Achai Ki Qeemat
اچھائی کی قیمت

آج کے دور میں انسان نے اپنی قدر و قیمت کو بھی ایک نمائش بنا دیا ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ لوگ اسے اہم سمجھیں، اس کی کمی محسوس کریں اور ہر محفل میں اس کی موجودگی کو لازمی جانیں۔ بعض لوگ یہ خیال اپنا لیتے ہیں کہ اگر وہ اپنی اہمیت خود ظاہر نہیں کریں گے تو دنیا انہیں بھول جائے گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی انسان کی اصل قیمت مسلسل اپنی اہمیت جتانے میں ہے؟
اوشو کا ایک جملہ بہت مشہور ہے کہ انسان خود اپنی قیمت کم کرتا ہے، کیونکہ وہ دوسروں کو اپنی کمی محسوس کرنے نہیں دیتا۔ بظاہر یہ بات درست محسوس ہوتی ہے، مگر اگر اس پر غور کیا جائے تو ایک دوسرا پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ اگر ہر انسان ہر وقت دوسروں کو یہ احساس دلانے لگے کہ میں ہی سب سے زیادہ قیمتی ہوں، تو پھر اس قیمت کی حقیقت باقی کیا رہ جائے گی؟
انسانی فطرت عجیب ہے۔ اگر کسی شخص کو ہر روز ایک ہی چیز کھانے کو دی جائے تو وہ آہستہ آہستہ اس سے اکتا جاتا ہے۔ اسی طرح وہ لوگ بھی انسان کو تھکا دیتے ہیں جو ہر لمحہ اپنی اہمیت جتاتے رہتے ہیں۔ محبت، خلوص اور اچھائی وہ چیزیں ہیں جو خاموشی میں زیادہ خوبصورت لگتی ہیں۔ انہیں بار بار زبان پر لانا ان کی تاثیر کو کم کر دیتا ہے۔
فرض کیجیے ایک شخص اپنے کسی بیمار عزیز کے علاج کے لیے مدد مانگنے جاتا ہے اور سامنے والا ہر لمحہ اسے یہ احساس دلاتا رہے کہ دیکھو، میں تمہارے لیے کتنا قیمتی ہوں، میں نہ ہوتا تو تم کچھ بھی نہ کر سکتے تھے۔ ایسی مدد انسان کے زخم پر مرہم رکھنے کے بجائے اس کی عزتِ نفس کو زخمی کر دیتی ہے۔ انسان خوشی اور غم دونوں میں محبت چاہتا ہے، احسان کا بوجھ نہیں۔
اسی طرح بعض اوقات انسان اپنی زندگی سے زیادہ اپنے دکھوں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ اسے صرف ایک ایسے دل کی تلاش ہوتی ہے جو اس کے درد کو سمجھے، نہ کہ اس کی کمزوری کو مزید بوجھ بنا دے۔
اصل عظمت خاموشی میں ہوتی ہے۔ سمندر کا پانی بے حد وسیع اور قیمتی ہے، مگر اس کا شور انسان کو اس سے دور رکھتا ہے۔ دوسری طرف سونا کم یاب اور قیمتی ہونے کے باوجود خاموش رہتا ہے، اسی لیے لوگ اسے ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ انسان بھی جب اپنی اچھائی کا شور مچاتا ہے تو اس کی قدر کم ہونے لگتی ہے اور جب وہ خاموشی سے لوگوں کے کام آتا ہے تو اس کی عزت دلوں میں خود بخود بن جاتی ہے
انسان کی اصل قدر اس میں نہیں کہ ہم خود کو بار بار منوائیں، بلکہ اس میں ہے کہ ہمارا وجود دوسروں کے لیے سہارا بنے، خاموشی سے، بنا کسی شور کے۔

