Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Manshiyat Ke Khatme Ke Liye Pak Bangladesh Ittefaq

Manshiyat Ke Khatme Ke Liye Pak Bangladesh Ittefaq

منشیات کے خاتمے کے لئے پاک بنگلہ دیش اتفاق

ہفتے کےروز اسلام آباد میں پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان منشیات کی روک تھام اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے ہونے والا حالیہ معاہدہ بلاشبہ ایک خوش آئند اور بروقت اقدام ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور بنگلادیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد کے درمیان ہونے والی ملاقات نہ صرف دونوں برادر اسلامی ممالک کے تعلقات میں بہتری کی عکاس ہے بلکہ اس امر کا بھی ثبوت ہے کہ خطے کے ممالک اب منشیات، دہشت گردی اور انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین مسائل کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت کو محسوس کر رہے ہیں۔

ملاقات کے دوران پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی نقل و حمل اور نشہ آور اشیاء کے استعمال کی روک تھام کے لیے تاریخی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ معاہدے پر پاکستان کی جانب سے محسن نقوی جبکہ بنگلادیش کی جانب سے صلاح الدین احمد نے دستخط کیے۔ مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ممالک منشیات کے نیٹ ورکس، غیر قانونی سپلائی لائنز اور اسمگلروں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنائیں گے جبکہ متعلقہ ادارے بروقت معلومات کا تبادلہ بھی کریں گے۔ اس کے ساتھ اہلکاروں کی تربیت، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور انسدادِ منشیات کے مؤثر طریقہ کار ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

دونوں وزارت داخلہ کے درمیان سیکریٹری سطح پر جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا جبکہ انسداد دہشت گردی، انسانی اسمگلنگ، سائبر کرائم، منظم جرائم اور مالیاتی فراڈ کے خلاف تعاون بڑھانے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بنگلادیشی ہم منصب کو سیف سٹی پراجیکٹ میں مکمل تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر ممکن تکنیکی اور تربیتی معاونت فراہم کرے گا۔ دونوں ممالک نے پولیس اکیڈمیوں میں افسران کی تربیت اور سول آرمڈ فورسز کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا جبکہ بنگلادیشی وزیر داخلہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی گئی۔

حقیقت یہ ہے کہ منشیات ایک ایسی لعنت اور ناسور ہے جو انسان کے دماغ، اعصاب اور پورے جسم کو آہستہ آہستہ تباہ کر دیتی ہے۔ یہ انسان کو وقتی نشے کی جھوٹی دنیا میں لے جا کر ہمیشہ کے لیے ناکارہ بنا دیتی ہے۔ ہماری نوجوان نسل کے لیے یہ ایک انتہائی زہرِ قاتل بن چکی ہے۔ منشیات میں بنیادی طور پر بھنگ، چرس، ہیروئن، افیون، کوکین اور شراب وغیرہ شامل ہیں اور ان میں سے ہر ایک انسانی جسم پر نہایت منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ نشہ آور اشیاء رفتہ رفتہ انسانی اعضاء کو مفلوج کر دیتی ہیں اور انسان کو جسمانی، ذہنی اور معاشرتی طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچا دیتی ہیں، جس کا آخری انجام اکثر موت ہی کی صورت میں نکلتا ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں منشیات کے استعمال اور اس کی خرید و فروخت پر مؤثر پابندی اور سخت قدغن دکھائی نہیں دیتی۔ بازاروں میں سرعام منشیات فروخت ہو رہی ہے اور مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہے۔ کئی مقامات پر تو یہ تاثر بھی عام ہے کہ اس دھندے کو بعض بااثر عناصر اور انتظامی سرپرستی بھی حاصل ہوتی ہے۔ نہ بیچنے والوں کو کسی قانون کا خوف ہے اور نہ خریدنے والوں کو کسی سزا کی پروا۔ نچلی سطح سے لے کر بالائی سطح تک اس مکروہ کاروبار سے وابستہ عناصر اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں جبکہ اس کا اصل نقصان ہماری نوجوان نسل اور پورے ملک کو اٹھانا پڑتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج ہماری نوجوان نسل اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بجائے مزید اس کی دلدل میں دھنستی چلی جا رہی ہے۔ منشیات کی ایسی آندھی چل پڑی ہے کہ بہت سے نوجوان دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو چکے ہیں۔ انہیں نہ گھر کی فکر رہتی ہے، نہ مستقبل کی اور نہ ہی اپنی صحت کی۔ یہ صورتحال نہ صرف خاندانوں کے لیے تباہ کن ہے بلکہ پورے وطن کے لیے بھی باعثِ تشویش اور نقصان ہے۔

