تاریخ رقم کر دی۔ تہران میں دلیری سے سیڑھیاں اترنا، ایرانی قیادت کا والہانہ استقبال اور عالمی برادری کا پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان صرف ایک ریاست نہیں بلکہ امن، استحکام اور قیادت کی علامت بن چکا ہے۔
آج جب دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی پاکستان نے اپنی جرات، حکمت اور بصیرت سے نہ صرف خطے کو بچایا بلکہ عالمی امن کے لیے امید کی نئی شمع روشن کی۔ یہی وجہ ہے کہ چار دانگِ عالم میں پاکستان کا ڈنکا بج رہا ہے اور دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان واقعی بہادروں کا ملک ہے۔

