Friday, 12 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Mansehra Chilas Motorway, Taraqi Aur Seyahat Ka Naya Baab

Mansehra Chilas Motorway, Taraqi Aur Seyahat Ka Naya Baab

مانسہرہ چلاس موٹر وے، ترقی اور سیاحت کا نیا باب

پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا خواب صرف بڑے شہروں کی تعمیر و ترقی سے پورا نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنا بھی ناگزیر ہے۔ جدید شاہراہیں، موٹر ویز اور مواصلاتی منصوبے کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کی بنیاد تصور کیے جاتے ہیں کیونکہ یہ نہ صرف لوگوں کے درمیان فاصلے کم کرتے ہیں بلکہ تجارت، سیاحت، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں وفاقی حکومت کی جانب سے مانسہرہ سے چلاس تک 172 کلومیٹر طویل موٹر وے منصوبے کی اصولی منظوری ایک نہایت اہم اور خوش آئند پیش رفت ہے جو مستقبل میں شمالی پاکستان کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

گزشتہ روزوفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے اجلاس میں اس منصوبے کی منظوری نے خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور ملک بھر کے عوام میں امید کی ایک نئی کرن روشن کی ہے۔ یہ منصوبہ صرف ایک شاہراہ کی تعمیر نہیں بلکہ شمالی پاکستان کی معاشی، تجارتی، سیاحتی اور سماجی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ منصوبے کے مطابق پہلے مرحلے میں مانسہرہ سے بابوسر ٹاپ تک موٹر وے تعمیر کی جائے گی جبکہ دوسرے مرحلے میں بابوسر ٹاپ سے چلاس تک جدید شاہراہ بنائی جائے گی۔ اس کے علاوہ تقریباً 13.5 کلومیٹر طویل بابوسر ٹنل بھی تعمیر کی جائے گی جو ملک کی طویل ترین سرنگ ہونے کا اعزاز حاصل کرے گی۔ اس سرنگ کی تعمیر سے نہ صرف سال بھر آمدورفت ممکن ہو سکے گی بلکہ برفباری اور خراب موسم کے دوران بھی سفری رابطے برقرار رہیں گے، جو شمالی علاقوں کے عوام کے لیے ایک بڑی سہولت ہوگی۔

پاکستان کے شمالی علاقے قدرتی حسن کے ایسے شاہکار ہیں جن کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ برف پوش پہاڑ، نیلی جھیلیں، سرسبز میدان، بلند آبشاریں اور بہتے دریا ان علاقوں کو جنت نظیر بناتے ہیں۔ کاغان، ناران، شوگران، سیری پائے، لولوسر جھیل، جالکھڈ، بٹہ کنڈی، لالہ زار، جھیل سیف الملوک، بابوسر ٹاپ، سکردو، استور، ہنزہ اورغزر جیسےخوبصورت مقامات ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ تاہم ان علاقوں تک رسائی ہمیشہ ایک بڑا مسئلہ رہی ہے۔ دشوار گزار پہاڑی راستے، خطرناک موڑ، لینڈ سلائیڈنگ اور طویل سفری اوقات اکثر سیاحوں کو سفر سے قبل کئی بار سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

یہی وہ رکاوٹیں ہیں جنہوں نے شمالی پاکستان کی بے پناہ سیاحتی صلاحیت کو پوری طرح اجاگر ہونے سے روکے رکھاہے۔ اگرچہ پاکستان کے شمالی علاقوں کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین خطوں میں ہوتا ہے، لیکن جدید سفری سہولیات کی کمی کی وجہ سے بین الاقوامی سیاحت کو وہ فروغ نہیں مل سکا جس کی یہ علاقے مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ مانسہرہ تا چلاس موٹر وے اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔

اس منصوبے کی تکمیل کے بعد سفر کا موجودہ فاصلہ تقریباً 120 کلومیٹر تک کم ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ اخراجات بھی کم ہوجائنگے۔ ایک ایسا سفر جو پہلے طویل، تھکا دینے والا اور بعض اوقات خطرناک سمجھا جاتا تھا، وہ نسبتاً آسان، محفوظ اور آرام دہ بن جائے گا۔ سیاحت کے شعبے میں اس منصوبے کے اثرات انتہائی مثبت اور دور رس ہو سکتے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنی قدرتی خوبصورتی کو جدید انفراسٹرکچر کے ساتھ جوڑ کر اربوں ڈالر کی سیاحتی صنعت قائم کی ہے۔ سوئٹزرلینڈ، آسٹریا، ترکی، ملائیشیا اور چین اس کی بہترین مثالیں ہیں جہاں جدید شاہراہیں دور دراز پہاڑی علاقوں تک آسان رسائی فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان بھی اگر اپنی قدرتی دولت کو جدید سفری سہولیات سے جوڑنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو سیاحت قومی معیشت کا ایک مضبوط ستون بن سکتی ہے۔

ضلع مانسہرہ کو بجا طور پر پاکستان کے خوبصورت ترین اضلاع میں شمار کیا جاتا ہے۔ کاغان ویلی کی دلکش وادیاں، شوگران کے سرسبز میدان، سیری پائے کی حسین چراگاہیں اور ناران کے قدرتی مناظر سیاحوں کے لیے کسی خواب سے کم نہیں۔ موٹر وے کی تعمیر ان علاقوں تک رسائی کو مزید بہتر بنائے گی، جس کے نتیجے میں ہوٹل انڈسٹری، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروباری سرگرمیوں کو نئی زندگی ملے گی۔۔ اس منصوبے کے ذریعے گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پیدا ہونے والی زرعی اور معدنی مصنوعات کو ملک کے دیگر حصوں تک پہنچانا زیادہ آسان ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں مقامی معیشت مضبوط ہوگی اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور چین کے درمیان ایک قدرتی تجارتی راہداری بناتی ہے۔ مانسہرہ تا چلاس موٹر وے مستقبل میں چین کے ساتھ تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر اس منصوبے کو وسیع علاقائی رابطہ کاری کی پالیسی کا حصہ بنایا جائے تو یہ پاکستان کے لیے معاشی مواقع کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان میں موٹر ویز اور جدید شاہراہوں کے تصور کو عملی شکل دینے میں مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ لاہور تا اسلام آباد موٹر وے سے لے کر ملک کے مختلف حصوں تک موٹر ویز کا نیٹ ورک ایسے منصوبوں کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر دیکھنا چاہیے کیونکہ ان کے فوائد پوری قوم کو حاصل ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ منصوبے کوصرف اعلانات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ شفافیت، معیار اور مقررہ مدت کے اندر تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔

شمالی پاکستان کی ترقی صرف سڑکوں کی تعمیر سے نہیں بلکہ ان سڑکوں کے ذریعے پیدا ہونے والے معاشی اور سماجی مواقع سے وابستہ ہے۔ جب دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو روزگار ملے گا، کاروبار ترقی کریں گے، سیاحت بڑھے گی اور سرمایہ کاری آئے گی تو اس کے مثبت اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔

مانسہرہ تا چلاس موٹر وے درحقیقت ایک شاہراہ سے بڑھ کر امید، ترقی اور خوشحالی کی علامت ہے۔ اگر یہ منصوبہ بروقت اور معیاری انداز میں مکمل ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان بلکہ پورے پاکستان کی معاشی ترقی، سیاحتی فروغ اور علاقائی رابطوں کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔ آنے والے برسوں میں یہ منصوبہ پاکستان کو عالمی سیاحتی اور تجارتی نقشے پر مزید نمایاں مقام دلانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی اہمیت ہے۔

Check Also

Ghoron Ke Dais Mein

By Arif Anis Malik