Saturday, 21 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nasir Abbas Shamim
  4. Asad Zaidi Ki Shayari Aur Fan

Asad Zaidi Ki Shayari Aur Fan

اسد زیدی کی شاعری اور فن

گلگت بلتستان جیسے پسماندہ مگر باصلاحیت خطے سے بہترین شعرا کا پیدا ہونا یقیناً اس سرزمین کی خوش بختی ہے۔ اس خطے نے ماضی میں بھی ایسے عظیم شعرا پیدا کیے ہیں جن کے معیاری اشعار آج بھی ادب کی دنیا میں زندہ ہیں۔ اگرچہ وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، لیکن ان کا نام اور کلام آج بھی ادب کے افق پر روشن ہے۔

علاقہ شگر کے حضرت بوا عباسؒ اور بوا منصور جیسے شعرا اپنے دور کے بڑے نام تھے۔ تاہم ہمارے عہد کے شعرا بھی کسی طرح ان سے کم نہیں۔ شگر کے اماچہ خاندان کے چشم و چراغ جناب راجہ محمد علی صبا شگری، اسکردو سے پروفیسر حشمت علی کمال الہامی، شگر کے حضرت شیخ غلام حسین سحر، اسکردو کے محمد عباس کھرونگ، گلگت کے عبدالخالق تاج، محمد امین ضیا اور چلاس کے عنایت اللہ خان شمالی جیسے شعرا اس سرزمین کے ادبی سرمایے ہیں۔

یہ گلگت بلتستان کی خوش بختی ہے کہ یہاں آج بھی ادب اور شاعری کے چراغ روشن ہیں۔ انہی شعرا میں سے ایک نام سید اسد زیدی کا بھی ہے، جن کی شاعری کے بارے میں آج میں مختصر تبصرہ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

سید اسد زیدی ضلع کھرمنگ کے ایک سعادت مند گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی اور طالب علمی کے زمانے ہی سے شعر و شاعری کی طرف مائل ہوگئے تھے۔ ان کی پہلی شعری کتاب "رنگِ شفق" شائع ہوئی جس کے سرورق پر درج ان کا ایک شعر بہت مشہور ہوا:

رنگِ شفق کو دیکھ کے سب لوگ دنگ ہیں
کیا آسمان پہ میری تمنا کے رنگ ہیں

یہ شعر ان کی کتاب کی پہچان بن گیا۔ جب بھی اس کتاب کا ذکر آتا ہے تو لوگوں کے ذہن میں فوراً یہی خوبصورت شعر تازہ ہو جاتا ہے۔ اسی کتاب کے صفحہ نمبر 66 پر ان کے یہ اشعار بھی ملتے ہیں جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں:

اب کہاں چرچا ہے تیرے دیدۂ مخمور کا
ذکر کیوں ہوتا رہے ہر دم کسی مغرور کا

یوں ہی بہہ کر اس طرح ضائع نہیں ہوگا کبھی
رنگ لائے گا کسی دن یہ لہو مزدور کا

ان اشعار میں سید اسد زیدی نے مزدور طبقے کے دکھ اور ان کی محرومیوں کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ وہ اس حقیقت کو محسوس کرتے تھے کہ مزدور دن بھر محنت کرنے کے باوجود اپنے حق سے محروم رہتا ہے۔ اسی احساس نے انہیں سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید کرنے پر مجبور کیا۔ وہ لکھتے ہیں:

قسمتِ مزدور پر چھا گیا سرمایہ دار
ہے جہاں میں مظہرِ ظلم و جفا سرمایہ دار

جب سے یہ آیا زمانے پر مظالم چھا گئے
ہے ستم کی ابتدا و انتہا سرمایہ دار

لوگ کہتے ہیں کہ شیطان سے برا کوئی نہیں
میں تو کہتا ہوں کہ ہے اس سے برا سرمایہ دار

ان اشعار سے واضح ہوتا ہے کہ اسد زیدی مرحوم سرمایہ دارانہ ناانصافیوں سے سخت نالاں تھے۔ خود بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود انہوں نے کبھی مال و دولت جمع کرنے کی کوشش نہیں کی۔

اسد زیدی محبت اور انسان دوستی کے قائل تھے۔ ان کے دل میں ہر انسان کے لیے محبت موجود تھی اور یہی جذبہ ان کی شاعری میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

کبھی ہم پر حسینوں کی عنایت ہو ہی جاتی ہے
ہماری زندگی بھی خوبصورت ہو ہی جاتی ہے

یہ نکتہ کوئی جا کے حضرت واعظ کو سمجھائے
جوانی میں کبھی تھوڑی شرارت ہو ہی جاتی ہے

میرے ٹوٹے ہوئے دل کو یہ کہہ کر اس نے توڑا ہے
کبھی بیکار چیزوں کی ضرورت ہو ہی جاتی ہے

کسی سے رفتہ رفتہ جب مراسم بڑھنے لگتے ہیں
دلوں پر مہربانوں کی حکومت ہو ہی جاتی ہے

ان اشعار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسد زیدی محبت اور خلوص کے شاعر تھے۔

ہماری خوش نصیبی ہے کہ وہ ہمارے عہد کے شاعر تھے۔ ان کی زندگی میں اسکردو اور بلتستان کی ادبی محفلوں اور مشاعروں میں انہیں سننے کا موقع ملا، لیکن افسوس کہ وہ بہت جلد اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کے جانے کے بعد ادبی محفلوں میں ایک خلا محسوس ہوتا ہے اور ان کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔

یوں تو ان کے ہزاروں اشعار موجود ہیں اور ان کی شاعری پر مکمل لکھنا بندۂ ناچیز کے بس کی بات نہیں۔ آخر میں ان کے ایک خوبصورت شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا:

مجھ سے چھوٹا ہی نہیں ہوش کا دامن اب تک
یہ مرا دل مرے قابو میں ہے اور ہوش میں ہے

یہ الگ بات ہے اک کیف کا عالم ہے یہاں
ایک حسین چاند کا ٹکڑا مری آغوش میں ہے

Check Also

Eid Ki Khushi Asal Maqsad

By Dr. Abrar Majid