Bas Ik Teri Kami Hai
بس اک تیری کمی ہے

بعض اوقات ایک شعر صرف شعر نہیں رہتا، وہ دل کی آواز بن جاتا ہے۔
اس شہر میں سب کچھ ہے بس اک تیری کمی ہے
یہ مصرعہ نہ جانے کس شاعر کی تخلیق ہے، مگر جس نے بھی کہا ہے، اس نے انسانی جذبات کی گہرائی کو لفظوں کا لباس پہنا دیا ہے۔ یہ صرف جدائی کا بیان نہیں، یہ اُس خلا کا اعتراف ہے جو کسی ایک انسان کی غیر موجودگی سے پوری کائنات میں محسوس ہونے لگتا ہے۔
شہر وہی ہوتا ہے، سڑکیں وہی، بازار وہی، پہاڑ وہی، ہوائیں وہی، مگر ایک شخص نہ ہو تو سب کچھ بے رنگ، بے روح اور بے معنی لگنے لگتا ہے۔
میرے لیے اس شعر کا مصداق میرا بچپن کا دوست، ممتاز قلم کار، خوش گفتار صداکار ممتاز حسین ناروی ہیں۔ وہ صرف ایک فرد نہیں، ایک محفل، ایک ماحول، ایک خوشبو کا نام ہیں۔ ان کی موجودگی کسی بھی محفل کو زندگی بخش دیتی ہے۔ جہاں وہ بیٹھ جائیں، وہاں باتوں میں شگفتگی، لہجے میں مٹھاس اور ماحول میں اپنائیت خود بخود اتر آتی ہے
اسکردو کی سرزمین ویسے ہی خوبصورت ہے، برف پوش پہاڑ، نیلگوں آسمان، ٹھنڈی ہوائیں، خاموش جھیلیں، مگر ان سب حسنوں کے بیچ اگر ممتاز ناروی نہ ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے تصویر تو ہے مگر اس میں روح نہیں لوگ ان سے ملنے کو باعثِ سعادت سمجھتے ہیں ان کے چاہنے والے دور دور سے صرف اس لیے آتے ہیں کہ چند لمحے ان کی صحبت میں بیٹھ سکیں ان کی شیریں گفتگو سن سکیں اور دل کا بوجھ ہلکا کر سکون لے کر لوٹیں۔
میں خود بھی اکثر اسکردو صرف کسی کام کے لیے نہیں بلکہ محض ممتاز صاحب سے ملاقات کی خواہش میں چلا آتا تھا۔ ان سے ملنا کسی رسمی ملاقات کا نام نہیں تھا، وہ دلوں کی نشست ہوتی تھی۔ ان کی باتوں میں ایک عجیب سا جادو ہےنہ کوئی بناوٹ، نہ تصنع، بس سچائی، خلوص اور محبت۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر وقت کا احساس ہی نہیں ہوتا ہنسی بھی ہوتی، سنجیدہ باتیں بھی، یادیں بھی اور مستقبل کے خواب بھی۔
مگر اب کئی ماہ سے وہ سردیاں گزارنے کے لیے پنڈی اسلام آباد تشریف لے گئے ہیں شہر وہی اسکردو ہے، مگر میں جب بھی آتا ہوں تو ایک عجیب سی ویرانی دل میں اترتی چلی جاتی ہے۔ بازاروں کی چہل پہل بھی پھیکی لگتی ہے، محفلیں ادھوری محسوس ہوتی ہیں اور وہ جگہیں جہاں ہم بیٹھا کرتے تھے، اب جیسے خاموشی کا ماتم کر رہی ہوں۔
کبھی کبھی میں اُن گلیوں سے گزرتا ہوں جہاں ہم نے بے شمار شامیں باتوں میں گزار دی تھیں۔ وہ چائے کا ہوٹل، وہ بیٹھک، وہ سڑک کا کنارہ سب کچھ موجود ہے، مگر جیسے وقت رُک گیا ہو دل بے اختیار کہہ اٹھتا ہے۔
اس شہر میں سب کچھ ہے بس اک تیری کمی ہے، دوستی اگر سچی ہو تو وہ فاصلے نہیں مانتی، مگر یہ بھی سچ ہے کہ کچھ لوگ صرف یادوں میں اچھے نہیں لگتے، وہ سامنے بیٹھے ہوں تو زندگی خوبصورت لگتی ہے۔ ممتاز ناروی اُنہی لوگوں میں سے ہیں۔ ان سے مل کر جب واپس لوٹتا تھا تو دل عجیب سی بے چینی سے بھر جاتا تھا، جیسے کوئی قیمتی چیز پیچھے چھوڑ آیا ہوں اور اب تو ملاقات بھی میسر نہیں، بس یادیں ہیں جو دل کو بار بار ان کی طرف لے جاتی ہیں اللہ نے کچھ لوگوں کو ایسی شخصیت دی ہوتی ہے کہ وہ جہاں ہوں، وہاں رونق ہو جاتی ہے اور جہاں نہ ہوں، وہاں کمی محسوس ہوتی ہے۔ ممتاز حسین ناروی بھی ایسی ہی ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہیں خوش مزاج، خوش اخلاق، علم دوست، ادب نواز اور دوستوں کے لیے سراپا محبت۔
دعا ہے کہ وہ جہاں بھی ہوں، خیریت سے ہوں، صحت مند ہوں، خوش رہیں اور جلد وہ دن آئے جب اسکردو کی فضائیں پھر ان کی آواز سے گونجیں، محفلیں پھر آباد ہوں اور ہم دوست پھر کسی نشست میں بیٹھ کر بے فکر ہنستے رہیں۔
تب شاید یہ شعر بدل جائے
اس شہر میں سب کچھ ہے بس اک تیری کمی نہیں ہے

