Khaleeji Kasheedgi Aur Ghair Yaqeeni Muzakrat
خلیجی کشیدگی اور غیر یقینی مذاکرات

خلیج میں چھائے جنگ کے بادل چھٹیں گے یا یہ تپش پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی یہ وہ سوال ہے جو اس وقت عالمی سفارتی ایوانوں میں گونج رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے مابین جاری طویل سرد جنگ اب ایک ایسے موڑ پر آن کھڑی ہوئی ہے جہاں ایک طرف مذاکرات کی میز سجانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تو دوسری طرف تضادات اور ابہام کی دھول اس قدر گہری ہے کہ کوئی بھی پائیدار امن کا دعویٰ کرنے سے قاصر ہے۔ اس پوری صورتحال میں پاکستان کا کردار ایک مرکزی پل کی مانند ابھرا ہے، مگر کیا اسلام آباد کی یہ جاندار کوششیں رنگ لائیں گی یہ اب بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی پہلی بیٹھک نے دنیا کو ایک امید دلائی تھی دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے سامنے اپنی شرائط رکھیں اور بظاہر ایسا محسوس ہوا کہ شاید سفارت کاری بندوق کی گولی پر غالب آ جائے گی لیکن اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ کبھی وائٹ ہاؤس سے یہ نوید آئی کہ صدر خود اسلام آباد تشریف لا رہے ہیں اور کبھی نمائندہ بھیجنے کی بات کی گئی۔ اس غیر یقینی صورتحال کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایرانی وفد تو پاکستان پہنچ گیا، مگر امریکی وفد کی عدم موجودگی نے مذاکرات کے دوسرے سیشن پر جمود طاری کر دیا۔ ایرانی ٹیم پاکستانی حکام سے مشاورت کے بعد روس روانہ ہوگئی تاکہ دیگر عالمی طاقتوں کو اعتماد میں لیا جا سکے، مگر امریکی صدر کے روز بدلتے بیانات نے مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں ایک ایسی دیوار کھڑی کر دی ہے جسے گرانا فی الحال ناممکن نظر آتا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایک اہم تبدیلی ایران کے موقف میں دیکھی گئی ہے۔ ایران نے "آبنائے ہرمز" کے محاصرے کے خاتمے کی سخت شرط سے دستبرداری کا اشارہ دے کر لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ ماہرین اسے ایران کی جانب سے مذاکرات کو بچانے کی ایک آخری کوشش قرار دے رہے ہیں۔ تاہم، واشنگٹن اس نرمی کو سنجیدہ لینے کے بجائے ایرانی قیادت کے بحران پر تنقید کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ ایرانی قیادت تقسیم ہو چکی ہے، مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عالمی برادری اب بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ تہران میں فیصلے کی اصل طاقت کس کے پاس ہے کیا یہ طاقت مجتبی خامنہ ای کے پاس ہے، پارلیمنٹ کے پاس یا پھر اصل مینڈیٹ پاسدارانِ انقلاب کے ہاتھ میں ہے امریکی انتظامیہ کا یہ موقف کہ وہ نہیں جانتے کس سے بات کرنی ہے، دراصل مذاکرات سے فرار کا ایک سفارتی بہانہ بھی ہو سکتا ہے۔
مذاکرات کے دعووں کے بیچ امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل پر پابندیوں کا نفاذ ایک ایسا اقدام ہے جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ واشنگٹن کے اس یکطرفہ فیصلے کو بیجنگ نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ چینی وزارتِ تجارت کا بیان کہ "ہم اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے منافی کسی بھی پابندی کو قبول نہیں کریں گے۔ چین نے نہ صرف خود ان پابندیوں کو ماننے سے انکار کیاہے بلکہ دیگر ممالک کو بھی پیغام دیا ہے کہ وہ اس امریکی دباؤ کو تسلیم نہ کریں پاکستان اس وقت ایک مشکل مگر ناگزیر کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی کوشش ہے کہ کسی طرح دونوں فریقین کو ایک میز پر بٹھا کر خطے کو بڑی تباہی سے بچایا جائے۔ اگر پاکستان اس میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا سہرا یقیناً پاکستانی سفارت کاری کے سر سجے گا، لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار امریکی سنجیدگی پر ہے۔
اس جنگ کا تسلسل صرف دو ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک معاشی ڈراؤنا خواب ہے۔ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی کے طوفان نے عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے۔ اگر یہ کشیدگی ختم نہیں ہوتی تو پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی رہیں گی اور عالمی معیشت سکتہ زدہ ہو جائے گی۔
اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس کا فیصلہ آنے والے چند دن کریں گے۔ کیا ٹرمپ اپنی غیر یقینی پالیسی سے ہٹ کر امن کو موقع دیں گے کیا ایران اپنی لچک برقرار رکھے گا دنیا کی نظریں اب بھی اسلام آباد پر لگی ہیں جہاں امن کی شمع جلانے کی کوششیں جاری ہیں۔

