Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Molana Ki Karahi Mein Ghan Garaj

Molana Ki Karahi Mein Ghan Garaj

مولانا کی کراچی میں گھن گرج

گزشتہ شب چودہ مئی کو کراچی میں ہونے والا جمعیت علمائے اسلام کا کامیاب اجتماع اس حقیقت کا ایک بار پھر واضح ثبوت بن کر سامنے آیا کہ مولانا آج بھی پاکستان کی سیاست کے ایک ناگزیر کردار ہیں۔ کراچی کے ضلع غربی میں جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی "وحدتِ امت کانفرنس" ایسا عوامی اجتماع محسوس ہو رہا تھا جس میں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شریک تھے۔ جلسے میں ہزاروں کارکنان، عقیدت مندوں اور شہریوں کی موجودگی نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا کہ مولانا کی اپیل اب بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہے۔ شرکاء نہایت انہماک سے مولانا کی پرجوش تقریر سنتے رہے۔

اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمٰن نے نہ صرف ملکی سیاست بلکہ عالمی حالات پر بھی کھل کر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے امتِ مسلمہ مسلسل ظلم و بربریت کا شکار ہے۔ عراق، افغانستان اور لیبیا کے بعد آج غزہ میں جاری مظالم پوری دنیا کے سامنے ہیں، مگر مسلم حکمرانوں اور امت کی خاموشی لمحۂ فکریہ بن چکی ہے۔ مولانا نے اجتماع کے توسط سے امتِ مسلمہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کو بیداری سےعملی کردار ادا کرنا ہوگا۔ عالمی طاقتیں مسلمانوں کو کمزور اور منتشر کرنا چاہتی ہیں، قبلۂ اول پر حملوں کے بعد اب نظریں ایران پر مرکوز ہیں اور اس پورے خطے کو دباؤ میں لا کر بالآخر پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مولانا نے اپنی تقریر میں حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت مخالف تحریک کا آغاز ہو چکا ہے اور کراچی کا یہ جلسہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس کی ابتدا چند روز قبل مردان سے کی گئی تھی۔ مولانا نے واضح انداز میں کہا کہ یہ تحریک حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی کیونکہ موجودہ حکمرانوں نے عوام کو مہنگائی، بےروزگاری اور معاشی تباہ حالی کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔

انہوں نے داخلی سیاست کے حساس پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف شدت پسند عناصر انہیں دھمکیاں دیتے اور کفر کے فتوے لگاتے ہیں جبکہ دوسری طرف بعض قوتیں انہیں پارلیمنٹ سے باہر رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علماء اسلام وحدت اور اتحاد کی علامت ہے اور جو عناصر انہیں ختم کرنا چاہتے ہیں وہ دراصل پاکستان کی وحدت کے دشمن ہیں۔ مولانا نے انتہائی دوٹوک انداز میں یہ بھی کہا کہ اگر انہیں قتل کیا گیا تو اس کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوگی۔ مولانا نےکہا کہ سندھ کو ڈاکوؤں کے حوالے کر دیا گیا ہے اور دس سال جیلوں میں گزارنے والوں کی تاحیات استثنی دی گئی ہے جو اسلامی روایات کے خلاف ہے۔

اس سے قبل بھی مولانا فضل الرحمٰن حکومت مخالف تحریک چلانے کا عندیہ دے چکے تھے، تاہم حکومتی شخصیات اور سیاسی قیادت کی درخواست پر انہوں نے اسے مؤخر کر دیا تھا۔ مولانا کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث وقتی طور پر احتجاجی تحریک کو موخر کیا گیا منسوخ نہیں، لیکن اب جبکہ ملک کی معاشی اور سیاسی صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے اور عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب چکے ہیں، وہ ایک مرتبہ پھر میدان میں اتر آئے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بائیس مئی کو ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف شدید احتجاج کیا جائے گا اور ہر ضلعی ہیڈکوارٹر میں احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔ ان کی حالیہ سرگرمیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ملکی سیاست میں بڑی ہلچل پیدا ہو سکتی ہے۔

