Tuesday, 28 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nayyer Taban
  4. Tehqeeq Pe Tehqeeq

Tehqeeq Pe Tehqeeq

تحقیق پہ تحقیق

انفارمیشن اوورلوڈ مصیبت بن گیا ہے۔ ہر چند مہینوں بعد نئی ریسرچ، نیا ٹرینڈ، نیا سچ۔ تھک گئے کیپ آپ کرتے کرتے۔ ہمارے بڑے بوڑھے گھی مکھن ملائیاں کھاتے تھے۔ پتہ چلا یہ تو بڑی نقصان دہ چیز ہے۔ شریانوں میں جم جاتا ہے۔ لو فیٹ، نو فیٹ پر ڈالا گیا۔ جب ہر کوئی آئلز پر لگ گیا تو پتہ چلا کہ اصل تو دیسی گھی تھا۔ سیڈ آئلز نقصان دہ ہیں۔ ہم سستا سیڈ آئل چھوڑ کر واپس گھی پر آ گئے۔ اب تک اسے بھی "آرگینک" کے نام پر بھاگ لگ چکے تھے، لیکن ہم نے صحت پر کامپرومائز کرنے کے بجائے دیسی گھی خریدا۔ پھر نئی تحقیق آئی کہ نہیں بھئی مسئلہ آئل نہیں، اسٹریس ہے۔

کہا انڈوں کی زردی نقصان دہ ہے۔ جب سب قائل ہو گئے تو پتہ چلا کہ وہ تو ہیلتھی کولیسٹرول ہے۔ اسی طرح یہ کہ دودھ بھی فیٹ فری ہو۔ ملائی اتار دیں۔ بلکہ دوبارہ ابال کر دوبارہ ملائی اتار لیں اور اب کہتے کہ خالص دودھ تو ابالیں بھی نہیں (جو واقعی خالص ہوتا ہے) اور فل کریم ملک پیئیں۔ دوسرے وہ ہیں جو کہتے کہ دودھ اوور ریٹڈ ہے۔ بادام کا، اوٹس کا اور فلانا ڈھمکانا plant based دودھ پیئیں۔

پانی کے ساتھ بھی یہی۔

زیادہ پانی پیئیں۔

ہم نے پیاری پیاری بوتلیں خریدی، چوبیس گھنٹے ہاتھ میں رکھی۔ اتنے پتہ چلا کہ دو دو تین تین لیٹر پانی کے چکر میں کڈنیز کو اوور ٹائم لگانا پڑتا ہے۔ اپنی باڈی کی ضرورت مطابق پیئیں۔

کاربز زہر ہیں۔ چھوڑ دیں۔

نہیں، کاربز ضروری ہیں۔ انہی سے انرجی ملتی ہے۔

شوگر چھوڑیں۔ گڑ لیا کریں۔

گڑ بھی شوگر ہی ہے۔

سورج سے بچیں کہ اس کی یو وی ریز جلد کو کینسر دیتی ہیں۔ کم ترین درجے پر بھی جلد پر وقت سے پہلے جھریاں پڑتی ہیں، نشان پڑتے ہیں۔ نکلنا ہی ہے تو سن اسکرین کے بغیر بالکل باہر نہ نکلیں۔

ہم بیچارے ڈھونڈ ڈھونڈ کر کہ کون سا سن اسکرین جلد کو سوٹ کرے گا۔ پھر تحقیق ہوگئی کہ وٹامن ڈی چاہیے ہوتا ہے اور وہ کپڑوں کے تھرو جلد تک پہنچتا ہی نہیں تو کم سے کم چہرہ اور ہاتھ پاؤں بغیر سن سکرین رکھیں تا کہ جلد کو مطلوبہ وٹامن ڈی ملے۔ اب باتھ روم کی الماری میں سن سکرین رکھا ہے کب سے۔ شاید اگلی تحقیق آ جائے کہ دھوپ میں نکلا نہ کرو روپ کی رانی اور ہم ایکسپائر ہونے سے پہلے پہلے استعمال کر لیں۔

ملٹی ٹاسکنگ کے اتنے فائدے بتائے گئے کہ ہمارا بس نہیں چلتا آکٹوپس کی طرح آٹھ ہاتھ ہوں اور ہم آٹھوں ہاتھوں سے کام کریں۔ پھر تحقیق کہ ملٹی ٹاسکنگ فوکس کی تباہی کر دیتی ہے اور دماغ تھکا دیتی ہے۔ اب ہم پھر سے کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ کس طرح ملٹی ٹاسکنگ چھوڑ کر ایک وقت پر ایک کام کریں۔

بچوں میں چھوٹی عمر میں لرننگ کیپیسٹی ہوتی ہے۔ انہیں پیدا ہوتے سکول میں داخل کروا دیں۔

نہیں، انہیں ساری عمر سکول نہ بھیجیں۔ ہوم سکولنگ کروائیں۔

نہیں، ہوم سکولنگ نہ کریں کہ تم ماں کے ساتھ ٹیچر بننے کے چکر میں ماں کا رشتہ خراب کر بیٹھیں گی۔

سمجھ نہیں آتا کہ کیا کریں، کیا نہ کریں۔ دوڑ ہے ایک۔ ان لرن کرتے، ری لرن کرتے تھک گئے ہیں۔ یہی حل سمجھ آیا کہ ڈیجیٹل ڈی ٹوکس کر لوں، اس سے پہلے کہ کوئی تحقیق ہو اور پتہ چلے کہ یوں سب سے کٹ جانا انسان کی ذہنی صحت کے لئے برا ہے۔

Check Also

Main Ne Ghalat Kya Tha, Amma?

By Tahira Fatima