Monday, 12 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noor Hussain Afzal
  4. Maa Ki Qurbani, Fitrat Ki Khamosh Tafseer

Maa Ki Qurbani, Fitrat Ki Khamosh Tafseer

ماں کی قربانی، فطرت کی خاموش تفسیر

قدرت کبھی کبھی انسان کے سامنے ایسا منظر رکھ دیتی ہے جو کسی تقریر، کسی فلسفے اور کسی طویل دلیل سے زیادہ گہرا اثر چھوڑ جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک منظر پیسفک سمندر کی تاریک گہرائیوں میں سامنے آیا، جہاں نہ روشنی پہنچتی ہے، نہ انسانی قدم اور جہاں زندگی کا تصور بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔ وہاں ایک بے زبان ماں نے قربانی کی ایسی مثال قائم کی جس نے سائنس دانوں کو حیران اور اہلِ فکر کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔

یہ واقعہ 2007 سے 2011 کے درمیان سائنسی طور پر ریکارڈ کیا گیا۔ مقام Monterey Canyon ہے، جو امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب پیسفک سمندر میں واقع ایک انتہائی گہری آبدوز وادی ہے۔ مئی 2007 میں Monterey Bay Aquarium Research Institute (MBARI) کے ماہرین نے تقریباً 1,397 میٹر کی گہرائی میں ایک مادہ آکٹوپس (Graneledone boreopacifica) کو ایک چٹان کے نیچے انڈوں کی حفاظت کرتے ہوئے پہلی بار دیکھا۔ بعد ازاں ریموٹ کنٹرول آبدوز کیمروں کے ذریعے چار سال سے زائد عرصے تک اس کا مسلسل مشاہدہ کیا جاتا رہا۔ ستمبر 2011 میں جب دوبارہ وہاں کیمرے پہنچے تو انڈے پھوٹ چکے تھے اور ماں انتہائی کمزور حالت میں تھی۔ انہی مشاہدات کی بنیاد پر یہ حقیقت سامنے آئی کہ اس مادہ آکٹوپس نے 53 ماہ تک ایک ہی جگہ پر رہ کر بچوں کی حفاظت کی، جو جانوروں کی دنیا میں والدین کی قربانی کا اب تک کا سب سے طویل معلوم ریکارڈ ہے۔

اس طویل عرصے میں اس مادہ آکٹوپس نے نہ خوراک حاصل کی، نہ شکار کے لیے نکلی، نہ اپنی جان بچانے کا کوئی انتظام کیا۔ اس کا جسم آہستہ آہستہ کمزور ہوتا گیا، رنگ مدھم پڑ گیا، مگر ذمہ داری میں کوئی کمی نہ آئی۔ اس کے بازو مسلسل انڈوں پر پانی کی نرم لہریں بہاتے رہے تاکہ آکسیجن کی فراہمی جاری رہے اور زندگی کا عمل برقرار رہے۔ گہرے سمندر کی شدید سردی میں جنینوں کی نشوونما غیر معمولی حد تک سست ہو جاتی ہے، اسی لیے یہ طویل انتظار ناگزیر تھا۔ ہر مہینہ ایک امتحان اور ہر سال قربانی کا نیا مرحلہ تھا۔

سائنس دانوں کے نزدیک یہ محض ایک حیاتیاتی مشاہدہ نہیں بلکہ parental care کی تاریخ میں ایک غیر معمولی مثال ہے۔ MBARI کے ماہرین کے مطابق اس دریافت نے deep-sea life کے بارے میں ہماری سمجھ کو وسعت دی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ سمندر کی گہرائیوں میں بھی زندگی نہایت نظم اور مقصد کے ساتھ چل رہی ہے۔

لیکن اہلِ ایمان کے لیے اس واقعے میں حیرت سے بڑھ کر ہدایت ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایک آکٹوپس نے اتنی بڑی قربانی کیوں دی، اصل سوال یہ ہے کہ اسے یہ راستہ دکھایا کس نے؟ نہ اس نے کسی درس گاہ میں تعلیم حاصل کی، نہ کسی اخلاقی کتاب کا مطالعہ کیا، نہ کسی واعظ کی بات سنی۔ پھر بھی اس کے عمل میں ماں ہونے کا وہ کمال نظر آتا ہے جو انسان کو جھکا دیتا ہے۔

قرآن اسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے "الَّذِي أَعُطَىٰ كُلَّ شَيُءٍ خَلُقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ"، جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت دی، پھر اسے راستہ دکھایا۔

یہی وہ فطری رہنمائی ہے جسے سائنس instinct کہتی ہے اور دین اللہ کی عطا کردہ ہدایت قرار دیتا ہے۔ یہ واقعہ واضح اعلان ہے کہ کائنات میں کوئی شے بے سمت اور بے مقصد نہیں۔ سمندر کی گہرائیوں میں بھی وہی نظم کارفرما ہے جو انسان کی زندگی کو چلاتا ہے۔

آج کا انسان ماں کی عظمت پر گفتگو تو بہت کرتا ہے، مگر عملی قربانی سے اکثر گھبرا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک بے زبان مخلوق، نہ شکوہ، نہ شکایت، نہ سوال۔ بس صبر، ذمہ داری اور خاموش استقامت۔ یہی فرق ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔

اسلام نے ماں کو جو مقام دیا ہے وہ کسی جذباتی نعرے پر قائم نہیں بلکہ حقیقتِ قربانی پر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھی تو اس کے پیچھے ماں کی مشقت، اس کا صبر اور اس کی بے لوث محبت ہے۔ یہی اوصاف ہمیں اس مادہ آکٹوپس میں بھی دکھائی دیتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ایک بول سکتی ہے اور دوسری نہیں۔

یہ واقعہ اخلاص کا سبق بھی دیتا ہے۔ اس مادہ آکٹوپس کو معلوم نہیں تھا کہ اس کی قربانی ریکارڈ بنے گی یا دنیا اس پر لکھے گی۔ وہ کسی صلے کی منتظر نہیں تھی۔ یہ خالص عمل تھا، ویسا ہی جیسا دین چاہتا ہے۔

آخر میں سوال یہی رہ جاتا ہے کہ اگر ایک بے زبان مخلوق اللہ کے مقرر کردہ دائرے میں رہ کر اپنی پوری زندگی قربان کر سکتی ہے، تو اشرف المخلوقات ہونے کے دعوے دار ہم کیوں پیچھے رہ جاتے ہیں؟

شاید اس لیے کہ ہم نے فطرت سے سیکھنا چھوڑ دیا ہے اور شاید اس لیے کہ ہم نے خالق کو یاد رکھنا کم کر دیا ہے۔

Check Also

Jism Aur Rooh

By Muhammad Irfan Nadeem