Tuesday, 07 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nouman Ali Bhatti
  4. Khamoshi Ka Bojh

Khamoshi Ka Bojh

خاموشی کا بوجھ

آج کے دور میں اگر کسی ایک چیز نے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کیا ہے تو وہ ہے ہماری "خاموشی"۔ یہ خاموشی صرف الفاظ کا نہ ہونا نہیں بلکہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں ہم سب کچھ دیکھتے، سنتے اور محسوس کرتے ہیں مگر بولنے سے گریز کرتے ہیں۔ یہ خاموشی کبھی خوف کی وجہ سے ہوتی ہے، کبھی مفاد کی خاطر اور کبھی اس سوچ کے تحت کہ "ہمیں کیا لینا دینا"۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی خاموشی آہستہ آہستہ ایک اجتماعی جرم میں بدل جاتی ہے۔

ہم روزانہ اپنے اردگرد بے شمار ناانصافیاں دیکھتے ہیں۔ کہیں کسی غریب کا حق مارا جا رہا ہوتا ہے، کہیں کسی کمزور پر ظلم ہو رہا ہوتا ہے، کہیں قانون صرف طاقتور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے سخت نظر آتا ہے۔ مگر ہم میں سے اکثر لوگ یہ سب دیکھ کر نظریں چرا لیتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ اگر ہم بولے تو ہمیں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ مگر کیا واقعی یہ خاموشی ہمیں محفوظ رکھتی ہے؟ یا یہ ہمیں آہستہ آہستہ ایک ایسے معاشرے کی طرف لے جا رہی ہے جہاں ظلم معمول بن جائے؟

یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معاشرہ صرف حکومتوں یا اداروں سے نہیں بنتا بلکہ ہم سب اس کے برابر کے ذمہ دار ہیں۔ اگر ایک شخص ظلم کرتا ہے تو وہ مجرم ہے، مگر اگر دس لوگ اس ظلم کو دیکھ کر خاموش رہتے ہیں تو وہ بھی کسی نہ کسی حد تک اس جرم میں شریک ہوتے ہیں۔ خاموشی دراصل ظلم کو طاقت دیتی ہے، اسے جواز فراہم کرتی ہے اور اسے بڑھنے کا موقع دیتی ہے۔

ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی، وہ قوم ترقی کی طرف بڑھی۔ مگر جب بھی لوگوں نے خاموشی اختیار کی، وہاں زوال آیا۔ آج ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کس راستے پر کھڑے ہیں؟ کیا ہم ان لوگوں میں شامل ہیں جو سچ کے لیے کھڑے ہوتے ہیں یا ان میں جو خاموش رہ کر حالات کا حصہ بن جاتے ہیں؟

سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں ہر شخص کے پاس اظہار کا موقع موجود ہے، وہاں بھی ہماری خاموشی ایک سوالیہ نشان ہے۔ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر تو فوری ردعمل دیتے ہیں، مگر جب بات کسی سنجیدہ مسئلے کی ہو تو ہم یا تو نظر انداز کر دیتے ہیں یا پھر اسے اپنی ترجیحات میں شامل ہی نہیں کرتے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آواز اٹھانا صرف سڑکوں پر نکلنے کا نام نہیں بلکہ قلم، الفاظ اور سچائی کے ذریعے بھی اپنی بات کہنا ایک اہم ذمہ داری ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات سچ بولنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ہمت، حوصلہ اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر اگر ہم ہمیشہ آسان راستہ ہی اختیار کریں گے تو پھر مشکل حالات کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم وقتی سکون چاہتے ہیں یا ایک بہتر مستقبل۔

گھر سے لے کر دفتر تک، بازار سے لے کر عدالت تک، ہر جگہ ہمیں اپنے رویوں پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم کسی کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر خاموش رہتے ہیں؟ کیا ہم اپنے فائدے کے لیے سچ کو نظر انداز کر دیتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں خود کو بدلنے کی ضرورت ہے، کیونکہ معاشرہ تب ہی بدلے گا جب فرد بدلے گا۔

خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے یہ ایک اہم پیغام ہے۔ آپ ہی اس ملک کا مستقبل ہیں۔ اگر آپ آج خاموش رہیں گے تو کل بھی یہی خاموشی آپ کا مقدر بن جائے گی۔ مگر اگر آپ آج سچ کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو یقیناً کل ایک بہتر معاشرہ تشکیل پائے گا۔ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ شعور پیدا کرنا ہے اور شعور کا تقاضا ہے کہ انسان حق اور باطل میں فرق کرے اور حق کا ساتھ دے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ خاموشی ہمیشہ سکون کی علامت نہیں ہوتی، بعض اوقات یہ سب سے بڑا شور ہوتی ہے، ایک ایسا شور جو اندر ہی اندر ہمیں کمزور کر دیتا ہے۔ ہمیں اس خاموشی کو توڑنا ہوگا، اپنی آواز کو پہچاننا ہوگا اور سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔

کیونکہ یاد رکھیں، اگر آپ آج خاموش رہے تو کل آپ کی آواز کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔

Check Also

Madam Victoria Raeesmovna

By Ashfaq Inayat Kahlon