Friday, 16 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Qutab Ali Dullu
  4. Iran, America Aur Khittay Ki Mojuda Surat e Haal

Iran, America Aur Khittay Ki Mojuda Surat e Haal

ایران، امریکہ اور خطّے کی موجودہ صورتحال

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ خطّے کی جغرافیائی اور سیاسی حساسیت کے پیشِ نظر ہر چھوٹی سی حرکت بڑے بحران کا سبب بن سکتی ہے۔ ایران میں داخلی سطح پر احتجاجی تحریکیں پھیل رہی ہیں، جبکہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے محتاط قدم اٹھا رہی ہیں۔

گذشتہ چند ماہ میں ایران میں مظاہروں کی شدت میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ عوامی احتجاج کی بنیادی وجوہات میں مہنگائی، بے روزگاری اور حکومت کی سخت پالیسیوں کے خلاف بے چینی شامل ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے مطابق، حکومت کی طرف سے مظاہرین پر طاقت کے استعمال کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ یہ داخلی عدم استحکام ایران کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے اور خطّے میں امریکی حکمتِ عملی کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

امریکہ کی خارجہ پالیسی میں حالیہ دنوں میں سختی دیکھی گئی ہے۔ واشنگٹن نے ایران میں مظاہرین کی حمایت کے واضح بیانات دیے اور تہران کو انتباہ کیا کہ کسی بھی جارحانہ اقدام کی صورت میں سخت ردعمل ہو سکتا ہے۔ امریکی افواج نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرنے کے لیے اہم اڈوں میں تعیناتی بڑھائی ہے تاکہ کسی بھی غیر متوقع تنازعے سے نمٹا جا سکے۔

ایران نے امریکی انتباہات کا فوری جواب دیا اور واضح کر دیا کہ اگر کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو تہران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے نہیں ہچکچائے گا۔ ایران کی اس دھمکی نے خطّے کے چھوٹے ممالک کو بھی محتاط کر دیا ہے، خاص طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک جو خطّے میں امن قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عالمی معاشی صورتحال پر بھی اس کشیدگی کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایران کی اقتصادی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی، پابندیاں اور احتجاجی مظاہرے معیشت کو مزید کمزور کر رہے ہیں۔ تیل کی عالمی مارکیٹ، سرمایہ کاری کے رجحانات اور عالمی مالیاتی استحکام بھی اس کشیدگی سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔

ایران کی فضائی حدود میں عارضی بندش اور بین الاقوامی پروازوں میں خلل نے عالمی توجہ کو مزید ایران کی طرف مبذول کر دیا ہے۔ یہ اقدامات واضح کرتے ہیں کہ خطّے میں کسی بھی لمحے کوئی غیر متوقع واقعہ پیش آ سکتا ہے جس کے اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سطح پر محسوس ہوں گے۔

خطّے میں موجود دیگر ممالک کو بھی ایران اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ کی شدت پر تشویش ہے۔ یہ ممالک خطّے کی سلامتی، توانائی کی فراہمی اور عوامی امن و امان کے لیے کشیدگی کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔ سفارتی ذرائع کی کوششیں جاری ہیں، مگر صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے۔

آخرکار، ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ کشیدگی نے ہمیں یہ یاد دہانی کرائی ہے کہ عالمی تعلقات میں طاقت اور معاشی مفادات کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق اور عوامی فلاح و بہبود کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اس بحران کا حل صرف سفارتی مذاکرات، اعتماد کی بحالی اور خطّے کے ممالک کی مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ بصورتِ دیگر، مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع عالمی تصادم کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خود خطّے تک محدود رہیں گے بلکہ دنیا بھر میں محسوس ہوں گے۔

Check Also

Iran, America Aur Tareekh Ka Bojh

By Muhammad Umar Shahzad