Zameer Ki Qeemat Aur Iqtidar Ki Majboori
ضمیر کی قیمت اور اقتدار کی مجبوری
پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے ضمیر، خودمختاری اور قومی وقار کا سودا کرتے ہوئے نام نہاد ٹرمپ پیس بورڈ میں شمولیت کا حکومتی فیصلہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ قومی تاریخ سے کھلی بغاوت بھی ہے۔ یہ فیصلہ خارجہ پالیسی نہیں، خوشامدانہ غلامی کی ایک نئی قسط معلوم ہوتا ہے، جس میں اصول قربان اور مفادات کی نیلامی کی جا رہی ہے۔
پاکستان کوئی نیا، کمزور یا بے شناخت ملک نہیں کہ ہر عالمی طاقت کے اشارے پر اپنی سمت بدل لے۔ یہ وہ ریاست ہے جس کی بنیاد ہی ایک نظریے، ایک خودداری اور ایک واضح اخلاقی مؤقف پر رکھی گئی تھی۔ ہماری خارجہ پالیسی کی اصل روح ہمیں ہمارے بانیان نے سمجھا دی تھی اور اس روح کی سب سے روشن مثال پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کا وہ تاریخی جملہ ہے جو آج بھی قومی غیرت کا معیار ہے۔
مئی-جون 1950ء میں، جب لیاقت علی خان امریکہ کے دورے پر تھے، تو انہیں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے سیاسی، عسکری اور معاشی مراعات کی پیشکش کی گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان نوزائیدہ تھا، وسائل کم تھے اور عالمی دباؤ شدید۔ مگر اس کے باوجود لیاقت علی خان نے وہ جملہ کہا جو آج بھی تاریخ میں گونجتا ہے:
"Gentlemen! Our soul is not for sale. "
(حضرات! ہماری روح برائے فروخت نہیں ہے)۔
یہ محض ایک جملہ نہیں تھا، یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اخلاقی منشور تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج کی قیادت کو وہ منشور یاد ہے؟ یا پھر ہم نے اپنی روح کو اقساط میں بیچنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟
نام نہاد ٹرمپ پیس بورڈ دراصل امن کا نہیں، طاقت کی سیاست کا فورم ہے، جہاں مظلوم کی آواز نہیں بلکہ طاقتور کی خواہش سنی جاتی ہے۔ ایسے فورمز میں شمولیت نہ مسئلے حل کرتی ہے، نہ امن لاتی ہے، بلکہ ممالک کو ایک مخصوص بلاک کا تابع بنا دیتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ہم نے غیرجانبداری اور اصولی مؤقف چھوڑا، ہمیں نقصان ہی اٹھانا پڑا۔
یہ فیصلہ محض سفارتی نہیں، اخلاقی بھی ہے۔ فلسطین، کشمیر اور دیگر مظلوم اقوام کے حق میں بات کرنے والا پاکستان اگر آج خود ضمیر کی قیمت لگانے لگے تو کل ہم کس منہ سے حق و انصاف کی بات کریں گے؟
قومیں قرضوں سے نہیں، کردار سے زندہ رہتی ہیں۔ امداد آتی جاتی رہتی ہے، مگر تاریخ میں وہی زندہ رہتے ہیں جو "نہیں" کہنا جانتے ہوں۔ لیاقت علی خان نے ہمیں یہی سکھایا تھا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک بار پھر وہی جملہ دہرا سکیں، صاف، واضح اور بے خوف:
ہماری روح برائے فروخت نہیں۔

