Sunday, 25 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Yasin
  4. Kya Khuda Ki Zaroorat Baqi Nahi Rahi?

Kya Khuda Ki Zaroorat Baqi Nahi Rahi?

کیا خدا کی ضرورت باقی نہیں رہی؟

سرسری طور پر دیکھا جائے تو انسان نے سائنسی ایجادات میں بہت ترقی کی ہے اور نئے نئے علوم بھی وجود میں لا چکا ہے۔ اس سے انسان بحثیت مجموعی یہ خیال کرنے لگ جاتا ہے کہ یہ جو کچھ بھی کیا ہے، سب کچھ انسان نے کیا ہے لہذا خدا کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ کیونکہ آج انسان جس طرح ترقی کی منازل طے کرکے اپنے آپ کو اور اس زمین کے علاؤہ باقی کائنات تسخیر کررہا ہے اس سے انسان ایک تکبر کی جگہ پر کھڑا ہوگیا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو آسمانی خدا، مذہب اور فلسفیانہ مباحث میں وقت ضائع کئے بغیر بس یہ سفر طے کرتے جانا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی ترقی، خوشحالی، صحت، تعلیم، تجارت، زراعت، ٹیکنالوجی اور دوسری چیزوں پر اپنا زور لگانا ہے۔ دیکھا جائے تو بات بلکل درست ہے۔ ایک غریب شخص کو مذہب اور فلسفیانہ بحثوں سے کیا غرض بلکہ اسے اپنے اور بچوں کے پیٹ کی بھوک مٹانا اولین ترجیح ہے۔

لیکن اس سارے پس منظر کے باوجود کیا انسان کو اس کائنات کے بنیادی سوالات کے جوابات مل گئے ہیں؟ معلوم انسانی تاریخ سے اب تک فلسفہ نے کچھ بنیادی سوالات اس کائنات کے بارے اٹھائے تھے۔ مثلاً مادہ، زمان، مکان اور اسی طرح مادہ کے اندر حیات اور پھر حیات میں شعور کا ظہور کیوں، کیسے اور کب آیا؟ دور جدید میں شاید ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے میں کوئی اہمیت نہ بھی ہو لیکن یہ سوالات اپنی جگہ موجود ہیں اور رہیں گے۔ جہاں تک بات یہ ہے کہ انسان نے مابعد الطبیعیات سے مابعد جدیدیت تک جو کچھ بھی کیا ہے وہ سب کا سب انسانی علم اور ترقی ہے اور اسی بات کا امکان ہے کہ مستقبل میں انسان ہی اس کائنات کو کنٹرول کر لے۔ یہ بات تو شاید کچھ انسانوں کو افسانہ لگے۔ لیکن انسان اسی امکان کے تحت اپنے سفر کو جاری رکھے ہوا ہے۔

دور جدید میں انسان نے وجود کی بحث سے ہٹ کر خود انسانی علم، ارتقاء، حیاتیاتی علوم، سائنس، تعلیم اور دوسری جانب مبذول کرلیا ہے۔ کیونکہ پرانے فلسفہ میں وجود کی بحثوں سے شاید حاصل کچھ نہیں ہوا اور ہیگل کے (Dialectical Process) کے بعد فلسفہ میں بریک سی لگ گئی اور اس وقت انسانی علم کا منبع و مرکز سائنس ہی ہے۔

یہی وہ موقع ہے جہاں سے انسان اس تکبر کا شکار ہے کہ کیونکہ انسان اس کائنات کی تسخیر کرتا چلا جارہا ہے۔ تو کسی خدا کی اصولی طور پر ضرورت نہیں۔ لیکن اگر دوبارہ انسان پیچھے مڑ کر دیکھے تو حقیقت میں انسان نے ایجادات سے کمالات نہیں دیکھائے بلکہ پہلے سے موجود سائنسی قوانین کو دریافت کیا ہے۔ کوئی عدم سے چیز تخلیق یا ایجاد نہیں کی۔ مثلاً پانی، ہوا، آگ، انرجی، مادہ اور دوسری چیزیں پہلے سے اس کائنات میں موجود تھی انسان نے صرف ان اجزا کو ترتیب دے کر راکٹ، جہاز، مشینیں ایجاد کیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ اگر انسان اس قابل ہوگیا ہے کہ وہ اس کائنات کو کنٹرول حاصل کرنے کی باتیں کررہا ہے، وہ اپنی اور کائنات کی تخلیق یا حقیقت کو آج تک دریافت نہیں کر پایا۔ ایک نظر سے دیکھا جائے تو انسان نے بہت کمالات دیکھائیں ہیں لیکن دوسری جانب فلسفہ کے بنیادی سوالات کے جوابات دینے سے قاصر ہے۔ وہ بنیادی سوالات وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔ یہی وہ صورت ہے کہ انسان اس دور جدید میں سائنسی ترقی کے باوجود اسی عاجزی کے مقام پر کھڑا ہے کہ یہ معامہ حل ہو۔

اب تک سائنسی ایجادات محض سائنسی دریافتیں ہی ہیں۔ نہ انسان اس کائنات کے بے رحم قوانین تبدیل کرسکتا ہے نہ وہ ان میں کوئی اضافہ۔ نہ انسان اپنے وجود کی تحلیل کرسکا نہ اس کائنات کی مطلق حقیقت کو دریافت۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے فلسفہ وجود میں آتا ہے۔ اگر محض قیاسات پر انحصار کیا جائے تو ایک لمبی فہرست ہے۔ اگر براہ راست استنباط کیا جائے تو کیونکہ انسان مخلوق ہے تو لازماً اس کا خالق ہونا چاہئے۔ ایک گروہ اسی کائنات کو خالق مانتا ہے دوسرا گروہ آسمانی خدا کوخالق مانتا ہے۔ انسانی تاریخ میں کوئی ایسی بستی، تہزیب یا قوم نہیں گزری جو کسی نہ کسی خالق کو نہ مانتی ہو۔ بلکہ ہر دور میں کسی نہ کسی خالق کا تصور موجود رہا ہے۔ تو پھر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ خدا کی ضرورت باقی نہیں رہی؟

Check Also

Kya Maryam Nawaz Ka Punjab Badle Ga?

By Muhammad Waqas