Tuesday, 07 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Mehangai Ka Yak Tarfa Safar Aur Bebas Awam

Mehangai Ka Yak Tarfa Safar Aur Bebas Awam

مہنگائی کا یکطرفہ سفر اور بے بس عوام

​ملک میں غریب اور مڈل کلاس طبقے کی حالت اس وقت اس مسافر جیسی ہو چکی ہے جسے ہر طرف سے لٹیروں نے گھیر رکھا ہو۔ حکومت نے گزشتہ جمعے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو برقرار رکھ کر دراصل عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔ عوام طویل عرصے سے سکھ کا سانس لینے کے منتظر تھے، لیکن پٹرولیم قیمتوں کے اس فیصلے نے غریبوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

یہ صورتحال اس طرزِ حکمرانی کا منہ بولتا ثبوت ہے جہاں رعایا کی سہولت اور مفاد کو ہمیشہ پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ ​اگر ماضی کے دریچوں میں جھانکیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایران امریکہ کشیدگی اور عالمی بحران سے قبل عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 72 سے 74 ڈالر فی بیرل کے درمیان تھی اور اس وقت پاکستان میں پٹرول کی فی لیٹر قیمت 258 روپے تھی۔ جیسے ہی جنگ کے بادل چھائے اور عالمی سطح پر تیل مہنگا ہوا، تو ہماری حکومت نے بھی دنیا کی پیروی کرتے ہوئے منٹوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ کر دیا۔

عوام نے اس کڑوے گھونٹ کو بھی ملکی بقا کی خاطر حلق سے اتارا۔ لیکن اب جب حالات نارمل ہو چکے ہیں، عالمی معاہدوں کے بعد خام تیل دوبارہ پرانے ریٹ یعنی 72- 73ڈالر فی بیرل پر آ چکا ہے، تو پاکستان میں پٹرول کی سرکاری قیمت 299.50 روپے پر کیوں برقرار ہے ​یہ تضاد عوام کے فہم سے بالا تر ہے۔ عوامی مفاد کا تقاضا تو یہ تھا کہ جس تیزی کے ساتھ قیمتیں بڑھائی گئی تھیں، اسی تیزی کے ساتھ ان میں کمی لائی جاتی۔ جب عالمی مارکیٹ پرانے ریٹ پر آ چکی ہے تو ملک میں پٹرول کی قیمت کم از کم 250 سے 260 روپے کے درمیان ہونی چاہیے تھی، تاکہ پستی ہوئی عوام کو کچھ تو ریلیف ملتا۔

پٹرول کی قیمتوں کا یہ استحصال اپنی جگہ، لیکن اس سے بڑا المیہ اور بدقسمتی ہمارے مقامی نظام کی بے حسی ہے۔ ہمارے ہاں مہنگائی کا سفر ہمیشہ "یکطرفہ" ہوتا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں ایک روپیہ بڑھ جائے تو ملک کا ہر محکمہ، ہر ادارہ، ہر تاجر اور ہر ریڑھی والا اپنے حساب سے قیمتیں آسمان پر پہنچا دیتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی پٹرول کی قیمتیں واپس نیچے گرتی ہیں، تو بڑھی ہوئی قیمتیں کبھی واپس نہیں لائی جاتیں۔

​آج ملک کی کسی بھی مارکیٹ میں چلے جائیں، دکاندار دندناتے پھر رہے ہیں اور اپنی مرضی کے ریٹ لگا کر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ اس وقت ٹماٹر 300 روپے کلو بک رہا ہے، کوکنگ آئل اور گھی 600 روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ دودھ کی قیمت 250 روپے لیٹر ہو چکی ہے۔ آٹےکی قیمتوں نے اڑان بھرلی ہے روزمرہ استعمال کی تمام اشیاء عوام کی پہنچ سے دور ہو کر آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ غریب آدمی پِس رہا ہے کیونکہ وہ دوہری چکی کا شکار ہے، ایک طرف حکومت کی طرف سے مہنگائی اور ٹیکسوں کے بم گرائے جاتے ہیں تو دوسری طرف بے لگام دکانداروں اور منافع خوروں کی لوٹ مار ہے۔

آخر ان گراں فروشوں کا پوچھنے والا کون ہے کیا اس ملک میں کوئی قانون موجود نہیں جواس بےرحمی کاحساب لیں "پرائس کنٹرول اینڈ پریوینشن آف ہورڈنگ ایکٹ" جیسے سخت قوانین موجود ہیں، ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی فوج ظفر موج بھی موجود ہے، صارفین کے تحفظ کے لیے کنزیومر کورٹس بھی قائم ہیں، لیکن افسوس کہ یہ سب صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔ مارکیٹ میں نہ تو کوئی چیک اینڈ بیلنس کا نظام ہے، نہ کوئی جانچ پڑتال ہے اور نہ ہی کسی کی گرفت کی جاتی ہے۔

انتظامیہ خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی ہے اور منافع خور مافیا عوام کا خون چوس رہا ہے۔ ​اگر حکومت واقعی عوام کو اس ذہنی اور معاشی اذیت سے نکالنا چاہتی ہے، تو اسے سب سے پہلے پٹرول کی قیمتوں میں عالمی مارکیٹ کے تناسب سے فوری اور بڑی کمی کرنا ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی ضلعی انتظامیہ کو دفاتر سے نکال کر مارکیٹوں میں لانا ہوگا تاکہ پٹرول سستا ہونے کا فائدہ عوام تک پہنچ سکے۔ جب تک گراں فروشوں کو بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں نہیں دی جائیں گی، تب تک عوام یونہی دونوں طرف سے پستی رہے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے اور عوام کو جینے کا حق دے۔

Check Also

Hero Ya Villain?

By Rauf Klasra