Ghaflat Ki Qeemat
غفلت کی قیمت

بعض اوقات ایک لمحے کا غصہ، ایک معمولی لاپرواہی اور سڑک کنارے پڑا کچرے کا ایک ڈھیر مل کر ایسی جان لے لیتے ہیں، جس کا نقصان برسوں پورا نہیں ہوتا۔
آج صبح پیش آنے والا ایک واقعہ ہمارے معاشرے کی اسی تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک رکشہ سڑک پر رواں تھا کہ راستے میں اس کا ایک موٹر سائیکل سوار سے جھگڑا ہوگیا۔ بظاہر مکمل غلطی رکشہ ڈرائیور کی نہیں تھی، کیونکہ سڑک ون وے تھی جبکہ دوسری جانب راستہ بند پڑا تھا۔ اس بندش کی ایک بڑی وجہ سڑک کے کنارے جمع کچرے کا ڈھیر تھا، جس نے ٹریفک کی روانی متاثر کر رکھی تھی۔
مگر بحث کے بعد رکشہ ڈرائیور نے غصے میں آ کر رفتار تیز کر دی۔ شاید اسے احساس نہ تھا کہ اس کے غصے کی قیمت کسی بے گناہ جان کو چکانی پڑ سکتی ہے۔
رکشے میں ایک حاملہ خاتون موجود تھی، جس کے پیٹ میں چھ ماہ کا بچہ تھا۔ تیز رفتاری اور مسلسل جھٹکوں کی وجہ سے خاتون کی طبیعت بگڑ گئی۔ شدید درد کے بعد جب اسے ہسپتال منتقل کیا گیا تو معلوم ہوا کہ بچہ جان کی بازی ہار چکا ہے۔
یہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا، بلکہ ہماری اجتماعی غفلت کا ایک المناک نتیجہ تھا۔
غلطی صرف رکشہ ڈرائیور کی نہیں۔ اس میں ان لوگوں کا بھی حصہ ہے جو سڑکوں پر کچرا پھینکتے ہیں، ان اداروں کا بھی جو صفائی اور ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے میں ناکام رہتے ہیں اور شاید ہم سب کا بھی، جو روزانہ ایسے مسائل دیکھ کر خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔
ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ سڑک پر پھینکا گیا ایک تھیلا یا کچرے کا ایک چھوٹا ڈھیر کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ مگر یہی معمولی غفلتیں کبھی راستے بند کرتی ہیں، کبھی جھگڑوں کو جنم دیتی ہیں اور کبھی کسی ماں کی گود اجاڑ دیتی ہیں۔
آج ہم نے صرف ایک بچہ نہیں کھویا، بلکہ شاید ایک مستقبل کھو دیا۔ ممکن ہے وہ بچہ بڑا ہو کر ایک عظیم ڈاکٹر بنتا، ایک بہادر فوجی، ایک ایماندار سیاستدان یا معاشرے کے لیے فائدہ مند انسان ثابت ہوتا۔ مگر ہماری بے احتیاطیوں نے اسے دنیا میں آنے سے پہلے ہی ہم سے چھین لیا۔
مہذب معاشرے صرف بلند عمارتوں اور کشادہ سڑکوں سے نہیں بنتے، بلکہ احساسِ ذمہ داری سے بنتے ہیں۔ جب تک ہم صفائی، ٹریفک قوانین اور دوسروں کی جان کی اہمیت کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے، ایسے سانحات جنم لیتے رہیں گے۔
حادثات ہمیشہ قسمت نہیں ہوتے، بعض اوقات وہ ہماری اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