اس جلسے کی ایک اہم اور مثبت بات یہ بھی رہی کہ جمعیت علمائے اسلام نے کراچی کے وسط میں مصروف ترین علاقوں اور مرکزی شاہراہوں کے بجائے شہر کے مضافاتی علاقے میں اپنی قوت کا مظاہرہ کیا۔ کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں جب بھی کوئی بڑی سیاسی جماعت جلسہ منعقد کرتی ہے تو ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مریضوں کی اسپتالوں تک رسائی تک متاثر ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں شہر کے مرکز کے بجائے مضافات میں جلسے کا انعقاد ایک دانشمندانہ فیصلہ ثابت ہوا، جسے شہری حلقوں میں بھی سراہا گیا۔

نوے کی دہائی کے بعد اس علاقے میں مولانا فضل الرحمٰن کا یہ پہلا بڑا جلسہ تھا اور اس موقع پر مقامی آبادی نے جس گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا وہ قابلِ دید تھا۔ مختلف تنظیموں اور سماجی حلقوں کی جانب سے جگہ جگہ استقبالی کیمپ اور پانی کی سبیلیں قائم کی گئیں۔ کئی مقامی تنظیموں نے نہ صرف مولانا کو خوش آمدید کہا بلکہ جلسے میں بھرپور شرکت کرکے یہ پیغام دیا کہ کراچی کے عوام بھی قومی سیاسی تحریکوں میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اگر مولانا فضل الرحمٰن کو پاکستانی سیاست کا "شہنشاہِ سیاست" کہا جائے تو شاید یہ مبالغہ نہ ہوگا۔ تقریباً پینتالیس برس پر محیط سیاسی جدوجہد میں انہوں نے خود کو ایک ایسے رہنما کے طور پر منوایا ہے جسے حکومت اور اپوزیشن دونوں اہمیت دیتی ہیں۔ ملک میں جب بھی سیاسی بحران پیدا ہوا، مذاکرات کی ضرورت محسوس ہوئی یا قومی مفاہمت کا سوال سامنے آیا، مولانا فضل الرحمٰن ہمیشہ ایک مرکزی کردار کے طور پر سامنے آئے۔ دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ ہو، دفاعِ وطن کا معاملہ ہو یا سیاسی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں، مولانا اکثر صفِ اول میں دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی "اسٹریٹ پاور" ہمیشہ غیر معمولی رہی ہے۔ ان کی جماعت کے پاس ملک بھر میں ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچہ اور متحرک کارکن موجود ہیں۔ جلسوں اور عوامی اجتماعات میں ان کی طاقت کا اظہار بارہا دیکھنے میں آیا، تاہم اتنی بڑی عوامی قوت رکھنے کے باوجود انتخابی نتائج میں ان کی جماعت کو وہ نمائندگی کیوں نہیں ملتی جس کی توقع کی جاتی ہے، یہ سوال برسوں سے سیاسی مبصرین کے درمیان زیرِ بحث ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی شخصیت کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ بیک وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں کے ساتھ رابطے رکھنے اور سیاسی معاملات کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اختلافات کے باوجود تقریباً ہر سیاسی جماعت ان کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دورِ حکومت میں حکمران شخصیات گاہے بگاہے مولانا کے در پر حاضری دیتی دکھائی دیتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی تازہ تقریر عام آدمی کے مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔ مہنگائی، بےروزگاری، معاشی دباؤ، سیاسی بےیقینی اور عوامی بےچینی آج ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ ساتھ ہی ان کی تقریر نے عالمی حالات، امتِ مسلمہ کے مستقبل اور پاکستان کو درپیش سفارتی و جغرافیائی چیلنجز پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت اور ریاستی اداروں کو چاہیے کہ وہ مولانا کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ عام شہری کو ریلیف مل سکے اور ملک مزید سیاسی انتشار سے محفوظ رہ سکے۔

کراچی کا یہ جلسہ اس بات کا اعلان بھی ہے کہ پاکستان کی سیاست میں مولانا فضل الرحمٰن اب بھی ایک مؤثر، متحرک اور فیصلہ کن قوت ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ تحریک کیا رخ اختیار کرتی ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن اتنا واضح ہے کہ کراچی کے اس اجتماع نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔

Check Also

Pakistani Awam Khofzada Kyun Hai?

By Mohsin Khalid Mohsin