Gilgit Baltistan Election: Marka Kon Sar Karega
گلگت بلتستان الیکشن: معرکہ کون سر کرے گا

گلگت بلتستان کے پُرفضا پہاڑ، برف پوش چوٹیاں اور خوبصورت وادیاں ایک بار پھر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن چکی ہیں۔ سات جون کو ہونے والے انتخابات نے پورے خطے میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ گلی محلوں، بازاروں، چوراہوں، ہوٹلوں اور عوامی بیٹھکوں میں آج کل صرف ایک ہی موضوعِ ہے کہ سات جون کوہونے والے انتخابات میں کامیابی کس جماعت کے حصے میں آئے گی اور گلگت بلتستان کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کس کے حق میں کریں گے۔
انتخابی میدان میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام بھرپور انداز میں موجود ہیں۔ ہر جماعت اپنی کامیابی کے دعوے کر رہی ہے اور عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے جلسوں، جلوسوں اور کارنر میٹنگز کا سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ انتخابی نتائج کے بارے میں ابھی کوئی حتمی رائے قائم کرنا ممکن نہیں، لیکن ایک بات واضح ہے کہ اس بار گلگت بلتستان کے عوام گزشتہ انتخابات کی نسبت زیادہ دلچسپی اور جوش و خروش کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کیپٹن صفدر انتخابی مہم کی قیادت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ مختلف اضلاع کا دورہ کر رہے ہیں اور اپنی تقاریر میں سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں خاص طور پر جمعیت علماء اسلام اور مولانا فضل الرحمن کو۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی انتخابی میدان میں سرگرم ہیں۔ ان کے جلسوں میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہو رہی ہے اور پارٹی قیادت اس امید کا اظہار کر رہی ہے کہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی پیپلز پارٹی نمایاں کامیابی حاصل کرے گی۔
ادھر جمعیت علماء اسلام بھی خاموش تماشائی نہیں اس نےبھی مکمل انٹری ڈالی ہے۔ اگرچہ انیس بیس اکیس مئی کو مولانا فضل الرحمٰن کا متوقع دورہ ملتوی ہوگیا، لیکن ان کی جماعت کے صوبائی امیر اور بھائی مولانا عطاء الرحمن مسلسل مختلف اضلاع میں عوامی رابطہ مہم چلا رہے ہیں۔ خاص طور پر حاجی رحمت خالق اور مفتی ولی الرحمٰن کے اجتماعات نے کئی حلقوں میں سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ مختلف سیاسی اور سماجی شخصیات کی جماعت میں شمولیت بھی جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں کے حوصلے بلند کر رہی ہے سوال یہ نہیں کہ کون سی جماعت کتنے بڑے جلسے کر رہی ہے بلکہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کا عام ووٹر کیا سوچ رہا ہے وہ اپنے ووٹ کا استعمال کن بنیادوں پر کرے گا کیا وہ ماضی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے وفاقی حکومت کے قریب سمجھی جانے والی جماعت کو منتخب کرے گا یا پھر اپنی مقامی ضروریات اور مسائل کو ترجیح دے گا۔
گلگت بلتستان کی سیاست میں ایک روایت طویل عرصے سے موجود رہی ہے کہ یہاں اکثر وہ جماعت کامیاب ہوتی ہے جو وفاق میں اقتدار میں ہو۔ عوام کی ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ وفاقی حکومت سے قربت ترقیاتی منصوبوں، روزگار کے مواقع، بنیادی سہولیات اور فنڈز کے حصول میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں بھی وفاقی سیاسی تبدیلیوں کے اثرات گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج پر نمایاں طور پر دیکھے گئے۔ مگر اس مرتبہ حالات کچھ مختلف نظر آ رہے ہیں۔ عوام صرف نعروں اور وعدوں پر اکتفا کرنے کے بجائے اپنی روزمرہ زندگی سے جڑے مسائل پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔
نوجوان روزگار چاہتے ہیں، طلبہ بہتر تعلیمی سہولیات کے خواہاں ہیں، تاجر معاشی استحکام کی امید رکھتے ہیں جبکہ دور دراز علاقوں کے مکین سڑکوں، بجلی، صحت اور مواصلات کی بہتر سہولیات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہی وہ عوامل ہیں جو انتخابی نتائج پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ اس انتخاب کی ایک اور اہم بات عوامی شرکت ہے۔
گزشتہ کئی ہفتوں سے مختلف جماعتوں کے جلسوں میں عوام کی بڑی تعداد کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیاسی شعور میں اضافہ ہو رہا ہے اور لوگ اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھنے لگے ہیں۔ یہی جمہوریت کا حسن بھی ہے کہ حتمی فیصلہ کسی رہنما، کسی جماعت یا کسی تجزیہ نگار کے ہاتھ میں نہیں بلکہ عوام کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ فی الوقت سیاسی منظرنامے میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علماء اسلام تینوں خود کو مضبوط پوزیشن میں سمجھ رہی ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف کو درپیش سیاسی مشکلات نے اس کے لیے انتخابی میدان نسبتاً دشوار بنا دیا ہے۔ تاہم سیاست میں آخری فیصلہ ہمیشہ بیلٹ بکس ہی کرتے ہیں اور کئی مرتبہ زمینی حقائق انتخابی جلسوں کے اندازوں سے مختلف ثابت ہوتے ہیں۔
سات جون کو گلگت بلتستان کے عوام اپنا فیصلہ سنائیں گے۔ وہ فیصلہ تعین کرے گا کہ آنے والے برسوں میں خطے کی سیاسی سمت کیا ہوگی۔ کیا عوام ایک بار پھر پرانی روایت برقرار رکھیں گے یا نئی سیاسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں گےاس سوال کا جواب فی الحال مشکل ہےالبتہ ایک بات یقینی ہے کہ آٹھ جون کی صبح طلوع ہونے والا سورج گلگت بلتستان کی سیاست کے ایک نئے باب کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