اگر ہم دنیا کے دیگر ممالک پر نظر ڈالیں تو وہاں منشیات کے استعمال اور خرید و فروخت پر نہایت سخت قوانین نافذ ہیں۔ سعودی عرب اور دبئی جیسے ممالک ہمارے قریب ترین ممالک ہیں جہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد آتی جاتی رہتی ہے۔ وہاں منشیات فروخت کرنے والوں کے خلاف انتہائی سخت سزائیں دی جاتی ہیں اور اسی سختی کا نتیجہ ہے کہ ان ممالک میں منشیات سے پیدا ہونے والی بیماریوں، جرائم اور اموات کی شرح نہایت کم ہے۔ جب کسی ملک میں قانون بلاامتیاز نافذ ہو اور مجرم کو فوری سزا ملے تو معاشرے میں خود بخود خوف پیدا ہوتا ہے اور برائیاں کم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

اگر پاکستان بھی حقیقی معنوں میں اسی طرز پر سخت اقدامات کرے، جیسا کہ حالیہ معاہدے میں عزم ظاہر کیا گیا ہے اور سعودی عرب و دبئی کی طرح اس ناسور کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، تو وہ دن دور نہیں جب ہماری نوجوان نسل اس لعنت سے نجات حاصل کر سکے گی۔ اس حوالے سے کسی قسم کی رعایت، سفارش یا مصلحت پسندی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے کیونکہ منشیات صرف ایک فرد کو تباہ نہیں کرتیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کو برباد کر دیتی ہیں۔

بہت سے گھرانے اسی لعنت کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں۔ گھریلو ناچاقیاں، میاں بیوی کے جھگڑے، مالی پریشانیاں اور خاندانی ٹوٹ پھوٹ کی ایک بڑی وجہ منشیات کا استعمال بھی ہے۔ جب نوجوان نشے کے عادی ہو جاتے ہیں تو وہ محنت، روزگار اور گھر کی ذمہ داریوں سے دور بھاگنے لگتے ہیں۔ نتیجتاً گھر کا نظام تباہی کا شکار ہو جاتا ہے اور اہل خانہ ذہنی اذیت میں مبتلا رہتے ہیں۔

بنگلادیش کے ساتھ حالیہ معاہدہ یقیناً ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن صرف بین الاقوامی معاہدے کافی نہیں ہوں گے۔ پاکستان کو اندرونی سطح پر بھی منشیات فروشوں، اسمگلروں اور ان کے سرپرست عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنا ہوگی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مکمل اختیار، دیانت داری اور غیر جانبداری کے ساتھ اس ناسور کے خاتمے کے لیے میدان میں اترنا ہوگا۔ نوجوان نسل کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اگر حکومت، اخلاص اور سنجیدگی کے ساتھ اس لعنت کے خلاف کھڑی ہو جائے تو یقیناً پاکستان کو منشیات سے پاک، محفوظ اور صحت مند معاشرہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہماری نوجوان نسل کے روشن مستقبل اور ملک کی مضبوط بنیادوں کی ضمانت بن سکتا ہے۔

Check Also

Parhe Likhe Berozgaar Bache

By Rauf Klasra